Archive for June, 2006

25
Jun

اِن سے ملو ـ 18

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

یہ خدا ہے

آج پھر عراق میں چالیس انسانوں کے سر کاٹ دیئے جس پر خدا نے شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکہ سے فرمایا: اچھا کیا عراقیوں کو آپس میں لڑوا دیا ورنہ کب تک خدا اپنا عذاب خرچ کرے!؟ ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

18
Jun

امّی، بھوک لگی ہے ـ ـ ـ

   Posted by: admin    in خیالی خیالی

یہ کلمہ سنتے ہی ماں کی ممتا تڑپ اٹھتی ہے، وہ اپنا آرام چھوڑ کر کچن کیطرف دوڑتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ جلد سے جلد اُسکے لال کیلئے کھانے کا بندوبست کرے ـ محنت مزدوری کرنے سے چند روپئے ملتے ہیں جس سے ہم اپنی بھوک مٹاتے ہیں مگر ماں کو اُسکے بچوں کی بھوک دیکھی نہیں جاتی اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے تک وہ چین سے نہیں بیٹھتی ـ

یہاں پردیس میں ماں بہت یاد آتی ہے ـ بخار میں زبردستی ہمارے منہ میں دوائی ٹھونستی ہے، بارش میں بھیگو تو ڈانٹتی پھر تولیہ سے ہمارا سر پونچھتی ہے، اسکول سے گھر واپسی پر دیر ہوجائے تو دروازے پر پریشان کھڑی رہتی ہے، آدھی رات کو اٹھ کر ہماری کمبل سیدھی کرتی ہے، صبح سویرے پیار سے جگانا ضد کرو تو کمبل کھینچ لینا، جلدی جلدی ناشتہ بنائے پھر پلٹ کر باتھ روم میں ہماری پیٹھ پر صابن بھی ملدے، ناشتے میں مستی کرو تو ہمارے گال نوچتی ہے کان کھینچتی ہے پھر ہمارے بالوں پر کنگھا بھی کرتی ہے، بخار اور بیماری میں پوری رات ہمارے سرہانے بیٹھ جاتی ہے تھنڈ لگے تو اپنی چادر بھی دیدے، غصّے میں جس گال پر تھپڑ مارے بعد میں پھر اُسی گال کو چومتی ہے، زیادہ دیر تک جاگیں تو کھینچتے ہوئے ہمارے بستر پر لاکر سلاتی ہے ـ برے کام پر ڈانٹنا اور اچھے کام پر شاباشی دینا، پیار سے ہمارے سر پر ہاتھ پھیرنا، باہر سے گندگی لیکر آؤ تو ہمارے بال کھینچتے ہوئے باتھ روم لیکر جانا، اسکول کے ھوم ورک میں ہماری مدد کرنا، بغیر کھائے سوجائیں تو زبردستی جگاکر ہمیں کھانا کھلانا ـ

اِس کے باوجود اسکول سے واپس آتے ہی کتابوں کا بستہ ایک طرف پھینک صوفے پر پیر پھسارے بیٹھ کر زور سے چلّاتے ہیں ’’امّی بھوک لگی ہے جلدی سے کھانا دو‘‘ اور ماں اپنا سکون چھوڑ کر دوڑی چلی آتی ہے بھلے وہ بیمار ہو ’’ہاتھ منہ دھولے بیٹا ابھی کھانا لگاتی ہوں‘‘ ـ ـ ـ کہتے ہیں ماں خدا کا روپ ہے اور میں کہوں ماں تو خدا ہے ـ

9
Jun

اِن سے ملو ـ 17

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

یہ خدا ہے

عرصہ بعد خدا کو خیال جاگا، کسی زمانے میں اُسے بھی کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا ـ چند دنوں سے امریکہ شک کرتا آ رہا ہے کہ دھیرے دھیرے خدا کا دماغ ایشیا اور یوروپ کی طرف گھوم رہا ہے ـ خدا کو سمجھایا بھی تھا کرکٹ جیسے غریب کھیلوں پر اپنا دماغ نہ گھمائیں، برائے مہربانی اپنی خدائیت پر لوٹ آئیں اور فیفا 2006 پر توجہ دیں ـ کسی گمنام نے خدا کے نام خط بھیجا: بکواس بند کریں اگر اپنے آپ کو واقع خدا سمجھتے ہیں تو عراق میں امن قائم کرکے دکھائیں ـ خط پڑھ کر خدا کی ہنسی نکل پڑی اور جواب لکھ بھیجا: ہم تو صرف خدا ہیں نہ کہ امن کے پیامبر، عراق میں امن بحال کرنے کیلئے امریکہ زندہ ہے جس سے بہتر دوسرا کوئی نہیں ـ وہاں عدالت میں کھڑے صدّام غرائے، آخر وہ بھی فٹبال کھیلوں کے جنونی ہیں ـ خدا نے صدام کو تسلّی دی، امریکہ نے آپکو زندہ رکھا وہی ایک بڑی نعمت ہے ـ موقعہ غنیمت امریکہ نے خدا سے دریافت کرنا چاہا آیا اِس بار فٹبال ورلڈ کپ، کونسے ملک کی جیت ہوگی؟ خدا نے اپنی پاک سادگی سے جواب دیا: جیت اُسی کی ہوگی جو اچھا کھیلے گا ـ زرقاوی کی موت پر آج چوتھے دن بھی امریکہ میں خوشیاں منائی جا رہی تھیں جس میں خدا کے علاوہ اُنکے عزیز و اقارب بھی شریک رہے ـ اِس بار ایرانیوں نے قبلہ بدلکر سجدہ کیا جس کا رُخ سیدھا جرمنی کیطرف تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں اِنہیں کچھ ملنے والا نہیں ـ امریکہ کا جھوٹا منہ دیکھ کر خدا نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا: میری عزت اور جلال کی قسم! کھیل کو کھیل سمجھ کر کھیلیں، بھلے کسی بھی ملک کی جیت ہو وہ امریکہ کی جیت ہے، اور امریکہ کی جیت خدا کی جیت ہے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی