یہ خدا ہے
لبنان کو بیلی ڈانس کرواتے خدا نے اپنی ٹانگ توڑ لی، صحتیاب ہوجانے پر دوبارہ نئے انداز سے ناچ دکھانے کی اُمید ہے ـ آج عرب ممالک کے چہرے خوشی سے کِھل اُٹھے، خدا کی ٹانگ کیا ٹوٹی حزب اللہ کی فتح سمجھ بیٹھے ـ امریکہ نے مکمل آرام کا مشورہ دیا مگر ٹانگ ٹوٹنے کے باوجود ایران میں اپنا لنگڑا ناچ دکھانے خدا بیقرار ہے ـ اُدھر جاپان نے امریکہ کو وارننگ لکھ بھیجا، بس بہت ہوگیا اب خدا کو امریکہ سے باہر نکلنا ہی ہوگا باقی دنیا اُسکی جھلک دیکھنے بیتاب ہے ـ اگر امریکہ خدا کو آزاد نہ کرے، ورنہ وہ خود مختلف اقسام کے خدا بناکر فروخت کرے گا ـ دوسری طرف روس، کوریا اور وینزویلا نے جاپان کی حمایت کردی، وہ دن دور نہیں جب ہر ملک کا اپنا خدا ہوگا ـ مگر امریکہ کی خوش قسمتی کہ سب سے اعلی درجے کا خدا اُسکے اپنی قید میں ہے، بارہا امریکہ نے کہا: خدا کا شکریہ کہ خدا ہماری قید میں ہے ـ جس دن خدا زمین پر آیا تو اُسکی عظمت کی گارنٹی لینے والا امریکہ کے سِوا دوسرا کوئی ملک سامنے نہیں آیا اور آج امریکہ پر اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں کہ وہ خدا کی قدرت کا غلط استعمال کر رہا ہے ـ اگر یوں ہی غریب ملکوں کو روندتا پھرے تو ایک دن خدا کی قدرت بھی ضائع ہوجائیگی اُسکے بعد امریکہ خود خدا بن بیٹھے گا ـ اکثر مواقع پر خدا نے اپنا بیان دیا تھا اور اسوقت بھی اپنی ٹانگ تُڑوانے کے فورا بعد فرمایا: ہمیں امریکہ ہی میں رہنا پسند ہے کیونکہ یہاں تعصب، فرقہ پرستی، مذہبی اختلافات جیسی واہیات نہیں ـ اور دوسرے ملکوں میں جانے کو ڈر لگتا ہے چونکہ ہمارا کوئی مذہب نہیں اور اُن مذہبی انسانوں کو اپنا کیا منہ دکھاتے ـ خدا نے پھر ایک بار نہایت ہی غضبناک انداز میں فرمایا: خدا کو خدا کی قسم، جو شخص امریکہ کو سُپر پاور نہیں مانتا وہ ہم میں نہیں ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
صبح سویرے پریڈ گراؤنڈ پہنچو، پرچم لہراؤ
منتریوں کا بھاشن سُنو اور تالیاں بجاؤ پھر مٹھائی کھاؤ

صبح صرف دو گھنٹے آزادی کا جشن منانے کے بعد آج چُھٹی کا دن ہے، ہم سب ہندوستانیوں کو 59 ویں آزادی کی چھٹی مبارک
صبح سویرے گراؤنڈ میں پہنچ کر آزادی ملنے کی خوشی میں اپنے جوش و جذبے کا اظہار قومی ترانہ گا کر کیا پھر سبھی ہندوستانیوں نے پوری آزادی کے ساتھ صبح صبح تھنڈی سانس لی کہ آج چھٹی کا دن ہے ـ اسکولی بچوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ کِسطرح شہیدوں نے اپنی قربانیوں سے وطن کو آزاد کروایا، اور اُنہی کی قربانیوں کیوجہ آج ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں ـ بچے تو مان گئے مگر آج بھی چند بالغ لوگوں کا رونا ہے کہ یہ کیسی آزادی ہے؟ کون کہتا ہے بھارت آزاد ملک ہے؟ ایسے لوگ اور پچاس سال بعد ویسے ہی روتے نظر آئینگے کہ بھارت تو آزاد ہے مگر ہم ابھی تک غلام ہیں ـ آج اگر بھارت چند دوسرے ترقی پذیر ملکوں سے دو قدم پیچھے ہے تو صرف اُن لوگوں کیوجہ سے جو اتنے بڑے آزاد ملک میں ڈرتے ہوئے سانس لیتے ہیں ـ ہر کوئی سچّا بھارتی اپنے وطن میں پوری آزادی سے سانس لے رہا ہے کیونکہ یہ صرف اپنا ملک ہی نہیں بلکہ ہماری ماں سمّان ملک ہے اور اپنی ماں کی گود میں پوری آزادی سے سانس لینے والا کسی سے نہیں ڈرتا اور وہ آرام سے ہنستا کھیلتا ہے ـ خدا کا بے انتہا شکر ہے کہ اُس نے ہمیں ایسے جنّت مقام ملک میں پیدا کیا جہاں پوری پوری آزادی ہے ـ اخباروں میں خبریں پڑھ کر ڈر لگتا ہے کہ خدانخواستہ اگر ہمارا جنم کسی ایرے غیرے ملک میں ہوتا تو ـ ـ ـ ـ خدا نے ہماری قسمت چمکا دی کہ ایک آزاد اور خوشحال ملک کا شہری بنایا اور باقی دنیا کی نظروں میں عزّت دی جس پر فخر سے کہنے کو دل کرتا ہے ہم ہندوستانی ہیں ـ
ہر کسی کو اپنی زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ہوتی ہے ـ ہمارے راشٹرپتی عالیجناب عبدالکلام صاحب، جنہیں بچپن سے اپنے وطن کی خدمت کرنے کی خواہش تھی اور وہ اپنے نیک مقصد میں کامیاب رہے ـ اور مجھے بچپن سے گرافک کا شوق تھا، اِس میں ڈپلومہ کے بعد آج صبح و شام صرف گرافک پر کام کرتا ہوں ـ اسکے علاوہ ایک اور خواہش بھی ہے کہ اگر دولت ملے تو مابدولت اپنے ٹیلیویژن چینلس بھی براڈکاسٹ کریں گے اور ایک اُردو ٹی وی چینل بھی ہوگا ـ پتہ نہیں مابدولت کا یہ خواب کب پورا ہوگا ـ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ آج آخرکار بھارت سرکار نے اُردو ٹیلیویژن چینل DD URDU شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ـ جب بنگلور میں نوکری کر رہا تھا، تو ہمارے باس نے بھی اُردو ٹی وی چینل شروع کرنے کی سوچی اور تبھی ہم نے خوشی اور جوش میں آکر ملٹی میڈیا میں ڈپلومہ کیلئے جوائن کرلیا ـ مگر اسپانسرس میں اختلاف ہوگیا کہ اِس ٹی وی چینل کو خالص اسلامی بنائیں گے کیونکہ بھارت میں ایک بھی اسلامی ٹی وی چینل نہیں ہے، اور کچھ دوسرے اسپانسرس بھی اڑ گئے چونکہ اُردو چینل کا بیڑا اُٹھایا ہے تو یہ خالص اُردو انٹرٹینمنٹ چینل ہی بنے گا کیونکہ اسلامی چینل میں کوئی اشتہار نہیں دیتا اور یہ چینل اشتہار کے بغیر نہیں چلتا ـ اور پھر وہ ٹیلیویژن چینل شروع تو نہیں ہوا مگر ہمارا ملٹی میڈیا ڈپلومہ کمپلیٹ ہوگیا اور دل میں ٹھان لی کہ مابدولت کے پاس کچھ دولت آجائے تو پھر اُردو تو کیا، بھارت کے سبھی زبانوں میں اپنا ٹیلیویژن چینل ہوگا ـ اِس سے پہلے کہ ہم اپنا اُردو ٹی وی چینل شروع کرتے بھارت سرکار ہم سے آگے نکل گئی اور 15 اگست 2006 سے ’’دُوردرشن اُردو‘‘ براڈکاسٹ ہونے کی خوشخبری سنائی ـ اب تو ہم اِس سرکاری چینل کو اپنا ہی سجھیں گے ـ