چلتی کاروں میں ڈی ڈی نیوز
یکم جنوری 2006 سے دہلی، چنئی، ممبئی اور بنگلور کے لوگ چلتی کاروں میں ڈی ڈی نیوز دیکھ سکیں گے ـ اس کیلئے انہیں اپنی گاڑی پر ایک خصوصی انٹینا نصب کرنا ہوگا جو ڈیجیٹل ٹرانسمیشن کرسکے اور یہ 12 وولٹ کی DC بیٹری سے چلے گا ـ عام طور پر 50 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلہ میں 35 کلو میٹر کی رینج کے اندر اچھی تصویر نظر آئے گی ـ دور درشن فی الحال دہلی، چنئی، ممبئی، بنگلور اور کولکتہ سے DTTS کے ذریعہ ٹرانسمیشن چلاتا ہے ـ دور درشن کے پانچوں چینل DD نیوز، DD اسپورٹس، DD انڈیا کے علاوہ ریجنل سروس پرسار بھارتی نے اس زمینی ٹرانسمیشن DTTS کو موبائل Reception میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ـ فی الحال یہ صرف DD (دور درشن) نیوز کیلئے ہوگا ـ اب صرف چند ہی مہینوں کے اندر تمام موبائل صارفین بھی اپنے موبائل سیٹ پر دور درشن کے پانچوں ٹیلیویژن چینل دیکھ سکیں گے اور گذشتہ روز ہندوستان کا انساٹ 4A کو خلاء میں بھیجنا بھی اسی کی ایک کڑی میں شامل ہے البتہ یہ ابھی معلوم نہیں ہوسکا کہ اِن ٹیلیویژن چینلوں کو ریسیو کرنے کیلئے موبائل فون میں کسطرح کی خصوصیات ہونی چاہئیں ـ سروے میں دیکھا گیا ہے نیوز چینل کی تصویر اچھی آتی ہے تاہم فلک بوس عمارتوں کے نزدیک، تنگ گلیوں اور رش والے چوراہوں پر تصویر میں گڑبڑ ہوتی ہے ـ
کال سنٹر گرل (کال گرل)؟
کال (سنٹر) گرلز اور کال گرلز میں جبکہ نمایاں فرق ہے، کال گرل تو دھندے والی لڑکیوں کو کہا جاتا ہے جب کہ کال سنٹر گرل وہ لڑکیاں اور عورتیں ہیں جو رات کے اندھیرے میں BPO کمپنیوں کے کال سنٹرس میں کام کرتی ہیں اور یہاں کام کرنے والی عورتوں اور لڑکیوں کیلئے زیادہ تر رات ہی کی ڈیوٹی پر لیا جاتا ہے ـ
مشہور امریکی کمپنی Hewlett-Packard گلوبل اپلیکیشن سرویس ڈیسک نامی کمپنی کے کال سنٹر میں کام کرنے والی بیاہتا عورت کا قتل اِس عورت کو روزانہ دفتر پہنچانے والے وین ڈرائیور کے ہاتھوں ہوا تھا ـ چوبیس سالہ پرتیبھا شری کنٹ مورتی کا اغوا، عصمت دری اور پھر قتل کرنے والا قاتل کوئی اجنبی نہیں بلکہ اسے کام کی جگہ پہنچانے والا وین ڈرائیور ہے ـ اس بہیمانہ قتل کے بعد شہر بنگلور کے کال سنٹرس میں کام کرنیوالی لڑکیاں اور انکے والدین کافی پریشان دکھائی دے رہے ہیں اسکے علاوہ عام شہری بھی اس معاملہ پر شدید غصّے کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی کے دفتر کے سامنے پرزور احتجاج کیا کہ یہ شہر صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی یا ہائی ٹیک کمپنیوں اور کال سنٹر والوں کا نہیں بلکہ یہاں غریب اور درمیانی طبقے کے افراد بھی بستے ہیں ـ اِس قتل کی خبر کے بعد وزیراعلی دھرم سنگھ اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر سیال کو بھی میڈیا کے آگے جواب دینا پڑا، اِس