Archive for December, 2006

[ یہ خدا ہے ـ 49 ]

ہندی فلمیں دیکھ خدا کو آرزو ہوئی کہ اپنے ہاتھوں میں مہندی چھاپے، خدا کو سمجھایا کہ یہ تو خواتین کی زینت ہے گر وہ آپکے ہاتھوں میں مہندی دیکھ آپ کا بڑا مذاق اُڑائیں گی ـ خدا نے طیش میں کہا:  واللہ ہم خدا ہیں ہمارا شمار خواتین و حضرات میں نہیں ـ آجکل قومِ نِسواں کی بہبودی کیلئے جو کچھ فارمولے آزمائے جا رہے ہیں، ہم بھی اپنے ہاتھوں میں مہندی چھاپ خواتین کو خوش کریں گے  ـ ویسے ہم تو سبھی اقوام کو خوش کرنے کیلئے آئے ہیں گر چاہو تو ہمیں سولی پر لٹکا دو مگر زیادہ دیر تک نہیں  ـ سَر پر پگڑی باندھے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خدا نے نعرے لگائے: ہماری مانگیں + پوری کرو ـ جب پوچھا کہ یہ کیا تماشہ ہے؟ خدا نے بتایا الیکشن قریب ہے اور ووٹ مانگنے کی پریکٹس چل رہی ہے ـ خدا کو سمجھایا: ارے میاں، یہ نعرہ تو مزدور یونین کا ٹریڈ مارک ہے اور آپ کو ڈھنگ سے ووٹ مانگنا بھی نہیں آتا ـ خدا کو بتایا کہ ووٹ ایسے مانگتے ہیں: میری ماؤں بہنوں اور بھائیوں مجھے ووٹ دو ـ خدا نے تعجب سے کہا: توبہ استغفار  ہم ایسا نہیں بول سکتے ہم تو باقاعدہ خدا ہیں ـ معلوم ہے کہ آپ خدا ہی ہیں مگر ووٹ مانگنے کیلئے کچھ ایسا ہی کہنا پڑتا ہے اور تو اور گدھے کو بھی باپ بولنا پڑتا ہے  ـ پھر خدا سے پوچھا کہ: آپ کونسا الیکشن لڑنے والے ہیں اور آپکی پارٹی کا نام کیا ہے؟ خدا نے ڈُلتے ہوئے شرما کر کہا: دراصل ہمیں “بہترین ہندی بلاگ” کا ایوارڈ لینا ہے  ترکش ڈاٹ کام نے اعلان کیا ہیکہ 2006 سے لکھے جانے والے ہندی بلاگروں میں کسی ایک کو بہترین بلاگر ایوارڈ سے نوازا جانے والا ہے ـ خدا سے پوچھا: پہلے تو آپ لکھائی پڑھائی سے بالکل واقف نہیں اور آپ بلاگ بھی نہیں لکھتے تو پھر “بہترین بلاگ ایوارڈ” پر آپ اِتنے خوش کیوں ہو رہے ہیں؟ خدا نے یکلخت جِھلایا: اب رہنے بھی دیں زیادہ نہ بولیں  واللہ ہم لکھنا پڑھنا نہیں جانتے مگر یہ کیا ـ ـ ـ اب تک ہم پر 48 قسطیں لکھی جا چکی ہیں اور یہ 49 ویں قسط بھی حاضر ہے ـ اُردو، ہندی دونوں زبانوں میں ایکساتھ ہماری ٹانگ کھینچی جا رہی ہے ـ جنگ ہو یا فساد، سیاست ہو یا صحافت، بارات ہو یا اَرتھی یہاں تک کہ لالو سے لیکر ایشوریہ تک، ریشما کی جوانی سے لیکر واجپائی تک، امریکہ، جاپان، چین و انگلستان، عرب اور ریگستان، گھوڑا ہو یا گدھا مطلب کہ ہر خبر میں خدا کو چمچمہ بناکر پیش کیا جا رہا ہے ـ اور ہم پر یہ قسطیں لکھنے والا بلاگ اِتنا نڈر ہیکہ ہماری ماں بہن کو بھی گِننے میں بالکل نہیں ہچکچاتا مگر مزے کی بات تو یہ ہیکہ ہماری کوئی ماں بہن ہے ہی نہیں  خدا کو خدا کی قسم، ہم نے بہت سے بلاگز پڑھ لئے مگر ایسا بے باک اور سچّائی اُگلنے والا بلاگ پہلی بار دیکھا ـ کاش کہ یہ بلاگ پرانے زمانوں میں ہوتا تو آج ایک مقدس کتاب کی شکل میں ہوتا  مگر اب ایسی دقیانوس باتوں پر دنیا والے ایمان نہیں رکھتے صرف جتنی بھی پرانی اور سڑی گلی باتیں تھیں سب اُسی پر ایمان قائم رکھے ہوئے ہیں ـ خدا نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے فرمایا: آؤ اے ہندی بلاگروں، اِس ہموطن ہندی بلاگ کو اپنا قیمتی ووٹ دیکر کر کامیاب بناؤ اور اِسکے بدلے جنّت میں اعلی مقام پاؤ ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

 

ہندی میں: یہ خدا ہے - 49

20
Dec

ساگر کو خدا کا واسطہ

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

[ یہ خدا ہے ـ 48 ]

خدا کو بتایا کہ آگے نہ جاؤ وہاں کھڈّا ہے ـ جواب دیا: ہمیں معلوم ہیکہ کہاں کیا ہے اور اتنے بھی نابینا نہیں کہ کھڈے میں اوندھے گر پڑیں ـ ویسے ایک بات بتاؤ کہ وہاں کھڈا کاہے کیلئے کھودا ہے، کہیں یہ ہماری مزار کا سنگِ بنیاد تو نہیں؟ خدا کو بتایا: گرررر ـــــ آپ کو ہر کھڈا مزار کی طرح کیوں دِکھتا ہے جیسے آپ کو اپنی خود کی مزار چمکانے کا بہت شوق ہے ـ ارے بھائی یہ کھڈا تو انٹرنیٹ کی تاریں بچھانے کیلئے کھودا گیا ہے آپکی میّت کے واسطے نہیں ـ خدا نے ہنستے ہوئے کہا: ہا ہا ہا ـ تم انسان اچھا مذاق کرلیتے ہو اور ہم بھی تو مذاق ہی فرما رہے تھے، یہاں روزانہ ہماری محفل میں دنیا جہاں کے لفڑے سننے کو ملتے ہیں، جب دیکھو بم دھماکے، دہشت گردی، خودکشی، انتخابات اور سیاسی اُتھل پُتھل کی خبریں وغیرہ وغیرہ ـ ـ ارے بھائی ہنسنے اور ہنسانے کی بات بھی ہو ـ دیکھو آجکل خبری چینل والے بریکنگ نیوز کے ساتھ لافٹر شو کی نشریات کرتے ہیں شاید وہ بھی دنیا بھر کی خبریں سنا سنا کر تنگ آچکے ـ آج سے ہماری محفل کی شروعات باقاعدہ چٹکلوں کیساتھ ہو اور یہ ہمارا فرمان ہے ـ چٹکلوں کی پہلی محفل میں سرداروں پر قصّے سُن خدا اپنا پیٹ پکڑ لوٹ پوٹ ہونے لگا، اِتنا ہنسا کہ آنسوں چھلک پڑے: اب بس بھی کرو، واللہ ہماری آنتوں میں گانٹھ پڑنے کو ہے ـ خدا نے فرمایا: واقع یہ لطیفے بڑے مزیدار ہوتے ہیں، زندگی میں پہلی دفعہ ہم نے کھلکھلاکر ہنسا ـ آپ سب سے التماس ہیکہ صرف سرداروں پر ہی کیوں؟ خدا پر بھی لطیفے بناؤ اور نیکی پاؤ ـ محفل سے ایک بندے نے آواز لگائی: خدا کی پناہ ہم چٹکلے کیسے بنائیں؟ خدا کی شان میں حمد و ثناء گائی جاتی ہے ـ خدا نے بندے کو پاس بلایا اور ایک تھپڑ رسید کیا: تم ہماری شان میں کیا حمد گاؤ گے؟ جیسے کہ خدا کو اپنی شان کا پتہ ہی نہیں ـ اور تم لوگ یہ حمد و ثنا گا گا کر جیسے ہمیں اپنی خدائیت یاد دلاتے رہتے ہو ـ ہاں؟ ہم پر قصیدے گانے یا نہ گانے سے ہماری شان میں رتّی بھر کمی نہیں ہوتی ـ خدا نے اپنی ہتھیلی کھجاتے فرمایا: ہنسی مذاق ایک اچھی بات ہے اور ہمارا یہ کہنا کہ کسی خاص شخصیت (سردار) پر لطیفے گڑھنے سے اچھا ہے خدا پر چٹکلے لکھو اور ثواب حاصل کرو ـ آج ہمارا یہ فیصلہ ہے خدا پر چٹکلے پڑھنے کو عبادت کا درجہ ملے گا اور جنّت میں ہنسانے والی حسیناؤں میں اُسکا بسیرا ہوگا ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

نوٹ: مندرجہ بالا قسط نمبر 48 جناب گِری راج جوشی کی گذارش پر ساگر چند ناحر صاحب کیلئے لکھا، اُنہیں آج سبھی ہندی بلاگرز نے ہنسانے کی ٹھانی ہے ـ

ہندی میں: یہ خدا ہے - 48

[ یہ خدا ہے ـ 47 ]

اخباری نمائندوں نے خدا کو مجبور کیا کہ 6 دسمبر پر اپنے خیالات کا اظہار فرمائے اور بھارتیوں کو بتائے کہ آگے کا لائحہ عمل کیسا ہو ـ سَر کھُجانے کے بعد خدا نے اپنی اُنگلیوں پر حساب کرکے اخبار نویسوں سے فرمایا: واللہ ہم نہیں جانتے کہ چھ دسمبر کو ہماری ماں مری تھی یا باپ، البتہ اتنا ضرور یاد ہیکہ پچھلے سال 6 دسمبر کو ہمیں جُلاب لگے تھے جب زندگی میں پہلی بار KFC کا ناشتہ نوش فرمایا تھا اور وہ بھی امریکہ کے اُکسانے پر ـ ایک بزرگ اخبار نویس نے خدا کے کان مروڑ کر پوچھا: اووہ، آپ خدا ہو کہ پیجامہ، آپ کو 6 دسمبر نہیں معلوم؟ چھ دسمبر 1992 بولے تو آج سے چودہ سال پہلے اسی دن پورے بھارت میں آگ لگ گئی تھی، ہندو اور مسلمان ایکدوسرے کا خون چوسنے کھڑے ہوگئے تھے تب خدا کیا جھَک مارنے گیا تھا؟ بزرگ کی کڑک ڈانٹ سنکر اور اپنا کان سہلاتے خدا نے کہا: ایسی بات تھی تو پہلے کیوں نہیں بتایا، ہم تو ایک بھلے خدا ہیں، ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ باتھ روم میں فلش کیا کہ نہیں ـ خدا نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھے فرمایا: یہ تو برسوں سے روایت چلی آ رہی ہیکہ ہندو مسلمان ایکدوسرے کے جانی دشمن ہیں، اور یہ بات ساری دنیا جانتی ہی ہے تو پھر آج کا دن 6 دسمبر کو کیا خاص بات ہے؟ دور سے ایک پتھر خدا کے سَر پر آن پڑا، اِسی کیساتھ نعرے بازی شروع ہوگئی: مردہ باد مردہ باد خدا مردہ باد ـ ـ ـ ـ یہ 6 دسمبر کا جلوس تھا جو پچھلے چودہ سالوں سے بھارت کی مختلف گلیوں سے نکلتا ہے ـ خدا کو چھُپنے کی جگہ نہ ملی تو وہ بھی بھیس بدلکر کر جلوس میں شامل ہوگیا: مردہ باد مردہ باد خدا مردہ باد ـ مورچے میں نعرے بازی کرنیوالے ایک شخص سے خدا نے پوچھا: بھئی، یہ کِس کام کا جلوس ہے اور کہاں جا رہا ہے؟ اُس نے بے خیالی میں خدا کو بتایا: پتہ نہیں یار، محلّے کے ملاؤں نے خطبہ پڑھا “قوم کے سبھی افراد پر فرض ہیکہ اپنا کاروبار اور کام دھام چھوڑ جلوس میں جانا ہے کیونکہ آج سے چودہ سال پہلے ایک دوسری قوم کے لوگوں نے بابر کی تاریخی عمارت کو ڈھایا تھا” ـ خدا نے پوچھا: کیا آپ لوگ اُس عمارت کو دوبارہ بنانے کیلئے جا رہے ہو؟ اُس شخص نے غصّے میں کہا: آپ کے سَر میں بھیجہ ہیکہ گوبر؟ میں بھلا غریب آدمی آج تک اپنا گھر نہ بنایا تو ـ ـ ـ بات کاٹ خدا نے پوچھا: پھر یہ مورچہ کہاں لے جا رہے ہو؟ اپنے دانت پیستے ہوئے اُس نے خدا سے کہا: تیرے کو دکھائی نہیں دیتا کیا، وہاں سامنے اور اُدھر پیچھے مُلا صاحبان ہمیں زبردستی لے جا رہے ہیں، زبردستی آج ہمیں مزدوری کرنے سے روک لیا اور اب زبردستی دھوپ میں چلائے جا رہے ہیں نہ چائے نہ پانی، پتہ نہیں کہ ہمیں اور کتنا چلنا ہے نعرے بازی کرتے حلق سوکھا جا رہا ہے ـ خدا نے ہمدردی جتاتے پوچھا: نعروں میں خدا کو مردہ کیوں پکار رہے ہو، کیا تمہیں خدا پر اعتماد نہیں؟ جواب ملا: اگر خدا میرے سامنے آ جائے تو اُسکے دانت نہ توڑ دوں ـ ـ ـ خدا نے جھٹ سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے کہا: توبہ توبہ خدا کے دانت توڑو گے؟ اُس نے تمہارا کیا بگاڑا؟ اُس شخص نے جواب دیا: کیا نہیں بگاڑا، غریبی کیا کم تھی کہ مسلمان بنا دیا ـ پچھلے چودہ سالوں سے ہر چھ دسمبر کے دن اپنا کاروبار / مزدوری چھوڑ جلوس میں شامل ہونا فرض کر دیا چاہے بیوی اور بچّے بھوکے مَریں ـ اِسکے دکھ بھرے جواب سے خدا کو رونا آیا، جلوس کو روک کر سب کو اپنا حُلیہ بتایا: شکر ہیکہ ہم مسلمان نہیں بلکہ خدا ہیں، کاہے غریبوں کو جلوس میں ہانک رہے ہو، ملاؤں کے پاس کرنے کو کچھ نہیں اور اپنی شعلہ بیانی سے غریبوں کو ورغلاتے ہو ـ غریب کا خدا اُسکی دو وقت کی روٹی ہے، اور ملا لوگ ہیں کہ خدا کا نام لیکر غریبوں کا ایمان خراب کرتے ہو ـ یہ دنیا کسی خاص قوم کی جاگیر نہیں، پچھلے زمانوں میں بھی تم لوگوں کو خاک چٹایا تھا اور آج تک بھی تمہیں ذلیل اور رُسوا رکھا صرف تمہاری اندھی تقلید کی وجہ سے ـ اپنا ایمان خراب کر ہی لیا پھر غریبوں کا دماغ کیوں چاٹتے رہتے ہو ـ واللہ ہم باقاعدہ خدا ہیں اور دنیا ہماری جاگیر ہے ـ یہ مندر اور مسجد بنواکر جسے تم لوگ خدا گھر کہتے ہو، لعنت ہے تم انسانوں پر اگر چاہیں تو ہم تمہیں بے گھر کردیں ـ ہم انسانوں کے محتاج نہیں کہ تم خدا کیلئے گھر بناؤ ـ دیکھو اُن لوگوں کو جو بھوکے اور بے گھر ہیں، اپنے پڑوسی کے گھر لائٹ نہیں اور تم ہو کہ مندر اور مسجد کو روشنی سے جگمگانے چل پڑے ـ ہم تھوکتے ہیں تم انسانوں کی گندی سوچ اور اندھی تقلید پر جو بے گھر خدا کیلئے مندر اور مسجد بنوا لیا ـ کبھی تو اپنے ہمسائے کے کام آ جاؤ ـ ہم نے تم انسانوں کو ایک دوسرے کیلئے بنایا ہے، اپنا دکھ سُکھ آپس میں بانٹ لو کیونکہ یہی عبادت اور یہی سچّی خوشی ہے ـ تم انسانوں کو خدا کا واسطہ توڑ دو یہ مندر اور مسجد، خدا کو خدا کی قسم ہم خدا ہیں نہ کہ تمہارے گھر داماد ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی
اِس تحریر سے متصل کڑیاں:
ہندی زبان میں: یہ خدا ہے 47
ہندی ٹریک بیک: خدائی کی کہانی خدائی کی زبانی