Archive for February, 2007

16
Feb

صدرِ ہند

   Posted by: admin    in تصاویر, میرا بھارت

بھارت کی ایک عظیم شخصیت ہوتے ہوئے بھی خود کو عام آدمی سمجھنے والے صدرِ ہند عالیجناب عبدالکلام صاحب

14
Feb

خدا کا ویلنٹائن گِفٹ

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

[ یہ خدا ہے ـ 52 ]

آپ تو خدا ہیں اور سب جانتے ہیں ذرا یہ تو بتا دیں کہ پرانے زمانوں میں نوجوان چھوکرے حسیناؤں کو کسطرح پرپوز کرتے تھے! خدا نے اپنی اُنگلی دانتوں میں رکھ لی: اوہ یار بڑا کٹھن سوال ہے کوئی دوسرا سوال پوچھو ـ خدا سے پوچھا: کم از کم پیار محبت اور عشق کے بارے میں کچھ اظہارِ خیال فرمادیں، آج بڑا مقدس دِن ہے ـ خدا نے پہلے حیرت کا اظہار فرمایا: مقدس دِن، آج کس کی میّت کا عُرس ہے؟ پھر شرماتے ہوئے کہا: واللہ، ہم باقاعدہ خدا ہیں، خدارا ایسی باتیں ہم سے نہ پوچھو ـ ویسے ایک بات بتاؤ آج کا یہ دن کِس مذہب میں مقدس مانا جاتا ہے؟ خدا کو بتایا: عالیجاہ، جوان دلوں کے مذہب میں آج کا یہ دن مقدس ہے، جوان چھوکرے جن میں اکثریت سڑک چھاپوں کی ہے، اپنی مَن پسند حسیناؤں سے اظہارِ محبّت کرتے ہیں ـ اور باقی چند بڑی عمر کے لوگ آج توڑ پھوڑ بھی مچاتے ہیں اِن کے مذہب میں یہ دن بیہودہ اور غیر شائستہ ہے ـ خدا نے فرمایا: اَماں یار، یہ تو بہت نازک مسئلہ ہے جوان دلوں کا معاملہ ہے بھئی ـ اِن کا خون گرم ہوتا ہے اور دل جذباتی ـ تم بڈّھے لوگوں کو اب کیا سمجھائیں جوان دلوں کی دھڑکنوں کے ساتھ کھیلنا خدا کو بھی معیوب لگتا ہے ـ ہر ایک کو جوانی کے مزے لینے ہیں، حسیناؤں کو ہائے ہیلو کہہ دیا، اے لَو یو بول دیا چماٹ کھالیا کہیں کسی نے چھاتی پھاڑلی تو کوئی پھانسی پر لٹک گیا، آوارہ دل پھینک چھوکروں نے جم کر ناچ لیا ہنگامہ کھڑا کر دیا یہاں تک کہ برقعہ پوش خواتین پر سیٹیاں بجالیں پھر پولیس کے ہاتھوں پِٹ بھی گئے ـ نوجوانی میں ایسے حالات سے مقابلہ ہوتا رہتا ہے ـ خدا نے مزید فرمایا: بچپن اور جوانی صرف ایک بار نصیب آتا ہے، جِیو اور جینے دو، کھل کر خوشیاں مناؤ، ایکدوسرے کو اپنا کلچر بانٹو، صرف عید تیوہار ہی نہیں بلکہ ہر دن موج مستی کرو مگر اتنی نہیں کہ کسی کا نقصان ہو ـ یہ دنیا تمہاری ہے، تم سب ایک ہی قسم کے انسان ہو، کوئی تم سے بُرا اور زیادہ اچھا نہیں سبھی برابر ہو ـ اماں یار، تم لوگ عیدوں میں بھی لڑتے ہو، عرس کے پیسوں پر دستِ گریباں کرتے ہو، پوجا پاٹ میں اور تیوہاروں کے دن دھماکے مچاتے ہو کم از کم ویلنٹائنس ڈے کو تو بخش دو ـ مانا کہ آج کا دن کچھ سڑک چھاپ چھوکرے خواہمخواہ ہی تنگ کرتے ہیں، عورتوں سے چھیڑ خانی ہوجاتی ہے اور کبھی جان لیوا حملہ بھی مگر یہ تو تمہارا ہر دن کا رونا ہے ـ خدا نے بلند آواز میں فرمایا: غرور تکبر کرنے والوں کا منہ کالا، لعنت ہے ایسے لوگوں پہ جو خوشیوں کے موقع پر حیوانیت کا کھیل کھیلتے ہیں ـ تم لوگوں نے اتنی ساری چیزیں باتیں اپنالیں، عجب قسم کے عید و تیوہار کرلئے اب ایک نئی ویلنٹائنس ڈے کی بیہودہ رسم بھی سہی ـ تم لوگ ہر نئی چیز کو  اپنا لیتے ہو جسطرح گذرے زمانوں میں مذہب اپنالئے تھے، آج نوجوانوں نے کچھ نیا اپنالیا تو اِس میں کاہے کی ہنگامہ آرائی ہے ـ خدا نے اپنا کالر سیدھا کرتے ہوئے فرمایا: اِس ویلنٹائن کے دن تم سبھی انسانوں کو ہم پَرپوز کرتے ہیں، لعنت ہے تمہاری عجیب و غریب ذہنیت پر! کچھ بھی اَناپ شناپ بول کر نئی نئی روایتیں ایجاد کرلیتے ہو، گذرے زمانوں میں لوگ جاہل تھے ہی اور آج تم لوگ کونسی جہالت قائم کر رہے ہو؟ جماہیاں نہ لو! ہمارا خطبہ ابھی ختم نہیں ہوا، ہر دن کچھ نہ کچھ کرکے ماحول خراب کرنے والے اے جاہل انسانوں! کبھی تو ایک دن لئے دنیا میں اَمن و امان سے رہو ـ دیکھو عراقیوں نے خود اپنا سُکون حرام کرلیا، اور چند دوسرے ممالک بھی اپنا سُکون حرام کرنے کیلئے آفر بھیج رہے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا اپنے پورے غضب کے ساتھ تمہیں جھنجوڑ دے! قیامت سے پہلے ہزارہا قسم کی قیامتیں تم پر نچھاور کردیں ـ خدا نے کھنکارنے کے بعد فرمایا: ہمارا کہنا یہ ہے کہ ناچو گاؤ جھومو مستی کرو عیاشیاں کرو مگر کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ ـ دور بیٹھے عراقیوں کا دُکھ سمجھتے ہو مگر اپنے بھوکے پڑوسی کی تمہیں خبر نہیں! خدا نے بیزارگی سے فرمایا: چَلو چھوڑو بھئی، تم انسانوں میں یہ سمجھ ہوتی تو ہمیں اتنا لمبا خطبہ نہیں دینا ہوتا، تم انسانوں کو بَس صرف ایکدوسرے کی ٹانگ کھینچنی ہے، تم سے ایکدوسرے کی خوشی دیکھی نہیں جاتی اور غم میں تو کوئی آتا ہی نہیں! واللہ ہم خدا ہیں جہاں خوشی وہاں ہم ہیں ـ ہیپی ویلنٹائنس ڈے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

10
Feb

فلسطینیوں سے تازہ خطاب

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

[ یہ خدا ہے ـ 51 ]

فتنے فساد اور جلسے جلوسوں کی عظیم مملکت فلسطین کی قوم سے خدا مخاطب ہُوا: واللہ، صدقے جاؤں تمہاری نشانہ بازی پر، تمہاری ہمّت کی داد دینی ہے جو اسرائیلی ٹینکوں پر پتھر مارتے ہو ـ توبہ کیا جگر پایا ہے اپنی جان پہ کھیل کر خودکش دھماکے کرتے ہو، غم یا خوشی میں آسمان کیطرف گولیاں چلانے والی اے قومِ فلسطین، ایک بات بتاؤ دنیا بھر سے ذکات و فطرہ سے سکون پانے کی بجائے کیونکر اپنی جانیں جوکھم میں ڈال رہے ہو؟ تمہارے لئے ہم کیا نصیحت کریں؟ تمہارا دماغ اتنا گرم ہیکہ ہم تمہیں سمجھا بھی نہیں سکتے! توبہ، یہ خون خرابوں کی وراثت کہاں سے پائے ہو، ہمارے نام کا نعرہ لگانے والے اے پتھر پھینک قوم کے لوگوں! خدا سے دشمنی رکھو مگر خدا کیلئے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھو ـ اگر تم صحیح ہوتے تو آج اسرائیل سے زیادہ طاقتور ہوتے، تمہارے اندر اتحاد ہوتا تو آج اسرائیل کا نام و نشان نہ ہوتا ـ تمہاری جہالت یہ کہ تم سب کسی ایک بات پر متفق نہیں جب دیکھو خون میں لَت پَت خدائی نعرے لگاتے پھرتے ہو ـ اپنے پڑوسی ملک سے چھیڑ چھاڑ کو جہاد کا نام دیتے ہو اور خود آپس میں ایسے لڑتے ہو جیسے لنگر لوٹ رہے ہو ـ تمہاری ابتداء بھی خونریز فساد سے ہوا، خدارا کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا اختتام بھی زبردست فساد پر ہو ـ دیکھو باز آجاؤ، جہاد جہاد جہاد کا نعرہ لگاکر آخر تمہارا ہی تو نقصان ہوتا آ رہا ہے، تم لوگوں نے اتنے سالوں میں کبھی سوچا تک نہیں کہ یہ کاہے کا جہاد ہے؟ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی پہ کلہاڑی مارے جا رہے ہو! چاروں طرف سے تم گھِر چُکے ہو پھر بھی سینہ تانے واہ کیا شان سے کھڑے ہو، اِس سے پہلے کہ تمہارے لئے ذکات و فطرہ بند کروادیں باز آجاؤ ـ جِیو اور جینے دو، چھوٹی چھوٹی شرارتوں سے پوری دنیا کو اپنی طرف کیوں متوجہ کر رہے ہو؟ اخبار والے بھی تنگ آچکے، تمہاری خون آلود خبروں کو اب اندرونی صفحات میں بھی شائع کرنے سے بیزار ہیں ـ مانا کہ اسرائیل تمہارے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے مگر تم بھی تو اسرائیل کیلئے بڑے خطرناک ہو ـ رونا دھونا ماتم کرنا آہیں بھرنا پھر جہاد جہاد کے نعرے لگانے سے اچھا ہے اپنے آپ کو اسرائیل سے بڑا طاقتور بن کر دکھاؤ ـ پھر دیکھو ہم اسرائیل کو دعوت دیں گے کہ اب اگر ہمّت ہے تو ذرا قومِ فلسطین سے آنکھ لڑا کے دیکھو! مگر تم فلسطینی پتھر پھینک کر اور خودکش دھماکوں سے کیا خاک جہاد کا نام لے رہے ہو؟ جلسے جلوسوں کے سوا تمہیں کچھ آتا نہیں، اور محنت مزدوری تو کرنے کی ضرورت ہی نہیں دنیا بھر سے امداد جو پاتے ہو ـ آخر کب تک تُکڑوں پر پلتے رہو گے! ذرا تم بھی مدد کرکے دیکھو پھر جانو کہ امداد کیا ہوتی ہے ـ اپنے پُرکھوں کی جہالت پر تم بھی جاہل بنے رہے مگر خدا کیلئے اپنی آنے والی نسلوں میں یہ نفرت سے بھری چنگاریاں ورثے میں نہ دیکر جاؤ ـ خدا نے فرمایا اگر ہم فلسطینی ہوتے تو دیوار پر چڑھ کر بولتے: اے اسرائیلی ہمارا اور تمہارا باپ ایک خدا ہے، تو یہودی ہے تو آخر انسان ہے اور میں فلسطینی پھر بھی ہوں تو انسان ـ آآ تیری اِس بنائی دیوار کو ہم ملکر توڑیں ـ آ مِلجا گَلے، سالوں کے اِس نسلی فساد کو پَل بھر میں ختم کردیں ـ ہم نے آپس میں ایکدوسرے کا بہت خون بہایا، تعصب کیوجہ سے ایکدوسرے کے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا ـ اگر آج ہم ایک نہیں ہوپائے تو ہماری نسلیں صدیوں تک یونہی خون میں لَت پَت ایکدوسرے کے خلاف نعرے لگاتی رہیں گی ـ آ میرے اسرائیلی بھائی مجھ فلسطینی کو اپنا بھائی مان کر گلے لگالے ـ دیوار پر چڑھ تو گیا اب کیسے اُتروں؟ جمپ ماروں تو اپنی گودی میں اُٹھا لے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی