موبائل کیمرا

تعجب ہے! مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے موبائل (Nokia 6230) کے کیمرے سے اتنی زبردست فوٹو بھی نکلے گی اور وہ بھی کار کے شیشے سے!
برڈ فلو
یہاں کے مرغی فروشوں نے آستین چڑھالیا جب حکومت نے اِن سے کہا کہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی مرغیوں کو ہلاک کر ڈالیں اور ایسا کرتے ہوئے ہاتھ کانپنے لگیں تو برائے مہربانی بلدیہ والے آئیں تو اپنی مرغیاں انکو عنایت کردینا ـ مرغی فروش یونین نے بھی ٹھان لی کہ مرغیوں کو ہلاک کرنا کونسی بڑی بات ہے پہلے حکومت کو چاہئے کہ ہمارا نقصان بھرے پھر دیکھے کہ انہی کے سامنے ہم مرغیوں کو ہلاک تو کیا ریزہ ریزہ کر ڈالیں گے ـ عربوں کی شامت آگئی جو روزانہ دو چار مرغیاں چبا لیتے تھے، اب کیا خاک کھائیں گے جو مرغوں میں ہی بیماری کو آنا تھا؟ ایک مزے کی بات ہے KFC والوں نے چالیس فیصد ڈسکاؤنٹ (رمضان آفر) جیسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنواکر لٹکا لئے ہیں ـ
رمضان فیسٹیول
امارات کے سات شہروں میں سالانہ مختلف فیسٹیولس منعقد ہوتے ہیں جسطرح دبئی میں عالمی شاپنگ فیسٹیول منایا جاتا ہے اور شارجہ ’’رمضان فیسٹیول‘‘ کو اپنا حق سمجھتا ہے ـ پچھلے کئی سالوں سے اِس رمضان میں بھی پورے شارجہ کو دلہن کی طرح سجایا ہوا ہے، تمام دکانیں اور شاپنگ مال وغیرہ صبح چار بجے تک کھلے رہتے ہیں ـ پارکوں اور کھلی جگہوں پر مختلف قسم کے ڈسکاؤنٹ اسٹال، بچوں کیلئے زبردست تفریحات کے علاوہ سمندر کنارے اور کورنیش پر شیشہ (حقّہ) کے اسٹال، کپڑوں اور چمچماتی چیزوں کے اسٹالس وغیرہ جیسے پورا شارجہ رات بھر جگمگاتا رہتا ہے ـ بحیرہ کورنیش پر لوگوں کا ہجوم امڈ آتا ہے یہاں روزانہ شام سات بجے کے بعد سرکاری خرچے سے بلدیہ والے آسمان کو قیمتی پٹاخوں سے روشن کرتے ہیں ـ شارجہ میں ہر طرف ٹریفک جام ہے اور اس مسئلے کا آج تک کوئی حل نہیں نکلا ـ
موسم بہار
دنیا کا کوئی بھی ملک امارات میں پڑنے والی گرمی کا مقابلہ نہیں کرسکتا سوائے چند افریقی ملکوں کے ـ یہاں لگاتار سات مہینے آگ اگلنے والی گرمی سے پچھلے ماہ واسطہ چھوٹا اور اب موسم بہار کی آمد ہے ـ ہر جانب ساحل سمندر سے لیکر تمام سڑکوں پر سرِ شام سے ہی انسانوں کے غول نظر آتے ہیں جو صرف دو ماہ پہلے باہر نکلنا جیسے عذاب تھا یہاں تک کہ درختوں کے سائے میں بھی گرم گرم بھانپ نکلتی ہے اور روزانہ شاور سے ابلتا ہوا پانی نہانا پڑتا تھا باہر تھوڑی دیر چہل قدمی کریں تو پسینے میں بھیگ جاتے تھے جیسے بارش میں بھیگے ہوئے ہوں ـ میرا تو یہ کہنا ہے کہ اگر کوئی انسان یہاں کی گرمی میں چند سال گذار لے تو اس پر دہکتی آگ بھی دیر سے اثر کرتی ہے ـ خیر اب آئندہ چند مہینوں تک ہر دن خوشگوار گذرے گا اور موسمِ گرما کو میری طرف سے سات سلام ـ
وزٹ ویزے
امارات کا یہی وہ خوشگوار موسم ہے اور یہ بات دنیا بھر کے لوگ جانتے بھی ہیں ـ نوکری کی تلاش میں ہند، پاک، فلپائن، چین، روس، ملائیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا اور یوروپی ممالک سے ہزاروں لوگ وزٹ ویزے (سیاحتی ویزا) پر آکر جاب تلاش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ چار پانچ مہینوں تک چلتا رہتا ہے ـ کئی خوش قسمتوں کو اعلی عہدوں اور اچھی سی تنخواہ پر پوسٹ ملجاتی ہے اور کئی ایسے قسمت کے مارے بھٹکے اعلی تعلیم یافتہ ہونے باوجود انہیں چھوٹے موٹے ریسٹورنٹس میں جھاڑو پونچھا لگانے کے کام پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ہزاروں روپئے خرچ کرکے، آنکھوں میں خواب سجائے اپنے گھر والوں سے بڑے بڑے وعدے کرکے آتے ہیں اسلئے شرمندگی سے بچنے کیلئے کوئی بھی چھوٹی موٹی نوکری انہیں قبول ہوتی ہے ـ واہ ری قسمت جنہیں کچھ نہیں آتا وہ یہاں آکر لاکھوں لوٹ لیجاتے ہیں ـ
کھانے وانے
ایسی بات نہیں کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے، بات دراصل یہ ہے کہ موسم خوشگوار ہوچکا ہے اب ریسٹورنٹس والے بلدیہ سے اجازت مانگ کر سڑکوں پر بھی اسٹال لگوا لئے اور یہ اسٹالس بھی آئندہ چار پانچ مہینوں تک خوب چلیں گے جب تک کہ موسم گرما آجائے ـ مختلف ملکوں کے مختلف شہروں سے نت نئے اور عجیب و غریب کھانے وانے پکائیں گے ہر کسی سڑک سے گذریں تو مست مست خوشبوئیں سونگھنے کو ملیں گی ـ یہاں اکثریت ہندوستانیوں کی ہے مگر اکثر کھانے کے اسٹال ملباریوں کے ہوتے ہیں اور ملباری کھانے انہیں کو مبارک ـ دوسرے اسٹالوں میں چینی، لبنانی، شامی، ایرانی، پاکستانی، مصری، عربی، روسی اور چند یوروپی اسٹال بھی لگے ہوئے ہیں ـ دنیا بھر کے مرغوب اور لذیذ کھانے اور وہ بھی ایک جگہ! واہ بھئی واہ ـ

تعجب ہے! مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے موبائل (Nokia 6230) کے کیمرے سے اتنی زبردست فوٹو بھی نکلے گی اور وہ بھی کار کے شیشے سے!
مغرب سے بے کار کی امیدیں

آسکر کیلئے “پہیلی” فلم کے انتخاب کے بعد ہی یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا یہی فلم سب سے بہترین ہے؟ اِسطرح کا ہنگامہ تقریبًا ہر سال پیدا ہوتا ہے ـ ایسا ہونا قدرتی بھی ہے اور ویسے بھی دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں ہندوستان میں ہی بنتی ہیں، نہ صرف ہندی زبان میں بلکہ دوسری زبانوں میں بھی ـ اب جب “پہیلی” کا انتخاب “آسکر” کیلئے ہو ہی گیا ہے تو مختلف قسم کے خیالات سامنے آ رہے ہیں، بالخصوص اِس لئے بھی کہ فلم کے ہدایتکار امول پالیکر کا کہنا ہے کہ وہ فلم کیلئے کیجانے والی لابنگ کو لیکر پریشان نہیں ہیں ـ ویسے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی وہ عامر خان اور آشوتوش گوریکر سے بھی ملاقات کریں گے ـ بھلے ہی امول پالیکر “آسکر” کیلئے کی جانے والی لابنگ کے سلسلے میں پریشان نہ ہونے کی بات کہہ رہے ہوں، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اِسکے تعلق سے وہ کچھ کریں گے ہی نہیں ـ اِن کے مطابق وہ فلم کے ہیرو اور پروڈیوسر کے ساتھ ملکر آگے کی حکمت عملی طے کریں گے ـ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ امول پالیکر اور شاہ رخ خان امریکہ جاکر اِسطرح کی لابنگ کرتے ہیں یا نہیں، جس طرح عامر خان اور اشوتوش گوریکر نے اپنی بے حد کامیاب فلم لگان کیلئے کی تھی ـ لیکن اِس سے بہرحال اب انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آسکر کے نامزد کی گئی فلم کیلئے لابنگ نہیں کرنی پڑتی ہے ـ یہ لابنگ اب اتنے بڑے پیمانے پر ہونے لگی ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں سے امریکہ میں یہ مطالبہ بڑھتا چلا جارہا ہے کہ انتخاب کے لئے کی جانے والی لابنگ کے بعد اگر کہیں تصحیح کی ضرورت ہے تو وہ “آسکر ایوارڈ” کے تعلق سے ہے ـ یہ مطالبہ اِس لئے بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ ہالی ووڈ کے فلم پروڈیوسرس ہر سال 6 کروڑ ڈالر اپنی اِن فلموں کی تشہیر میں بہا دیتے ہیں جو آسکر کے لئے نامزد ہوتی ہیں ـ آسکر کی لابنگ کا چلن اتنا بڑھ گیا ہے کہ لابنگ کے لئے غلط طریقوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے ـ 2001ء کے آسکر کیلئے جب ریاضی میں نوبل انعام یافتہ جان نیش کی حیات پر بنی فلم “اے بیوٹی فل مائنڈ” نامزد ہوئی اور اسے سب سے طاقتور دعویدار سمجھا جانے لگا تو اچانک “نیش” کی برائیاں اجاگر کی جانے لگیں ـ اُسوقت فلم کے ہدایت کار “ران ہاورڈ” نے کہا تھا کہ تشہیر کا یہ غلط طریقہ صرف اِن کی فلم کو آسکر جیتنے سے روکنے کیلئے کیا گیا تھا ـ
حقیقت جو بھی ہو، امریکہ میں یہ خیال عام ہوتا جارہا ہے کہ آسکر جیتنے کے لئے صرف ایک اچھی فلم بنانا ہی ضروری نہیں بلکہ اِس انعام کو حاصل کرنے کیلئے معمولی تشہیر کے علاوہ جیوری کے ارکان سے بھی رابطہ قائم کرنا پڑتا ہے ـ یہی نہیں وہاں کے اخباروں میں اپنی فلم کے تعلق سے خوبیاں بیان کرنے کیلئے اشتہارات بھی دینے پڑتے ہیں ـ حالانکہ تمام بیرون ممالک ہدایتکاروں کیلئے یہ سب کرپانا اتنا آسان نہیں ـ آسکر کیلئے اِسطرح کی لابنگ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی اپنی فلم کیلئے تشہیر نہ کریں تو شاید آسکر والے اِسکی فلم کو دیکھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کریں ـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کو ایسی جگہ اپنی فلم بھیجنے کیلئے بے تابی کا مظاہرہ کرنا چاہئے جہاں کی جیوری اسے صحیح ڈھنگ سے دیکھنے سمجھنے کا بھی وقت نہیں نکالتی؟ اگر آسکر جیوری بیرون ممالک فلموں کو صحیح ڈھنگ سے پرکھ اور سمجھ نہیں سکتی تو پھر اِن فلموں کے ہدایتکاروں، پروڈیوسروں کو امریکہ جاکر اور وہاں اِتنا زیادہ زر خرچ کرکے لابنگ کیوں کرتے ہیں؟ کچھ فلم پروڈیوسرس تو ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس امریکہ جاکر وہاں اپنی فلم کی تشہیر کرنے کیلئے بھی دولت نہیں ہوتی ـ یاد کیجئے کہ گذشتہ سال مراٹھی فلم “سواس” کے پروڈیوسر کو امریکہ میں اپنی فلم کی لابنگ کیلئے کس طرح سے چندہ جمع کرنا پڑا تھا؟ بڑی مشکل سے وہ اتنا روپیہ جمع کرپائے تھے کہ امریکہ جاکر اپنی فلم کی تشہیر کرپاتے ـ
“آسکر” اِن فلم ہدایتکاروں اور پروڈیوسروں کے لئے صحیح جگہ نہیں ہے جو مالی طور پر خستہ ہیں ـ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ آسکر ایک عزت و توقیر والا اعزاز ہے اور یہ انعام جیتنے والی فلم کے فلمساز، ہدایتکار، ہیرو وغیرہ پوری دنیا میں شہرت کے حامل بنتے ہیں، لیکن اِس میں بھی دورائے نہیں کہ یہ اعزاز بنیادی طور پر ہالی ووڈ یا یوروپ میں بننے والی فلموں کیلئے ہے بھلے ہی ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی فلمیں ہالی ووڈ میں بنی فلم کی نقل ہوتی ہوں، لیکن باوجود اِسکے اِن میں ہندوستانی تہذیب کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کی جھلگ بھی ہوتی ہے جو نظر آتی ہے ـ تہذیب کے معاملے میں ہندوستان اور مغرب میں اتنا فرق ہے کہ آسکر جیوری ہماری فلموں کو صحیح پس منظر میں سمجھ ہی نہیں سکتی ـ یہ تعجب نہیں ہے کہ اب تک ایک بھی ہندوستانی فلم “آسکر” حاصل نہیں کرپائی ـ اِس پر ملال یا افسوس والا انداز نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہم نے آج تک ہالی ووڈ کی فلموں کو اعزاز دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی ـ کیا کبھی ہالی ووڈ کے کسی ہدایتکار یا پروڈیوسر نے اِس بنیاد پر اپنی کوئی فلم “آئیفا”، “فلم فیئر” اور “زی” جیسے فنکشنوں میں بھیجنے کی کوشش کی کہ اِن کی فلم نے ہندوستان میں کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے؟ ہالی ووڈ بہت بہترین فلمیں بناتا، لیکن اپنے سماج کیلئے ـ آسکر بے حد عزت والا اعزاز ہے لیکن ہالی ووڈ اور یوروپ کی فلموں کیلئے ـ ہندوستانی فلموں کیلئے آسکر کسوٹی نہیں ہوسکتا ـ
ایک عدد انعام حاصل کرنے کے لالچ میں ہندوستانی پروڈیوسرس کی اِس ذہنیت کا نتیجہ ہے جس کے تحت ہم مغربی اصولوں کو کامیابی کی راہ سمجھ بیٹھے ہیں، بدقسمتی سے ہم نے تمام معاملات میں ایسا ہی رویہ اختیار کر رکھا ہے ـ مغرب کو جن ہندوستانی چیزوں کی سمجھ نہیں، اِن سے اچھے برے ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے ـ لیکن مغرب جب تک ہماری کسی چیز پر عظمت کی مہر نہیں لگاتا، تب تک ہمیں اِسکی عظمت پر شبہ رہتا ہے ـ یہ کہیں نہ کہیں ہماری کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بارہا ثابت ہوچکا ہے ـ ابھی کچھ عرصہ قبل امریکہ کے موقر جریدے “ٹائم” نے جب پٹنہ کے سابق ضلع افسر گوتم گوسوامی کو ایشین ہیرو قرار دیا تھا تو ہم ہندوستانیوں نے بھی بغیر کسی تحقیقات کے انہیں “ہیرو” تسلیم کرلیا، جو آجکل سلاخوں کے پیچھے ہے ـ
تحریر : راجیو سچان ـ روز نامہ انقلاب