امّی، بھوک لگی ہے ـ ـ ـ
یہ کلمہ سنتے ہی ماں کی ممتا تڑپ اٹھتی ہے، وہ اپنا آرام چھوڑ کر کچن کیطرف دوڑتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ جلد سے جلد اُسکے لال کیلئے کھانے کا بندوبست کرے ـ محنت مزدوری کرنے سے چند روپئے ملتے ہیں جس سے ہم اپنی بھوک مٹاتے ہیں مگر ماں کو اُسکے بچوں کی بھوک دیکھی نہیں جاتی اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے تک وہ چین سے نہیں بیٹھتی ـ
یہاں پردیس میں ماں بہت یاد آتی ہے ـ بخار میں زبردستی ہمارے منہ میں دوائی ٹھونستی ہے، بارش میں بھیگو تو ڈانٹتی پھر تولیہ سے ہمارا سر پونچھتی ہے، اسکول سے گھر واپسی پر دیر ہوجائے تو دروازے پر پریشان کھڑی رہتی ہے، آدھی رات کو اٹھ کر ہماری کمبل سیدھی کرتی ہے، صبح سویرے پیار سے جگانا ضد کرو تو کمبل کھینچ لینا، جلدی جلدی ناشتہ بنائے پھر پلٹ کر باتھ روم میں ہماری پیٹھ پر صابن بھی ملدے، ناشتے میں مستی کرو تو ہمارے گال نوچتی ہے کان کھینچتی ہے پھر ہمارے بالوں پر کنگھا بھی کرتی ہے، بخار اور بیماری میں پوری رات ہمارے سرہانے بیٹھ جاتی ہے تھنڈ لگے تو اپنی چادر بھی دیدے، غصّے میں جس گال پر تھپڑ مارے بعد میں پھر اُسی گال کو چومتی ہے، زیادہ دیر تک جاگیں تو کھینچتے ہوئے ہمارے بستر پر لاکر سلاتی ہے ـ برے کام پر ڈانٹنا اور اچھے کام پر شاباشی دینا، پیار سے ہمارے سر پر ہاتھ پھیرنا، باہر سے گندگی لیکر آؤ تو ہمارے بال کھینچتے ہوئے باتھ روم لیکر جانا، اسکول کے ھوم ورک میں ہماری مدد کرنا، بغیر کھائے سوجائیں تو زبردستی جگاکر ہمیں کھانا کھلانا ـ
اِس کے باوجود اسکول سے واپس آتے ہی کتابوں کا بستہ ایک طرف پھینک صوفے پر پیر پھسارے بیٹھ کر زور سے چلّاتے ہیں ’’امّی بھوک لگی ہے جلدی سے کھانا دو‘‘ اور ماں اپنا سکون چھوڑ کر دوڑی چلی آتی ہے بھلے وہ بیمار ہو ’’ہاتھ منہ دھولے بیٹا ابھی کھانا لگاتی ہوں‘‘ ـ ـ ـ کہتے ہیں ماں خدا کا روپ ہے اور میں کہوں ماں تو خدا ہے ـ
چند دنوں سے امریکہ شک کرتا آ رہا ہے کہ دھیرے دھیرے خدا کا دماغ ایشیا اور یوروپ کی طرف گھوم رہا ہے ـ خدا کو سمجھایا بھی تھا کرکٹ جیسے غریب کھیلوں پر اپنا دماغ نہ گھمائیں، برائے مہربانی اپنی خدائیت پر لوٹ آئیں اور