مجھے بہت گرمی لگ رہی تھی اب خوامخواہ تھنڈک محسوس کر رہا ہوں کیونکہ شام کو بارش ہونے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور گوگل بُز پر رمن جی نے خبر دی ہے کہ اب گوگل میں اُردو ٹرانسلیشن بھی ہے ـ
آپ ہمیں بھول گئے؟
بکواس چھاپنے ہم کسی سے کم نہیں کیونکہ ہم خدا ہیں اور اپنی 85 ویں قسط جھاڑنے آئے ہیں ـ
ارے بھئی، ہمارے خدا بننے کا کیا قصور؟ جب اتنے سارے خداؤں نے چانس مار لیا تو ہم کیوں نہیں؟ جب ہم چھوٹے تھے، سوچتے رہے تب سُجھائی نہ دیا تو سمجھ گئے کہ ہم خدا ہیں ـ من ہی من مُسکرا لئے کہ چلو خدا تو بن گئے ـ مگر فائدہ کیا؟ جیسا کہ خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہوچکی کہ اب کسی نئے خدا ہونے کا چانس ہی نہیں! ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
[ یہ خدا ہے ـ 85 ]
آج کی کہانی میری زبانی
اپنے جان پہچان والے یہی رائے دیں گے کہ پہلی فرصت میں شادی کرلو ـ حالات بھی کچھ ایسے ہیں کہ میری حالت کو دیکھ شادی شدہ بزرگان یہی رائے دیں ـ صبح گھر سے آفس کے لئے نکلا تھا جو کہ 25 کلو میٹر کا فاصلہ ہے، آفس کے قریب ہی پہنچا تھا کہ سامنے ایک بلڈزر کھڈا کھودتے جا رہا ہے جس کو روکنے والا کوئی نہیں اور ٹرافک کانسٹبلس گاڑیوں کو اپنے ہاتھ کے اشاروں سے دوسری طرف موڑ رہے تھے ـ جبکہ اب اپنا آفس صرف ایک منٹ دوری پر تھا، سامنے کھدائی کی وجہ سے (ویسے بنگلور شہر کھدائی کیلئے کافی مشہور ہے، پہلے ایئرٹیل، پھر بی ایس این ایل اور اُسکے بعد قطار میں ریلائنس، وُڈا فون، ایئرسل، آئیڈیا اور ٹاٹا وغیرہ) یہ سبھی کمپنیاں یہاں بنگلور شہر میں کھدائی کیلئے کافی مشہور ہیں ـ ایسا ہوا کہ ایک منٹ کا فاصلہ جو تھا، کافی دور تک سگنل سے دائیں پھر دائیں (کہیں سے بھی شاٹ کٹ نہیں) اپنی بائک کو موڑتے ہوئے اپنے ہی خیالوں میں ـ
کیا میری طرح دوسرے بھی خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں؟ سامنے منتری جی کی کاروں کا قافلہ تھا ـ ٹرافک انسپکٹر نے سبھی گاڑیوں کو روک کر منتری جی کے قافلے کو ہری جھنڈی کیا دکھائی کہ میں اپنے خیالوں میں کھو گیا جیسا کہ اکثر کھو جاتا ہوں ـ میں خود منتری، میرے لئے ٹرافک روک دی ہے، سبھی لوگ مجھے حیرت سے دیکھ رہے یا پھر دیکھنے کی تمنّا رکھتے ہیں ـ منتری جی کا قافلہ گذر گیا سگنل بھی کھل گیا، ہوش تب آیا جب پیچھے سے ہارن کی آوازیں آئیں اور ایک نے میرے منہ پر ہی بول دیا “اوئے، اپنی بائک آگے نکال، پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ ہیں کہ سگنل پر سو جاتے ہیں!!”
اپنی بائک تو آگے نکال دی، پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑی سی اور قیمتی کار میں جوان لڑکا اور خوبصورت لڑکی دنیا سے بے نیاز دندناتے ہوئے گذر رہے ہیں ـ پھر کیا تھا کہ پھر وہی اپنے خیالوں میں گُم ہوگیا ـ اُس جوان لڑکے کی جگہ میں آگیا اور یہ قیمتی گاڑی اور خوبصورت لڑکی دونوں میرے اپنے ہوگئے ـ ـ ـ ـ کچھ دیر بعد کچھ کچھ ہوش آنے لگا ـ وہی سڑک، وہی نظارے، وہی سائن بورڈس، وہی دکانیں ـ ـ ـ ـ ـ یہ کیا چکّر ہے؟؟ جب پوری طرح ہوش میں آچکا تو جناب واپس اپنے ہی گھر کی طرف جہاں سے نکلے تھے ـ
خود کو گالیاں دینا اچھی بات نہیں، ویسے اچھی اچھی گالیاں اچھی طرح جانتا ہوں ـ کرتا کیا نہ کرتا، پھر بائک کو گھُمایا، اور پورے 35 منٹوں بعد آفس پہنچا وہیں سے جہاں پر کھُدائی چل رہی تھی ـ دفتر پہنچا تو ایک مسلم خاتون حِنا جو ہمارے ہی دفتر میں کام کرتی ہیں ـ کرسی پر اپنی تشریف رکھا ہی تھا کہ پوچھ بیٹھی، شعیب کیا تم نے آج کا اخبار پڑھا؟ میں نے جواب دیا کہ میں اخبار پڑھتا نہیں صرف دیکھتا ہوں ـ پھر بولی کہ آج کا اخبار ضرور پڑھنا، دیوبند کے مفت خوروں (مفتی صاحبان) نے فتوی جاری کیا ہے کہ مسلم خواتین نوکری نہیں کرسکتیں اور تو اور عورت کی کمائی کو حرام قرار دیا ہے!!! میں نے حِنا سے کہا جب تم نے اخبار میں فتوی پڑھ لیا تو پھر کام پہ کیوں آئی؟ بس اتنی سی بات پہ وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھی جیسا کہ فتوی میں نے جاری کیا ہے ـ اور پھر ہم دونوں اپنے اپنے کام پہ لگ گئے ـ یہ رہی آج کی کہانی ـ
free counter