حضرت Paul
مجلس میں کسی نے باادب پوچھ لیا: مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ خدا کی بجائے امریکہ نے جواب دیا: عراقی گلیوں میں سڑی گلی لاشیں ہر دن ٹیلیویژن پر دکھائی دیتی ہیں، مرنے کے بعد انسان سڑ گل جاتا ہے اور کچھ نہیں ـ اسی کے ساتھ مجلس میں موت پر مذاکرات شروع ہوئے، مرنے کے بعد کیا واقع انسان کی روحیں بلاک ہول چلی جاتی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو جنّت اور جہنّم کی عمارتیں شاید وہیں ہونگی ـ چاند اور مریخ تک ہاتھ لمبے کرلینے کے بعد اب جاپان، چین، امریکہ وغیرہ بلاک ہول سے آگے جھانکنے کی تاک میں ہیں ـ خدا کچھ اور خیالوں میں گُم ہے اور مجلس میں باقی لوگ موت پر بحث کر رہے ہیں، اچھا ہوتا اگر سب کو ایک ساتھ موت آئے مگر شاید یہ ممکن نہیں کہ بلاک ہول میں ایکساتھ داخل ہوں ـ حالانکہ سونامی کے موقع پر لاکھوں لوگ خدا کا لُقمہ بنے تھے، ممکن ہے قطار باندھے بلاک ہول سے داخل ہوئے ہوں ـ خدا کے منہ پر پانی مارا، یہاں سب لوگ موت پر بحث کر رہے ہیں اور وہ تخت پر بیٹھا اُونگھ رہا ہے ـ تھوڑا ہوش آیا تو یوں لگا جیسے بارش شروع ہوگئی، امریکہ نے بتایا: یہ بارش نہیں بلکہ خوفناک برفباری جو کیتھرینا، ریٹا اور وِلما جیسی خوبصورت بلاؤں سے بڑی ظالم ہے اور اِن آوارہ حسیناؤں پر عاشق ہونے کیلئے حضرتِ پال بیقرار مچل رہے ہیں ـ اِس گرما گرم بحث پر خدا کے کان کھڑے ہوگئے، وہ کچھ بولنے کا موقع تلاش کر رہا تھا حالانکہ ابھی بھی اُسکی آنکھوں پر نیند سوار ہے ـ پچھلے چار گھنٹوں سے ’’موت اور اُسکے بعد‘‘ موضوع پر مذاکرہ جاری ہے ـ ـ ـ
باقی پھر کبھی
عید کا چاند؟
خدا کی بارگاہ میں امریکہ نے چین پر مقدمہ ٹھونکا، خفیہ طور سے چاند پر فلیٹوں کی مارکیٹنگ شروع کردی ہے، وہ دن دور نہیں جب پورے چاند پر چین اپنا قبضہ جمالے ـ پھر پتہ نہیں اُن لوگوں پر کیا گُذرے گی جو چاند سے عقیدت رکھتے ہیں، عربیوں کو بھی اپنا کیلنڈر عیسوی سے جوڑنا پڑے گا پھر عید کیلئے چاند دھونڈنے کی بجائے امریکہ سے پوچھنا پڑے گا ـ ضروری ہے چاند کو اپنی حالت پر چھوڑ دے ورنہ کئی لوگوں کو افطار کیلئے اندھیرا ہونے تک بھوکا رہنا پڑے گا ـ اِس مقدمے پر خدا غور ہی فرما رہا تھا، اچانک روس نے خدا کے کان میں سُر پھونکی: سچّی بات تو یہ ہے امریکہ اُن ممالک سے بہت جلتا جو چاند پر جاچکے ہیں، دراصل امریکہ کبھی چاند پر گیا ہی نہیں اُوپر سے جھوٹے دعوے کرتا ہیکہ سب سے پہلے چاند کی تسخیر اُسی سے ہوئی ـ صف میں کھڑے مشرف نے بھی اپنا سوال اُٹھایا: ہمارے ملک میں ہمیشہ سے عید کا چاند ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، آدھی قوم کو چاند دکھائی دیتا ہے تو باقیوں کو دوسرے دن نظر آتا ہے اور یہ سلسلہ زمانہ دراز سے ہمارے بیچ انتشار بنا ہوا ہے ـ جاپان نے رائے دیا: اچھا ہے ہر ایک ملک کا اپنا چاند ہو، اور ہمارے لئے چاند بنانا کوئی مشکل کام نہیں ـ اِس پر سعودی شاہ نے آمین کہا: سب سے پہلے ہم اُسے خریدیں گے ـ اتنا سب سُننے کے بعد امریکہ نے بانگ دیا: جب خدا خود ہمارے ساتھ ہے تو چاند کی کیا ضرورت؟ اور خبردار، اگر کوئی خدا کے چاند کو چھیڑے تو امریکہ اُس پر عذاب بن کر اُترے گا ـ امریکہ نے دانت دکھاتے کہا: ہم نے خدا کو تک نہیں بخشا، ہماری قید میں ایسے پھنسا کہ وہ توبہ کرنا بھول گیا ـ ہماری روشن خیالی کی قسم، اگر کوئی چاند پر قبضہ جمانے کی کوشش کرے تو چاند کو ہمیشہ کیلئے غائب کردیں گے اور پھر ساری دنیا ہم سے پوچھ کر سوئے گی کہ رات ہوگئی!!! ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
اس تحریر پر ہندی زبان میں تبصرے
Posted by: admin in اُردو
قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان کے چیئرمین اور فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر ارجن سنگھ نے قومی اردو کونسل کی تین اہم مطبوعات ’’اے کورس ان اردو پروننسیئشن‘‘، اردو اچّارن (مرتب: ڈاکٹر روپ کرشن بھٹ، سابق پرنسپل پبلیکیشن آفیسر، قومی اردو کونسل)، ’’کلیات سعادت حسن منٹو‘‘ جلد اول (مرتب: پروفیسر شمس الحق عثمانی اور ’’کلیات سردار علی جعفری، جلد اول و دوم (مرتب: پروفیسر علی احمد فاطمی) کا اجرا کونسل کی 23 ویں ایگزیکیٹو بورڈ کی میٹنگ کے موقع پر شاستری بھون میں کیا ـ ان کتابوں کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے قومی اردو کونسل کے وائس چیرمین شمس الرحمن فاروقی نے کہا کہ اردو پروننسیئشن ورکشاپ موڈ میں کونسل کے ذریعے انگریزی اور ہندی میں مع CD اِن لوگوں کیلئے تیار کرائی گئی ہے جو اردو سے تو واقف ہیں لیکن الفاظ کے تلفظ کی صحیح ادائیگی پر قادر نہیں ـ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو سے شوق رکھنے والے ان کتابوں اور CD’s کے توسط سے اردو الفاظ کی صحیح ادائیگی پر بھی دسترس حاصل کریں گے ـ سعادت حسن منٹو کی پچاسویں برسی پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ان کے تمام تحریروں کو شائع کرنے کا کونسل نے منصوبہ بنایا ہے اور یہ اس کی پہلی کڑی ہے ـ علی سردار جعفری ترقی پسند تحریک کے صف اول کے شاعر ہیں، ان کی تمام نثری اور شعری تحریروں کو جمع کرنے نیز کلیات کی شکل میں شائع کرنے کا منصوبہ بھی کونسل نے بنایا ہے جس کے تحت اب تک دو جلدیں شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں ـ اس کے بعد کونسل کے ایجنڈے پر بھرپور گفتگو ہوئی اور اردو کی ترقی اور بقاء کے لئے قومی اردو کونسل نے جو مختلف تجاویز بورڈ کے سامنے غور و خوض کیلئے رکھی تھیں، ان کو منظور کیا گیا ـ ان میں ملک کے طول و عرض میں اردو مراکز کا قیام، کتابوں کی نمائش و فروغ کیلئے بیرون ملک میں اردو کے ثقافتی مرکزوں میں کونسل کی شمولیت نیز اردو ثقافتی سنٹر قائم کرنے کی تجویزوں پر بھی غور کیا گیا ـ آخر میں فروغِ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر ارجن سنگھ نے اُردو کی ترقی کیلئے ہر ممکن مدد کا تیقن دیا ـ
شکریہ: روز نامہ اعتماد حیدرآباد
(نیوز: یو این آئی)