کیا واقع یہ مذاق تھا!؟ مشرف کو شک ہوا پاکستان کو تاریکی میں ڈبو دینا، خدا کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے ـ آخر وہ چاہتا کیا ہے؟ حالانکہ اُسامہ کو دھونڈنے کیلئے ہم نے اپنے طور سے پورا تعاون بتایا باوجود پھر بھی پورے پاکستان کو اندھیرے میں دھکیلنے کی کیا ضرورت تھی، جیسے چند گھنٹوں کیلئے روحیں کانپ اُٹھیں، جیسے پائی پائی کا حساب لینے امریکہ ہماری چھاتی پر چڑھ بیٹھا ـ شام کی چائے کیساتھ “لگے رہو منّا بھائی” کو تیسری بار دیکھتے ہوئے خدا مزے لُوٹ رہا تھا، عین گاندھیگری کتابوں کی سین پر امریکہ نے خدا کے کان بھرے: مشرف کی تازہ کتاب کو ٹیکس سے مستثنی کرنا شاید غلط تھا، جس میں شروع سے آخر تک ‘خیالی پلاؤ’ کی خیالی ترکیبوں کے سِوا کچھ بھی نہیں ـ دوسری طرف عیسائی مفتی پوپ ینڈیکٹ نے اپنے حالیہ متنازعہ لیکچر کے متعلق ناراض ممالک کے سفیروں سے کھلے عام ملاقات پر کُھل کر کہا: اِس میں ناراضگی کیسی؟ ہم سب خیالوں پر ایمان رکھنے والے ہیں، ایک مذہب دوسرے مذہب کیلئے جو خیالات رکھتا ہے وہی خیالات کو ہم اپنے لیکچر میں زبانی استعمال کرگئے ـ اگر آپ ہمارے خیالات سے اختلاف رکھتے ہیں تو ہم کونسا آپکے خیالات سے اتفاق کریں ـ بات خیالی ہے، اسے خیالوں میں رہنے دیں مگر یوں سڑکوں پر نعرے بازی، ٹائر جلانا، پتلے نزر آتش کرنا یہ سب غیر اخلاقی حرکتیں ہیں جس سے ہمارے خیالات آپ کے متعلق اور پکّا ہوجاتے ہیں ـ پوپ نے ناراض لوگوں کو دعوت بھی دی: آؤ ہم سب ملکر اپنے خیالات کا مناظرہ کرلیں، اُمید ہے ہمارے آپسی خیالات کھوکھلے نکلیں جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ـ پھر آخر میں سبھی کے رائے مشوروں سے نئے خیالات کو جنم دینگے کیونکہ ہماری آنے والی نسلوں کو پرانے خیالات سے پاک رکھنا ہے ـ اسی لئے خدا بھی دنیا میں اُتر آیا تاکہ انسانوں کے دماغ میں نئی باتیں/نئی سوچ پیدا کرے ـ جب ‘لگے رہو منّا بھائی‘ اختتام ہوچکی مگر خدا نے چوتھی بار پھر سے دیکھنے کی ٹھانی تو امریکہ نے یاد دلایا: مجلس لگ چکی ہے اور لوگ باگ آپکے انتظار میں اُونگھ رہے ہیں ـ مجلس پہنچ کر خدا نے شام کا خطبہ پڑھنا شروع کیا، اچانک پتہ نہیں خدا کو کیا سُوجھی پورا خطبہ گاندھیگری پر سُنا دیا ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
اس تحریر پر ہندی زبان میں تبصرے
جب صبح سویرے بھارت رُخ ہوکر خدا نے ‘اسٹار نیوز’ والوں کا شکریہ ادا کیا، کہ دیوبند سے ایک مفت خور مفتی کو رشوت کے عوض فتوی جاری کرتے ہوئے اپنے چینل پر دکھا دیا ـ خدا کے احکامات میں تشریح کرکے فیصلہ سُنانا پگڑی نما مُفتیان کے کاروبار کو زبردست جھٹکا لگا، یہ سب ہماری مفت خوری کو بدنام کرنے کا پروپگنڈا ہے صرف پانچ ہزار روپئے ہدیہ وصول کرلیا تو اُسے رشوت کا نام دینا ہماری برادری کو سوٹ نہیں کرتا ـ امریکہ بھی وہیں خدا کو اپنا اظہارِ خیال بتایا: شاید مفتی اور جہادی میں کچھ زیادہ فرق نہیں! صبح ناشتے سے فارغ ہوکر تھائی لینڈ کیلئے دعائے خیر کا اہتمام کروایا، خدا نے اپنی تمام دعائیں تھائی افواج کے حق پر چھوڑیں اور فرمایا: اُمید ہے تھائی لینڈ میں پاکستان جیسے حالات پیدا نہ ہوں، کسی بھی حکومت کا تختہ اُلٹنا نازیبا ہے البتہ بغیر ‘خون خرابہ’ کے جسطرح امریکہ نے خدا پر قبضہ جمایا ـ ایران کے مسلسل ہٹ دھرمی پر خدا نے وارننگ الفاظوں میں فرمایا: کاش! وہ اپنے پڑوسی ملک عراق کا حال دیکھ لے، صدّام بھی ضدّی تھے اور اُس کا انجام وہاں کی عوام آج تک بھگت رہی ہے ـ بڑے لوگ جو بات کہیں اُسے مان لینا چاہیئے، ورنہ بڑوں کی غیرت جاگ اُٹھے تو سوائے ‘خون خرابہ’ کے کچھ نہیں ـ ٹونی بلیئر کے حق میں دعا کرنے