قتل کی واردات سے نہ صرف بنگلور شہر میں بلکہ ریاست اور ملک بھر میں بھی اِس واقعہ کو اچھالا جا رہا ہے ـ شہر کی ہائی ٹیک کمپنیوں میں آدھی رات گئے وہی لڑکیاں کام کرتی ہیں جو مجبور ہوں یا ضرورت سے زیادہ آزاد خیال کی ہونگی یا پھر ہمّت والی لڑکیاں ـ میڈیا والوں نے اِس قتل کیلئے شہر کے پولیس کشمنر کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی ہے جو کہ بچکانہ ہے، پولیس کمشنر آدھی رات گئے ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنے ہر ایک کے گھر تک تو نہیں پہنچ سکتے؟
خفیہ کیمروں کا شہر
محکمہ پولیس نے پہلے صرف چند مخصوص علاقوں میں خفیہ کیمرے لگا رکھے تھے مگر گذشتہ ماہ سے شہر کے سبھی علاقوں میں خفیہ کیمرے لگانے کی مہم شروع ہوگئی ہے ـ ہمارے گھر کے قریب چوراہے پر بھی کیمرے نصب کر دیئے گئے ہیں، اب مجھے سر جھکاکر شریفوں کی طرح آنا جانا ہے ـ خیر، میں اتنا بھی زیادہ شریف نہیں پڑوس کے سبھی عمارتوں اور فلیٹوں میں خوبصورت پریاں رہتی ہیں ـ اسکے علاوہ شہر سے باہر نکلنے والے سبھی ہائی ویز پر راڈار بھی نصب ہیں جو حادثوں اور غلط طریقے سے ڈرائیو کرنے والوں پر نظر رکھیں گے ـ شہر بھر میں اسوقت تقریبا دیڑھ لاکھ انفارمیشن ٹیکنالوجیز کی کمپنیاں فعال ہیں اور انکی تعداد دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی کمپنیاں بھی ہیں ـ شہر پر بھر پور نظر رکھنے کیلئے محکمہ پولیس نے اِن خفیہ کیمروں کی مہم لگا رکھی ہے ـ
سوریہ کاریں
یعنی سورج کی شعاعوں سے چلنے والی کاریں آجکل یہاں گلیوں میں گھوم رہی ہیں اور اکثر اسکول کالج کی طالبات میں پہلی خواہش یہی وہ کار ہے چونکہ یہ ایک ہلکی پھلکی اور آٹومیٹک گیئر والی ٹو سیٹر کار ہے ـ چند سال قبل اِس کار کو شہر کی رامیّا کالج کے طالبعلموں نے تیار کیا تھا جو سورج کی شعاعوں سے دوڑتی ہے علاوہ اس میں موجود طاقتور بیٹری کو ایک بار چارج کرلینے سے دو دنوں تک آرام سے بھاگتی ہے اور اسکی قیمت بھی بہت کم ہے ـ گھروں سے شکایت ہے کہ پیٹرول کی بچت تو ہوگئی مگر بجلی کا بل سر چڑھ کر بول رہا ہے ـ
گوگل بنگلور ـ روز گار کے مواقع
چند سال قبل گوگل والوں نے گوگل انڈیا کے نام سے دو دفاتر ایک حیدرآباد دوسرا بنگلور میں قائم کیا تھا اب چونکہ بنگلور میں گوگل کا دفتر کچھ زیادہ ہی فعال ہوچکا ہے فی الحال یہاں بنگلور آئی ٹی میں جاب کے متلاشیوں کیلئے سنہری مواقع دستیاب ہیں اور گوگل کی جاب سائٹ پر بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے ـ
ٹیلیویژن چینلوں کی بھرمار
اسوقت گھر کے کیبل سے ریسیو ہونے والے ٹیلیویژن چینلوں کی تعداد تقریبا آٹھ سو سے تجاوز کرگئی ہے اور اِن میں چار سو سے زیادہ صرف ہندوستانی چینل ہیں ـ سب سے زیادہ چینل مقامی زبانوں میں ہیں اور صرف ہماری ریاست کی سرکاری زبان کنڑ میں تقریبا پچاس ٹیلیویژن چینل نشر ہو رہے ہیں ـ ہندوستان کا سب سے بڑا براڈ کاسٹنگ گروپ Zee نیٹورک کے چینلوں کی تعداد پچاس سے تجاوز کرگئی ہے علاوہ STAR گروپ والوں کے بھی تقریبا چالیس چینل ملک بھر میں نشر ہو رہے ہیں اور حیدرآباد کے رامو جی راؤ کے E-TV گروپ نے بھی اپنی نشریات تقریبا سبھی ہندوستانی زبانوں میں کردی ہے اسوقت انکے ٹی وی چینلوں کی تعداد تقریبا 35 ہوچکی ہے ـ SAHARA گروپ نے بھی اپنے چینلوں کی تعداد پندرہ سے بڑھا دی ـ اب تو وباء ایسی پھیل ہوچکی ہیکہ ہر کوئی سیاستدان اور بڑا بزنس مین اپنا ذاتی چینل براڈ کاسٹ کرنا چاہتا ہے ـ اِن تمام ہندوستانی ٹیلیویژن چینلوں کے علاوہ بیرون ممالک کے چینلس جیسے بی بی سی انڈیا، سی این این انڈیا، فیشن ٹی وی انڈیا، سی این بی سی انڈیا، نیشنل جیوگرافک انڈیا، ڈسکوری انڈیا، ایم ٹی وی انڈیا، چینل [وی] انڈیا، HBO انڈیا، AXN انڈیا، Halmark انڈیا ــــ اِن ہی جیسے اور بھی سینکڑوں چینل نشر ہو رہے ہیں ـ
ملک کو جلد سے جلد ترقی یافتہ بنانے کا منصوبہ
صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے سرکردہ صنعت کاروں سے کہا کہ مستقبل کی معیشت اور سماج کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے وہ اختراعی لیڈر بنیں اور راست بیرونی سرمایہ کاری کی آمد و رفت پر زور، انفارمیشن و مواصلاتی ٹیکنالوجی کو دیہی علاقوں تک پہنچانے، توانائی سیکوریٹی جامع پروگرام کے ساتھ زرعی شعبہ کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے ترقی کے ایک مکمل ماڈل کے خد و خال پیش کئے ـ ہندوستان کے صدر مسٹر عبدالکلام کے ترقیاتی منصوبے کا مقصد سال 2020 تک ہندوستان کو ایک مکمل ترقی یافتہ ملک بنانا ہے ـ
ہندوستانی ثقافتی مراکز کا قیام
ٹوکیو میں ہندوستانی ثقافتی مرکز (انڈین کلچرل سنٹر) کے کارکرد ہونے کے بعد اب وزارت خارجہ کو ایسے مراکز کے قیام کیلئے کم از کم سات تجاویز موصول ہوئی ہیں جن میں واشنگٹن، بیجنگ، وارسا (پولینڈ) اور تہران شامل ہیں ـ مملکتی وزیر خارجہ راؤ اندرجیت سنگھ نے ایک تحریری جواب میں لوک سبھا کو بتایا کہ ٹوکیو میں جاریہ ماہ کے پہلے ہفتے سے انڈین کلچرل سنٹر فعال ہوگیا ہے، دیگر تجاویز زیر غور ہیں ـ انڈین کونسل برائے ثقافتی تعلقات کو کھٹمنڈو، بنکاک اور کابل میں بھی کلچرل سنٹرس کے قیام کیلئے درخواستیں موصول ہوئی ہیں ـ کونسل نے جنوب مشرقی ایشیاء میں جکارتہ، بالی اور کوالالمپور کے علاوہ لاطینی امریکی علاقوں گیانا، سورینام، ٹرینی داڈ اور ٹوباگو میں بھی ہندوستانی ثقافتی مراکز کا قیام عمل میں لایا ہے ـ راؤ اندرجیت نے کہا کہ کونسل نے ماریشیس اور فیجی، جہاں قابل لحاظ تعداد میں ہندوستانی برادری کے لوگ رہتے ہیں، ایسے ہی ثقافتی مراکز کا قیام عمل میں لایا ہے ـ
’’الفرقان الحق‘‘ ـ حکومتِ ہند نے پابندی لگادی
الفرقان الحق نامی کتاب جس کے بارے میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ نئی ملینئیم کا قرآن ہے، ہندوستان نے پابندی لگادی ہے ـ بتایا جا رہا ہے کہ اِس کتاب کی پبلش کرنے والے عیسائیوں کا ایک بڑا طبقہ ہے جو صہونیت سے بہت ہمدردی رکھتا ہے اور امریکہ کے برسرِ اقتدار طبقے کے افراد اسی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ـ اِس کتاب نے اسلامی حلقوں میں زبردست بے چینی پیدا کر رکھی ہے ـ گذشتہ ہفتے حکومت ہند نے پارلیمنٹ میں کسٹمس کا ایک نوٹیفکیشن پیش کیا جس میں ممبران پارلیمنٹ کو اِس کتاب پر پابندی لگنے سے متعلق آگاہ کیا ـ اور اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر متنازعہ کتاب (الفرقان الحق) پر پابندی لگائی جا رہی ہے ـ اس کتاب میں موجود کسی بھی حصے کی پرنٹنگ اور پبلیشنگ کو ہندوستان کے دائرے میں ممنوع قرار دیا گیا ہے ـ حکومت ہند نے اِس متنازعہ کتاب پر پابندی تو لگادی مگر کوئی بھی شخص انٹرنیٹ پر اسے آسانی سے پڑھ سکتا ہے؟
دنیا کا سب سے سستا پیغام
فی الحال ہندوستان کو یہ مقام حاصل ہے کہ موبائل فون کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغامات sms کے چارجس مفت ہونے کے برابر ہیں یعنی کہ صرف ایک پیسہ؟ یہ اسکیم سب سے پہلے ٹاٹا موبائل کمپنی نے شروع کی تھی پھر بعد میں دوسری کمپنیوں نے بھی اپنے صارفین کیلئے ایک اسکیم کے تحت نئے سال کے موقع پر موبائل کالس کے چارجس نصف سے بھی کم کردی گئیں ہیں ـ اسوقت ہندوستان میں موبائل سروسز کی تقریبا بیس / بائیس کمپنیاں فعال ہیں جن میں سب سے آگے VSNL، Tata Nova، Hutch، Airtel، اسپیس، اورینج، BPL وغیرہ شامل ہیں ـ اب ایک لمبا سا پیغام لکھ کر چند سکینڈس میں دنیا کے کسی بھی کونے تک بھیجا جاسکتا ہے ـ
موبائل فون پر گندی فلمیں
دہلی اور ممبئی کے بعد اب ہمارے شہر بنگلور میں بھی پولیس نے جال بچھا کر ایک گروہ کو گرفتار کرلیا جو کالج کے لڑکوں کو انکے موبائل پر MMS کے ذریعے Blue فلموں کے ویڈیو کِلپس فروخت کرتے ہیں ـ چند سال قبل شہر میں سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے محکمہ پولیس نے ایک ضابطہ قانون بنایا تھا ساتھ ہی سائبر مجرموں پر نظر رکھنے اور انہیں پکڑنے کیلئے ایک باقاعدہ ٹیم بھی تشکیل دی تھی جسکی وجہ سے آج شہر میں انٹرنیٹ جرائم قدرے کم ہوگئیں مگر یہ کیا؟ اب تو موبائل سے جرائم اور وہ بھی گندی فلموں کی خرید و فروخت شروع ہوگئی ـ اب اسکے لئے بھی حکومت ایک نیا قانون لاگو کرنے والی ہے، پولیس کرائم برانچس میں جدید کمپیوٹر سافٹویئرس کے ذریعے شہر بھر میں استعمال ہونے والے موبائل فونس انکے جدید ٹیکنالوجی آلات Bluetooth اور انفراریڈر کے علاوہ ایم ایم ایس messages پر بھی نظر رکھیں گے ـ پولیس نے اپنی اِس انوکھی کارروائی میں جن موبائل فونس کو اپنے قبضے میں لیا ہے، فی موبائل تقریبا پندرہ بیس Blue فلموں کی ویڈیو کلپس کے علاوہ بہت ساری ننگی تصویریں بھی پائی گئیں ـ
میں بھی دیکھ رہا ہوں کہ آج یہاں بچہ بچہ اپنے موبائل سیٹ کیلئے زیادہ اسپیس والے 526MB اور 1GB والے Multimedia Card کیوں خرید رہے ہیں؟ یہ تو اچھا ہوا کہ یہاں آنے سے پہلے وہیں دبئی میں اپنے موبائل سے سارے گندے ویڈیوز ڈیلیٹ کردیئے
بلاگ کا تعارف
اِس بلاگ کو صرف وقت گذاری کیلئے استعمال کرنا چاہتا تھا مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بلاگ کا میرے ساتھ برسوں پرانا رشتہ ہے اور شاید تاحیات رہے گا ـ اردو میں بلاگنگ اسلئے کہ یہ میری مادری زبان ہے، اردو ٹائپنگ ایسے ہی شوقیہ سیکھ لیا ـ اردو اخبارات اور بچوں کی کہانیاں پڑھتے ہوئے اردو تلفظ میں کافی بہتری آئی اور اب اردو میں بلاگ لکھنے کے قابل بن گیا ـ مجھے افسانے، ناول اور شعر و شاعری کا بالکل شوق نہیں ـ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اردو کی ترویج میں کچھ نہ کچھ کرتا رہوں، تقریبا پانچ سال پہلے ہی اردو کے مختلف فونٹس بناکر کمپیوٹر پر گھما پھراتا رہا مگر اب یونیکوڈ کے آگے میرے بنائے ہوئے نستعلیق فونٹس ناکارہ لگنے لگے ـ فی الحال اِس بلاگ کو اپنے صحیح مقصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے بہت مزہ آ رہا ہے ـ
آج سے دو سال پہلے بلاگ کے بارے میں پتہ چلا پھر بلاگر پر اپنا بلاگ بنایا انگریزی میں کچھ بھی لطیفے کہانیاں وغیرہ لکھتا رہا ـ انٹرنیٹ پر تلاش کرتے ہوئے اردو بلاگنگ کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں، زکریا اجمل کے بلاگ پر اردو بلاگنگ کے متعلق ٹیوٹوریل پڑھ کر مجھ میں بھی اردو بلاگ بنانے کا شوق آیا ـ مجھے یاد ہے اسوقت اردو میں بلاگ کرنے والے صرف چار یا پانچ لوگ تھے، اردو بلاگرز میں شاید چھٹواں نمبر میرا ہی ہے ـ آج تقریبا دو درجن سے زیادہ اردو کے بلاگز دیکھنے کو ملتے ہیں، امید ہے اردو میں بلاگنگ کی آسانی کو دیکھتے ہوئے آئندہ سالوں میں اردو بلاگرز کی تعداد سینکڑوں میں ہوگی ـ
عمیر سلام، زکریا، دانیال اور آصف ـ مجھے یاد ہے سب سے پہلے صرف اِن چاروں کے بلاگز پر اردو یونیکوڈ نظر آتا تھا ـ میں زکریا اور دانیال کا شکر گذار ہوں کہ اِن کے ٹیوٹوریلس اور بلاگ کے سورس فائلوں کو پڑھ کر اردو میں بلاگ کرنا سیکھا ـ اگر میں اپنے خیالات کو انگریزی میں لکھ کر پوسٹ کرتا تو اپنے ہی جان پہچان اور خاندان والوں میں (کچھ زیادہ ہی) مشہور ہوجاتا جو صبح و شام آن لائن بیٹھے رہتے ہیں، شکر ہے ان سب لوگوں کو اردو نہیں آتی سوائے میرے والدین کے ـ اردو میں بلاگ کرتے ہوئے تقریبا دیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصہ گذر چکا ہے مگر اِس بلاگ کو شروع کئے دو سال مکمل ہوگئے جسکی وجہ سے میرے بلاگ کی یہ دوسری سالگرہ ہے ـ اور میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ پہلا ہندوستانی اردو بلاگر میں ہی ہوں ـ
