عربی گھروں میں خادمائیں اکثر فلپائن، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے ہوتی ہیں ـ ان لڑکیوں کو یہاں پہنچانے والے ایجنٹ صاحبان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بدصورت اور مونچھ والی یعنی مردانہ شباہت والی لڑکیوں کا سلیکشن کریں ـ
مگر ان لڑکیوں کو کیا معلوم، بن سنور کر ایجنٹوں سے ملتی ہیں کہ ہمیں دبئی میں خادمہ کی نوکری دلوادیں ـ اب یہ لڑکیاں پریشان کہ خوب میک اپ کے باوجود دوسری بدصورت لڑکیوں کو سلیکٹ کرلیا گیا ہے ـ ایجنٹ حضرات کو چاہئے کہ وہ ان بیچاریوں کو بتادیں دبئی میں ہاؤس میڈس کیلئے بدشکل لڑکیوں کا سلیکشن ہوتا ہے اور دوسرے کاموں کیلئے خوبصورت لڑکیوں کو چنا جاتا ہے ـ
عرب بیگمیں اپنے گھر بدشکل ملازمہ رکھتی ہیں تاکہ انکے شوہر، بچے اور آنے والے مہمان خادمہ کو بدشکل دیکھ کر نظر انداز کردیں ـ عربی فرشتہ نہیں کہ گھر کی ملازمہ کو کب تک نظر انداز کرے ـ یہاں ہاؤس میڈس کو بھی گھر کے مردوں کے علاوہ دوسرے کئی لوگوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ـ
مزید تین مہینوں تک تمام پوسٹوں میں ’موسم گرما‘ کا ذکر ضرور رہے گا ـ اس خون پسینے والے موسم میں یہاں اکثر لوگ شام کے وقت سمندر کنارے آجاتے ہیں ـ
ابوظبی، دبئی، شارجہ، عجمان، ام القیون، فجیرہ ـ ان تمام شہروں میں مختلف موڑ پر سمندر صاف دکھائی دیتا ہے ـ شارجہ میں مقیم ہماری بلڈنگ کے بالکل قریب سے ہی سمندر شروع ہوجاتا ہے ـ
اکثر بیچلرس دبئی میں ’جمیرا بیچ‘ جانا پسند کرتے ہیں، یہاں خوبصورت نظاروں کے علاوہ خوبصورت چہرے بھی دیکھنا نصیب ہوتا ہے ـ جمعہ کی شام ہم پورے آٹھ دوستوں نے ملکر جمیرا بیچ پر حملہ کردیا اور سورج غروب ہونے کے بعد بھی ہم پانی میں کھیلتے رہے، پانی سے باہر نکلیں تو پھر گرم مصیبت گلے لگالے گی، مگر واپس تو جانا ہی تھا اور گرمی نے پھر ہمیں دبوچ لیا ـ

سمندر کنارے خوب موج مستی ہوئی، منتظمین (دوستوں) نے کھانے پینے کا بندوبست کیا ـ ہنستے کھیلتے رات ایک بجے واپس گھر پہنچے ـ
میری گذشتہ پوسٹ پر دانیال اور اجمل صاحب کے اقتباسات کو پڑھ کر دِل نے چاہا مذہب اور سائنس کے متعلق چند سطریں اور لکھ دوں اور امید ہے میرا نام تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کی لِسٹ میں نہ آئے ـ میں خود انہیں پسند نہیں کرتا کیونکہ ان دونوں نے ایک خاص مذہب کی توہین کی تھی جبکہ میرے خیال میں انسانیت، بھائی چارہ، پیار، محبت امن اور دوستی یہی سب زندگی گذارنے کا صحیح طریقہ ہے ـ
کیا وجہ تھی کہ مذہب وجود میں آئے تھے؟ وہ کون ہیں جنہوں نے مذہب کی بنیاد رکھی، مذہب کے قانون و قاعدے بنائے؟ اس دور میں کوئی نیا مذہب وجود میں نہیں آتا؟ آج سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالیں؟ اس وقت موجود تمام مذاہب سینکڑوں سال قبل وجود میں آئے تھے مگر اب کیوں نہیں؟
مہذب لوگوں کی دعائیں ایک پتھر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں جبکہ انسان کا ہی بنایا ہوا ایک بم پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے ـ انسان بچپن سے مذہبی رسومات میں پلا بڑھا اور وہ اپنے مذہب کی ہر بات کو آنکھ بند کرکے یقین کرلیتا ہے اگر اپنے مذہب میں واہیات بھی ہیں تب بھی ـ قصے کہانیوں نے ہم انسانوں کو مختلف قوموں میں بانٹ دیا ـ شاید ہی کوئی بتاسکے اس وقت دنیا میں کتنے مذہب ہیں؟
ایک طرف دنیا کا قدرتی نظام اور دوسری طرف طاقتور حاکم ـ یہاں انسان حاکم بھی ہے اور محکوم بھی ـ ایک بادشاہ دوسرے ملک کے بادشاہ کو شکست دیکر اسکی حکومت پر قبضہ کرلیتا تھا ـ اور آج بھی وہی روایت ہے، طاقتور ملک کمزور ملکوں پر اپنا دبدبہ قائم رکھنا چاہتا ہے ـ عبادات اور دعاؤں سے جنگ جیتنا صرف قصے کہانیوں میں لکھا ہے ـ
عنقریب سائنسدان بتائیں گے کل صبح ٹھیک نو بجے فلاں جگہ زلزلہ ہوگا ـ مجھے یقین ہے مذہبی لوگ سائنسدان کو منحوس سمجھیں گے یا پھر اسے زلزلے سے ہوئی تباہیوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے کیونکہ بیچارے سائنسدان نے عوام کو زلزلے سے آگاہ کردیا ـ
چاند اور سورج کے درمیان زمین کا گردش کرنا کسی مذہب نے نہیں بلکہ سائنس نے دریافت کیا ہے ـ شکر ہے ان انسانوں کا جنہوں نے دنیا کو بتادیا کہ بارش کیسے برستا ہے، آسمان میں بجلیاں کیوں چمکتی ہیں، زلزلے کیوں ہوتے ہیں، چاند میں کیا ہے، سیاروں سے کیا فائدہ ہے وغیرہ ـ
مہذب لوگ سونامی کو خدا کا عذاب سمجھتے ہیں ـ سونامی سے لاکھوں اموات کا ذمہ دار کون ہے اور عراق میں ہلاک ہو رہے ہزاروں انسانوں کا ذمہ دار کون؟ قدرت کی مرضی دنیا میں جہاں چاہے عذاب نازل کردے مگر یہ کام تو امریکہ بھی کر رہا ہے ـ