سے خدا نے اِنکار کردیا، کوئی فائدہ نہیں! حال ہی میں مشرف کا منموہن سے ہاتھ ملانا، خدا نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: اب وقت آچُکا ہیکہ پاکستان میں اُسامہ کی تلاش شروع کیجائے، اگر وہ نہ بھی ملے مگر تلاشِ جستجو جاری رکھے ـ ایرانی خاتون کا خلاء میں سیر سپاٹہ، خدا نے خوشی کا اظہار فرمایا: اِس سے ثابت ہوتا ہیکہ ہر ایک کو خلا بازی کا موقع ملے، بھلے وہ کسی بھی مذہب، ملک کا ہو اگر دولتمند ہے تو خدا خود اُسکی مٹھی میں ہے ـ مشرف کی نئی کتاب ’’امریکی غلامی میں چھ سال‘‘ کو خدا نے ٹیکس سے مستثنی قرار دیا ـ ایک بار پھر ٹونی بلیئر نے اپنے لئے دعائے خیر مانگی ـ خدا نے بغیر کسی جواب کے مجلس کو برخواست کر دیا ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
اس تحریر پر تبصرے ہندی زبان میں
یہ خدا ہے
عیسائیوں کے مفتی اعظم پوپ بینڈیکٹ نے آج بذریعہ اي-میل خدا کو مذاقاً مجاہد خطاب کرتے ہوئے جاننا چاہا، خدانخواستہ اگر آپ بھی ایک مجاہد ہوتے تو مُنہ چھپائے گھومتے اور ساری دنیا آپ کو دہشت گرد، ٹیررسٹ اور آتنک واد جیسے القابات سے نوازتی ـ اچھا ہے آپ خدا نکلے جس کے آگے ساری دنیا سر جھکائے، اگر مجاہد ہوتے تو ہماری اي-میل سے بددعائیں نصیب پاتے ـ دوسری طرف دنیا کا مضبوط ترین گروپ G8 کے جذبات کو شدید دھکّا لگا کیونکہ آج برازیل، بھارت اور ساؤتھ اَفریقہ نے ملکر G3 بنانے کا باقاعدہ اعلان کردیا ـ گذشتہ روز جب امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی پانچویں سالگرہ منائی، مہمانِ خصوصی خدا نے جائے واقعہ پر کیک کاٹ کر خطبہ پڑھا: اُسامہ کو دھونڈنا ہمارا فرض ہے، بھلے وہ نہ ملے ـ اگر وہ مِلجائے تو اُنہیں کے ہاتھوں دوبارہ وہی عمارت بنائیں گے مگر کوئی تو بتائے اُسامہ ہے کہاں؟ مشرف نے کھڑے ہوکر فوراً کہا: وہ پاکستان میں ہرگز نہیں ہے، اگر چاہو تو ہمارے ملک کی تلاشی لیں ـ امریکہ نے مشرف کو تسلّی دیکر بٹھا دیا: خدا کو ابھی کوئی جلدی نہیں ـ خطبہ جاری رکھتے ہوئے خدا نے فرمایا:
نہایت ہی افسوس کی بات ہیکہ G8 کے ہوتے اب G3 بھی وجود میں آگیا، اگر یوں ہی سب اپنا علیحدہ گروپ بنالیں جیسے اب تک مختلف اقسام کے مذہب بنالئے گئے؟ حالانکہ ہم بھارت کو لیکر G9 کرنے ہی والے تھے مگر اُسکی جلد بازی نے G3 کو جنم دیدیا ـ خدا نے بہت ہی سنجیدگی سے فرمایا: آپ انسانوں نے مذہب اور فرقے بناکر بِکھر چُکے، اور اب ممالک کا گروپوں میں تقسیم ہوجانا دنیا کی سلامتی کیلئے مزید فکر ہو رہی ہے ـ عیسائیوں کے مفتی اعظم پوپ بینڈیکٹ کی مضحکہ خیز اي-میل کے جواب میں خدا نے فرمایا: آپ کی بات بھی صحیح ہے لیکن آپکے حالیہ لیکچر سے ایک خاص قوم کی دلآزاری ہوئی اور آپ بھلے اللہ والے، اُسطرح کے خُطبات آپ کو زیب نہیں دیتے ـ مجمع سے ایک عیسائی عالم نے خدا سے جاننا چاہا، مجاہدین نے آج تک کی تاریخ میں ایسا کونسا اچھا کام کیا سوائے خون خرابوں کے؟ آپ اُنہیں سمجھائیں ‘خون خرابہ’ سے جنّت نہیں ملتی ـ جگہ جگہ بم دھماکے، لوٹ مار، عوام میں دہشت مچانا پھر اُنہیں سے چندے لُوٹنا کیا یہ سب جہاد ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ مجاہدین خدا کا ہی نام لیکر معصوم عوام سے بدلہ لیتے ہیں ـ عیسائی عالم نے خدا سے مزید پوچھا: کیا خدا بھی اُن مجاہدین کی مدد کرتا ہے؟ تو پھر کیا بات ہے اُنہیں کبھی فتح نصیب نہ ہوئی اور ہمیشہ منہ کی کھائی اسکے علاوہ آج تک دنیا کی نظروں میں بے عزّت ہی ٹھہرے ـ اِس سے پہلے کہ خدا کچھ جواب دے، امریکہ نے جلسے کا اختتام کروایا کیونکہ خدا کو اِن مذہبی اختلافات اور جہاد کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی