Archive for April, 2007

[ یہ خدا ہے ـ 56 ]

اپنے آپ پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے خدا گُنگنایا: دِل تو پاگل ہے، دل دیوانہ ہے ـ ـ ـ پھر پوچھا: میاں، اِسوقت مادھوری دکشت کس حال میں ہوگی؟ اُسے پردہ سیمیں پر دیکھ عرصہ ہوا ـ اور یہ جتیندر، دھرم گرم وغیروں کی کچھ خبر بھی نہیں ـ واہ، انکی اداکاری میں غضب کا نشہ ہوتا تھا ـ واللہ، ہم نے نیّت باندھ لی ہے کہ ممبئی ایئرپورٹ پہنچتے ہی سیدھا بالی ووڈ کا رُخ کریں گے اور اُن سبھی ستاروں سے ملکر فیض پائیں گے جن کے ہم مداح تھے ـ خدا نے پُرجوش انداز میں کہا: بالآخر ہماری اُمید برآئی ہمارے بھارت جانے کا وقت آیا ـ

خدا پر مبارکبادیوں کی بوچھاڑ شروع ہوئی، آخرکار بھارت جانا نصیب پالیا ـ اپنے لئے بطورِ خاص کولہاپور سے چپّل بھی منگوالئے تھے، اب خدا بھی کیا یاد رکھے اُسکا بھارت جانے کا خواب سچ ثابت ہونے کو آیا ـ بالوں میں کنگھا، آنکھوں میں سُرمہ، گلے میں پھولوں کا مالا سب نے خدا کو الوداع کہا: اپنا خیال رکھنا اور تاج محل کے رُوبرو اپنی تصویر ضرور کھینچوانا، گاندھی کی سمادھی پر گلہائے عقیدت کرنا نہ بھولنا ـ ایک ایسے دیش کیطرف خدا نے پرواز بھرا جہاں تین سو سے زیادہ بولیاں ہیں، درجنوں مذاہب اور سینکڑوں فرقہ جات اور ہزاروں اقوام کے ہر رنگ میں لوگ ایک ساتھ زندہ ہیں ـ

زمین و آسماں کے درمیان ہوا میں جھومتے ہوئے خدا نے بلند آواز میں کہا: اے سر زمینِ ہندوستاں کے لوگوں! سلام اور نمستے ـ اُمید ہے آپ نے ہمیں پہچان لیا، جی ہاں ہم خدا ہیں اِس سارے جہاں کے اکیلے مالک، آپکے دلوں میں ہلچل مچانے والے، تمہیں ٩ مہینوں تک پیٹ میں زندہ سلامت رکھنے والے، تمہاری بھوک اور پیاس کا احساس دلانے والے، تمہاری موت و حیات کے مالک، ہواؤں کا رُخ بدلنے والے، رات اور دن کو بنانے والے ـ ـ ـ واللہ، ہم ہی خدا ہیں دیکھو آج تم بھارتیوں کے آگے ہوا میں لٹکے ہوئے ہیں ـ گر اجازت ہو تو چند دنوں بھارت کے ہم مہمان ہیں اور امریکہ سے سفارش نامہ بھی ساتھ لائے ہیں ـ

اپنی کمر پہ ہاتھ رکھے فرمایا: اے بھارت کی بکھری قوموں! صدیوں سے جسکا تمہیں انتظار تھا، جسکی عبادتوں اور پوجا پاٹ کرتے تم نہیں تھکے! جس کیلئے خونین فساد کرتے ہو، جسکی خاطر ایکدوسرے کی عبادتگاہوں پر پتھراؤ کرتے ہو ـ آؤ ہم سے ملو، چاہو بھگوان، خدا، ایشور سمجھ لو ـ ـ ـ جس نام سے بھی پکارلو ـ ـ ـ اِس سارے جہاں کے مالک ہم ہی ہیں ـ پتھروں کو پوجنے والوں، مندروں میں گھنٹیاں بجانے والوں، گرجا گھروں میں گھٹنے ٹکانے والوں، مسجدوں میں سجدہ کرنے والوں اور ہواؤں میں خالی خالی گھورنے والوں ـ ـ ـ آج ہم تمہارے آگے ہوا میں لٹکے ہوئے ہیں ـ بڑی تمنّا تھی بھارت کے اِن عجیب و غریب بکھری اقوام کو دیکھیں! واللہ، آج ہماری حسرت پوری ہوئی ـ

مُسکراتے ہوئے فرمایا: کیا سوچ رہے ہو؟ ـ ـ ـ کہ ہم ہندو ہیں کہ مسلمان یا عیسائی یا پارسی پھر سردار جی!!! ہائے افسوس کہ کیا بتائیں اِن میں سے ہم کچھ نہیں مگر بیشک باقاعدہ خدا ہیں ـ ـ ـ چاہو آزمالو، چاند کو زمین پہ اُتاردیں، سورج کی روشنی ختم کردیں، پورا سمندر خالی کردیں یا دنیا کو ہی مٹا دیں!!! ہم خدا ہیں ہر چیز پر قادر ہیں ـ تم بکھری اقوام کے قصّے سُنکر بڑا مزہ آیا، تمہاری داستانیں بھی دلچسپ ہیں اور تمہاری تہذیب خود ایک عجوبہ ہے ـ ـ ـ کیا منہ پھلا کر دیکھ رہے ہو؟ خدا تو حاضر ہے اب کس چیز کا انتظار ہے؟

میڈیا والوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بھلا ہو اِن لوگوں کا جو اِسوقت بھی اپنی ڈیوٹی پر قائم ہیں ـ بھکاریوں کیطرف دیکھ کر کہا: اِن لوگوں کا بھی بھلا ہو یہاں بھی بھیک مانگنے میں مگن ـ اُن کھلونے والوں اور آئس کریم والوں کا بھی بھلا ہو کہ جہاں پبلک دیکھی اپنی آوازیں لگانا شروع کردیں ـ ـ ـ اوہ بھارت واسیوں ذرا ٹھہرو! ـ ـ ـ خدا آیا ہے، یہ کوئی جلسہ نہیں ـ ابھی ہم دھرتی پہ نہیں اُترے کہ اتنا بڑا مجمع لگ گیا ـ آدمی پر آدمی کھڑا ہے پتہ نہیں خدا کو دیکھنے کی تمنّا ہے یا خدا تک پہنچنے کی!!!

کشمیر سے کنیاکماری تک گجرات سے بنگال تک، واللہ صدقے جاؤں تمہاری اِس انوکھی تہذیب پر ـ ہمیں پتہ تھا کہ تمہارے یہاں ان گنت خدا ہیں مگر ہم اِن خداؤں کے خدا ہیں ـ ـ ـ ہمارے نام پہ تبلیغ کرنے والوں! ہماری شکل پر مورتیاں بنانے والوں! ہمارے نام سے فتوے چھاپنے والوں! ہمارے نام پہ فرقے بانٹنے والوں! تم سب ذرا پہلی صف میں آجاؤ ـ ـ ـ تاکہ پہلے آپ حضرات سے گفتگو ہوجائے پھر عام جنتا سے ملاقات ہوگی ـ ہم سب کی سنیں گے پھر اپنی بولیں گے ـ ـ ـ مگر پہلے ہمیں دھرتی پہ اُترنے دو! کب سے ہوا میں لٹکے ہم خود بکے جا رہے ہیں ـ

سبھی بھارتیوں نے ایکساتھ بلند آواز میں خدا سے کہا: خدا کو اُسکے خدا ہونے کا واسطہ! خبردار جو اِس پاک دھرتی پہ اپنے قدم رکھا!!! جاؤ جاؤ ہمیں آپکی کوئی ضرورت نہیں ـ ـ ـ ایتھوپیا جاؤ، سوڈان جاؤ، میانمار جاؤ، بھوٹان جاؤ اور جاؤ عراق ـ ـ ـ اِن ممالک کو جانے اگر ہمّت نہیں تو رہو امریکہ میں مگر خدارا اِس پاک دھرتی پہ اپنے قدم نہ رکھو ـ ہم سب بھارتی ہیں اِس دیش کے ہم خود خدا ہیں اور یہاں پر اتنے خدا ہیں کہ کسی باہر کے خدا پر ہمارا ایمان نہیں ـ

دو ہاتھ والے، چار ہاتھ والے، بغیر ہاتھ والے اور بغیر دکھائی دینے والے، قبروں میں سوئے ہوئے اور سولی پر لٹکے ہوئے ہر قسم کے خدا ہمارے بھارت میں موجود ہیں ـ آپ جاؤ یہاں سے، ہم بھارتیوں کو کسی اور خدا کی ضرورت نہیں! ہم بھارتی خود قیامت مچالیتے ہیں، خود لُٹیرے ہیں، خود فتنے باز بھی ہیں، خود دنگے فساد مچاتے ہیں، اپنی روزی روٹی خود پاتے ہیں اور خود اپنے فیصلے آپ کرلیتے ہیں ـ آپ جاؤ یہاں سے، خبردار جو اِس پاک دھرتی پہ اپنا قدم رکھا! ہم بھارتی ہیں کسی اور خدا پر ہمارا ایمان نہیں ـ

خدا بننے کیلئے ہمارے بھارت دیش میں امیروں کو بھی حق اور غریبوں کو بھی حق ہے، کسانوں کو بھی، دغا بازوں کو بھی، چور ڈاکوؤں کو بھی، قاتل و بدمعاش کو بھی، یتیموں کو بھی اور بیواؤں کو بھی ہر ایک کو حق ہے کہ وہ اِس ملک کا خدا بنے ـ ـ ـ ہم بھارتی ہیں اپنے ملک کے خود خدا ہیں ـ اچھے بھی ہیں اور بُرے بھی، ایکدوسرے کے دشمن بھی دوست بھی، آپس میں لڑتے بھی ہیں پھر گلے بھی ملتے ہیں، مارتے بھی ہم مرتے بھی ہم، تکلیف سہتے بھی اور تکلیف دینے والے بھی ہم ہیں، ہم سزا پاتے بھی ہیں سزا دیتے بھی ہم ہیں، قانون بھی ہمارا اور قانون بنانے والے بھی ہم ہیں ـ جیسے تیسے بھی ہیں جو بھی ہیں ہم بھارتی ہیں اپنے ملک کے ہم خود خدا ہیں ـ آپ جاؤ یہاں سے اور خبردار جو اِس پاک دھرتی پہ اپنا قدم رکھا!!!

خدا نے جھلاّکر چنگھاڑا: کمبخت بھارتیوں! ہم خدا ہیں، ابھی بھارت میں اپنا قدم نہیں رکھا ہمیں بھگانے کی بات کرتے ہو ـ یہ سارا جہاں ہمارا ہے، ہم کسی کے محتاج نہیں اپنی مرضی کے خود خدا ہیں ـ بہت صدیاں گذریں، ہم اپنی بنائی مخلوق کو دیکھنے زمین پہ اُتر آئے ـ یہ تو خوشی کی بات ہیکہ امریکہ نے ہمیں اپنا سرکاری مہمان بنالیا، باقی سارا جہاں ہماری ایک جھلک دیکھنے بیقرار ہے اور تم بھارتیوں سے یہ اُمید نہیں تھی کہ ہم یہاں آئے آدھ گھنٹہ ہوگیا ہوا میں لٹکے رہے اور یہیں سے ہمیں بھگانے کی بات کرتے ہو؟

مزید چنگھاڑا: تعجب ہے! یوں بکھری قومیں آج ایک ہوکر خدا کو بھگا رہے ہو؟؟ ارے نالائقوں! بھول گئے! ہمارے ہی واسطے تم آپس جھگڑتے تھے، مندروں مسجدوں پر حملہ کرتے تھے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہمارے نام کے نعرے جپتے تھے ـ ـ ـ آج کیا ہوگیا کہ خدا تمہارے رُوبرو آکھڑا ہے اور تم اُسی کے خلاف ایک ہوکر نعرے لگا رہے ہو؟؟ ہم تمہیں سمجھانے آئے تھے کہ چھوڑو یہ قوم بازی اور سب ایک ہوجاؤ ـ ـ ـ حیرت ہے کہ تم پہلے سے ایک ہوکر ہمارے ہی خلاف کھڑے ہو ـ یہ تمہارا کیا سسٹم ہے جو ہماری سمجھ سے باہر ہے ـ ہم نے ایسا کیا بول دیا کہ تم میں اچانک یکتا آگئی؟ یوں بکھری قومیں اچانک جُٹ گئیں!!

اپنی کھوپڑی کھجاتے ہوئے فرمایا: ٹھیک ہے! یوں ہی دیدے پھاڑ پھاڑ کر ہمیں دیکھتے رہوگے، ارے دھرتی پہ اُترنے کی اجازت تو دو!! توبہ، کب سے ہوا میں لٹکے ہوئے ہیں ـ پاجامہ کا ناڑا بھی ڈھیلا ہونے کو ہے! کیسی بدتمیز قومیں ہیں، مہمان خدا کو ہوا میں لٹکا دیکھ رہے ہو ـ یقین کرو کہ ہم خدا ہیں یعنی تمہارے خالق! تم سب ہمارے اپنے بندے ہو، اب تو اِس دھرتی پہ قدم رکھنے دو ـ ـ ـ اے دیڑھ سو کروڑ کی آبادیوں! جسے تم اپنے دلوں میں یاد کرتے ہو، جس کی خوشنودی کیلئے آدھی رات کو اُٹھ کر عبادت کرتے ہو، جس کے خوف سے تم توبہ کرتے ہو، جسے تم بھلائی کرکے ہمارے اوپر احسان سمجھتے ہو، جسکی تبلیغ کی خاطر رات دن جھک مارتے ہو ـ ـ ـ واللہ، ہم وہی خدا ہیں جس کا نام لیکر تم دوسروں کو ڈراتے ہو، ہمارا نام لیکر مذہب میں لوگوں کو بانٹتے ہو، اپنی عبادتوں کو ہم پر احسان مانتے ہو؟ جسکی قیامت کا تم انتظار کرتے ہو، اپنی دعاؤں میں ہم سے مال و دولت کی اُمیدیں لگائے بیٹھتے ہو ـ ـ ـ ہاں ہم ہی وہ خدا ہیں جو اسوقت ہوا میں اٹکے ہیں ـ

تمام بھارتیوں نے ملکر کہا: بس بہت ہوگیا، اب یہاں کسی کو خدا گیری کرنے کا چانس نہیں ـ صدیوں سے ہم مذہب گیری کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، اب جاکے تھوڑا سکون آیا ہماری نسلوں میں کچھ شعور آیا ـ ہم اپنی بربادی کے خود ذمہ دار تھے یہاں کے فسادوں میں خود ملوث تھے، انسانیت کے نعرے لگاتے تو تھے مگر مذہب کی تلوار کے سائے میں تھے اب ہمارے ہونہار بچوں کا زمانہ ہے اُنکے خیالوں میں نئی روشنی ہے پورا بھارت اب اِنہی کے ہاتھوں میں ہے ـ آج ہم بھارتیوں کو احساس ہوا کہ سچّی آزادی کیا ہے، ساٹھ سال قبل آزاد ہوئے بھی تو دنگے فسادوں کی نظر ہوئے ـ پہلے ہم یہاں اپنوں سے مار کھا رہے تھے اور خود اپنوں کو مار رہے تھے مگر کبھی کسی غیر ملکی کو چھیڑا نہیں اور مدد کیلئے کسی کو پکارا نہیں ـ ہم خود دار بھارتی ہیں بھلے غریب ہیں، چھین کر کھاتے ہیں یا بانٹ کر کھاتے ہیں ـ خود ظالم ہیں کبھی ہم مظلوم بھی ہیں جو ہیں سب اپنے آپ میں ہیں، کبھی کسی ملک سے اُمید نہیں لگائی غریبی کے باوجود غیروں کی بھی بھرپور مدد کی ـ ہم بھارتی ہیں اپنے دیش کے خود خدا ہیں ـ

سبھی بھارتیوں نے خدا سے کہا: چاہو تو اِن مولویوں کو اٹھا لے جاؤ، پادریوں اور پنڈتوں کو بھی پکڑ لے جاؤ، ہمارے نیتاؤں کو بھی کھینچ لے جاؤ ـ ـ ـ  اِن لوگوں نے بہت فساد مچایا، ہمیں آپس میں خوب لڑوایا، ہمارے گھروں کو جلایا، ہمارے چھوٹے بچوں کو ہمارے سامنے کاٹا، ہماری دکانوں کو لُوٹا، عورتوں کی عصمت سے منہ کالا کیا ـ ـ ـ ہمیں بہت ستایا مذہب کے نام پہ بڑی تباہیاں کروائیں ـ ـ ـ مذہب کا نام لیکر ہمیں ڈرایا، ہر دن ایک فتنہ مچایا ـ ـ ـ ہم مذہبی ہونے کے ناطے بڑی صعوبتیں جھیلنی پڑیں مسلمان کو اپنے پڑوسی ہندو سے خوف تھا اور ہندو کو مسلمانوں کے محلّے سے گذرنا عذاب بن گیا ـ ـ ـ پورے بھارتیوں نے روتے ہوئے خدا سے التجا کیا: خدا سے گذارش ہے اِن مولویوں، پنڈتوں اور سیاستدانوں کو اُٹھا لے جائے اور اُن کے بدلے ہمارے لئے ڈاکو بھیجدے چونکہ وہ صرف لوٹتے ہیں مگر ہمیں آپس میں لڑواتے نہیں ـ

ہم بھارتی اپنے مذہبوں سے تنگ آچکے، جینا حرام ہوگیا، چھُپ چھُپاکر بھاگنا پڑا، بچوں کو دودھ کیلئے کرفیو سے گذرنا پڑا، ہم بھارتی خود اپنے بھارتیوں سے خوف کھانے لگے، ہر بات پر ہمیں کیٹگیری میں بانٹ دیا، معمولی نوکری کیلئے بھی مذہب اور ذات کو بہانا بنا دیا ـ ـ ـ ہم کنفیوژ ہوچکے اپنے مذہب پر قائم رہیں کہ اپنے وطن کے قانون پہ ـ ـ ـ بُری طرح دونوں طرف سے صعوبتیں جھیلنی پڑیں، سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اپنا مذہب ترک کریں یا اپنا ملک؟؟؟ ہماری زندگیاں بھیانک ہوگئیں سڑکوں پر صرف نام کو انسانیت کے نعرے لگاتے رہے مگر سچ تو یہ ہے کہ یہاں ہندو مسلمان ایکدوسرے کے خون کے پیاسے ٹھہرے ـ ہم دعائیں کرتے ہی رہے کہ اپنے دیش میں بھلائی ہو مگر کاہے کی بھلائی جبکہ ہم خود تباہی مچاتے رہے ـ سارے جہاں میں ہمارا دیش عجوبہ ہے! یہاں مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں اور ہندو کو کافر بولتے ہیں پھر بھی دیکھ لو، دونوں ایک ہی تھالی میں کھاتے ہیں ـ

شکر ہے آج ہم بھارتیوں کے نوجوان بچے ہر قسم کی زنجیروں سے آزاد ہیں، ایک آزاد دیش میں مزے سے سانس لیتے ہیں اور مذہبوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے ملک کی ترقی میں سب ایکساتھ جُٹے ہیں ـ مائکروسافٹ، یاھو، گوگل، پنٹاگون اور ناسا بلکہ دنیا کی ہر ترقی میں ہمارے بھارتی بچے برابر شامل ہیں ـ اور آج ہمارے باشعور بچے اپنا سینہ تان کر شان سے کہتے ہیں: ہم بھارتی ہیں، کوئی مذہب ہمارے دیش سے بڑا نہیں اور ہم نہ ہندو ہیں نہ مسلمان بلکہ اپنے ملک کے خود خدا ہیں ـ

بھارتیوں کی بات پر خدا نے روتے ہوئے کہا: ارے اب بس کرو ہمیں اور نہ رُلاؤ ـ تم بھارتیوں کی عظمت کو اِس خدا کا سلام جو اِس سارے جہاں کا مالک ہے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

7
Apr

القاعدہ زنانہ گروپ

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

[ یہ خدا ہے ـ 55 ]

کھینچ کر جو انجکشن لگایا، خدا کی چیخیں نکل گئیں ـ پھر اپنے آپ پر زوردار تھپڑ مار کر چلاتے ہوئے فرمایا: ظالموں! بخار تو اُتر گیا، اب کاہے کا انجکشن لگایا؟؟ جنّت کی آب و ہوا میں مست صحتمند رہا کرتے تھے، چند دن دھرتی پہ کیا اُترے کہ پہلے تو جُلاب پھر بخار اب آگے کونسی آفت آنے کو ہے پتہ نہیں!!

صبح صبح خدا سے التجا ہوئی کہ موجودہ حالات پر کچھ اظہارِ خیال فرمادیں ـ پچھاڑا مسلتے ہوئے خدا نے کہا: بھاڑ میں جائیں حالات، انجکشن لگاکر اب ہماری حالت خراب کردی! کرکٹ پر سٹّہ لگانا تو بس ایک بہانہ تھا اور نہ ہی ہمیں کرکٹ کا بخار تھا، پھر آخر یہ کاہے کا انجکشن لگایا؟ خدا کو سمجھایا: آپ پر دوبارہ کوئی بیماری نہ چڑھے، اسی کا انجکشن لگایا ـ

حالاتِ حاضرہ پر بحث کیلئے خدا نے اپنی کھوپڑی کھُجائی اور فرمایا: اماں یار، یہ کون ہے آنٹی شمیم؟ ان بزرگوار خاتون کا کافی چرچا ہے خبروں میں ـ خدا کو بتایا: القاعدہ زنانہ گروپ اور آنٹی شمیم کے درمیان نئے ٹائپ کا جہاد شروع ہوچکا ہے، اور اسکے پیچھے کارفرما مشرف کا ہاتھ ہے اور یہ امریکہ کی چال ہے اور ایسا پاکستانی عوام کا خیال ہے ـ خدا نے کہا: خبردار، جو ہمارے میزبان امریکہ پر اُنگلی اٹھے!! صرف ایران کا فیصلہ ہوجائے پھر خود بخود پورے ساؤتھ ایشیاء کی واٹ لگ جائے گی ـ

خدا سے پوچھا: آخر ایران کے پیچھے ہاتھ دھوکر کیوں پڑے ہو ـ دبئی، سعودی اور قطر میں بہت پیسہ ہے اور ماشاء اللہ گہرائیوں تک تیل کے کھڈے ہیں ـ ہنستے ہوئے خدا نے کہا: میاں، کیوں باؤلی باتیں کرتے ہو، بغیر دھمکائے یہ ممالک پہلے سے اپنا سب کچھ امریکہ کے سپرد کرچکے ـ ـ ـ مگر یہ ایران!! ـ ـ ـ دہاڑتے ہوئے خدا نے کہا: خدا کو خدا کی قسم! جو امریکہ کو نہیں مانتا وہ تباہ ہوجائے!!

مزید فرمایا: امریکہ کو اُسکی میزبانی کی قسم! ہم اُسے اتنے تحائف دیں گے گاؤں گاؤں میں ڈالر کا راج ہوگا ـ ایران، عراق، شام، مصر، سوڈان، پاکستان، افغانستان پر چڑھنے کے بعد پھر بھارت میں اُنگلی کریں گے جہاں سے چین میں گھُسنے کا راستہ بنایا جائے گا!! ـ ـ ـ خدا نے جھٹ سے اپنی اُنگلیاں دانتوں میں رکھلیں: اُوئی ماں ـ اِس چھوٹے سے پیراگراف میں ہم نے بہت سے راز اُگل دیئے!!

خدا سے کہا: آپ تو خدا ہیں، پھر کاہے گھُسانے اور چڑھنے کی بات کر تے ہو ـ آپ کو مظلوموں کی مدد کرنی ہے نہ کہ امریکہ کی میزبانی سے خوش ہوکر خود ظالم بن بیٹھے ـ کاش، خدا اگر ایران کا صدر ہوتا تو پتہ چلتا کہ کیسے پھٹتی ہے ـ مگر خدا کو صرف پھاڑنا معلوم ہے، اگر اُسکی کبھی پھٹتی تو پتہ چلتا کہ پھٹنے سے جسم میں کسطرح آنچ سُلگتی ہے ـ

خدا نے اپنی آنکھیں موند کر کہا: واللہ، ہم معصوم ہیں اور اِن سبھی حالات کے تم انسان خود ذمہ دار ہو ـ کرتے خود ہو اور مدد کیلئے خدا کو یاد کرتے ہو ـ گذرے زمانوں سے روایت ہے ہمیشہ طاقتور بادشاہ ہی فتحیاب ہوتا ہے، تم بھی طاقتور بنو اور امریکہ سے جیت کر دکھاؤ پھر خدا آپکا ہے ـ

خدا نے کہا: یار، اِس گرمی میں ہمارا دم گھُٹ رہا ہے، جی کرتا ہے صرف نیکر اور بنیان پہن کر پارک میں بیٹھ جائیں ـ مگر ہمارے خدا ہونے کا یہ صلہ ملا کہ تم لوگوں نے ہمیں سوٹ بوٹ کے ساتھ ہمارا سر پگڑی میں باندھ دیا ـ پسینہ پونچھتے ہوئے فرمایا: دل کرتا ہے اپنے کپڑے پھاڑلیں ـ خدا سے کہا: بعد میں پھاڑلینا، ابھی آپ کو جامعہ حفصہ کی طالبات سے ملنا ہے جو باہر ڈنڈا تھامے کھڑیں ہیں ـ

خدا نے اپنی پگڑی اُتار ہیلمٹ پہن لی ـ فرمایا: خدا غارت کرے، آج ہی پتہ چلا کہ القاعدہ میں زنانہ گروپ بھی شامل ہے جسطرح امریکہ اپنی آرمی میں خواتین و حضرات کو برابر درجہ دیتا ہے تاکہ کسی بھی حالت میں غیر انسانی حرکتوں سے باز رہیں ـ ابھی تک فلسطین کی خودکش حسینائیں کیا کم تھیں القاعدہ والوں کو بھی نیک خیال آیا کہ جہاد کی خاطر بیوی بچوں کو چھوڑ خودکش حسیناؤں کو ساتھ لیکر چلیں تو گناہ میں شامل نہیں ـ

اپنی جیب سے موبائل نکال خدا نے امریکہ کو ڈائل کرکے بتایا: بھائی دیکھ لے، زنانہ گروپ کا وجود بھی ہے ـ ایسا نہیں کہ عورت پر ہاتھ اُٹھانے کو خدا معیوب سمجھے، واللہ ہم باقاعدہ خدا ہیں اور ہماری نظروں میں عورت و مرد دونوں برابر ہیں ـ زنانہ مجاہدین میں اگر ایشوریہ اور جنیفر لُوپز جیسی ادائیں ہوتیں تو بات کچھ اور ہوتی مگر اِن ڈنڈا بردار خواتین کے جذبات سے ظاہر ہے جیسا کہ وہ خدا کے خلاف ہی جہاد کا اعلان کیا ہو؟

خدا کو پانی پلایا: آپ نہ ڈریں، آپ تو خدا ہیں اور ہر چیز پر قادر ہیں ـ ڈنڈا بردار اِن خواتین پر جہاد کا جنون سوار ہے، اِنکی تعلیم ہی کچھ ایسی ہوئی کہ خون خرابہ لوٹ مار کو بھی نیک کام سمجھتے ہیں ـ اکثر جہاد کے نام پر عام معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ـ ٹرینوں میں، بس اسٹیشن پر، بازاروں میں ہنستے کھیلتے مسکراتے چہروں پر بم پھینک بھاگ جاتے ہیں اور اِسی کا نام جہاد رکھا ہے ـ

اپنے ناخُن دانتوں سے کترتے ہوئے خدا نے فرمایا: اسی لئے ہم نے مجاہدین کا کبھی ساتھ نہیں دیا ـ عام جنتا کو مارنے سے یہ کونسا جہاد ہے؟ اور ایسی تعلیم کیونکر دیجاتی ہے کہ صرف وہی صحیح راہ پر ہیں اور دوسرے غلط؟؟ یقینا یہ پرانے زمانے کے بُڈھوں کی چال ہے وہ اپنے نونہالوں کے ذہن میں ٹھونس دیتے ہیں کہ بیٹا ہم ہی صحیح اور دوسروں کیلئے اپنے دلوں میں نفرت رکھو!! یہ سراسر پاگل پن ہے، خدا کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے بھی، عقل سلیم کے ہوتے بھی، سبھی کو انسان مانتے ہوئے بھی اپنے دل میں برابر ایکدوسرے کیلئے نفرت سُلگائے رہتے ہو ـ

خدا کو بتایا: دانتوں سے ناخُن کترنا گندی بات ہے، خدارا خدا کی طرح رہا کریں ـ اب تک کی سبھی قسطوں میں آپ نے سلیقے سے سمجھایا، بتایا اپنے ہاتھ بھی جوڑے اپنی قدرت کا واسطہ بھی دیا ـ مگر یہ مذہبی سوچ کے ساتھ انسانی فطرت بھی ہے کہ آج کے دور میں کتنی بھی بڑی مقدس کتاب نازل کردیں مگر لوگوں کی سوچ وہی پرانی گھسی پٹی رہے گی اور اُس سوچ سے ہٹ کر دوسرا سوچنے کو گناہِ کبیرہ مانا جاتا ہے ـ اور یہ مذہبی سوچ اتنی مضبوط ہے کہ اگر خدا خود آکر کہے ہم خدا ہیں تو پھر اُسے جوتے کھانے میں دیر نہیں!!

خدا نے جھلاّ کر کہا: اِس سے پہلے کہ ہم پر جوتے پڑیں، یہاں سے فرار ہوجائیں گے ـ دنیا ہم نے بنائی مگر یہ جہاد، فساد، جنگ، نفرت وغیرہ تم انسانوں کا پیدا کیا ہے ـ اور اسے سُلجھانے کیلئے ہماری کھوپڑی میں کوئی طریقہ نہیں ـ تم انسانوں کا ایجاد کردہ مذہب، فرقہ اور ذات تمہیں کو مبارک اب اِس پر لڑتے رہو اور خود قیامت مچاؤ ـ یہ سوچنے کیلئے تمہیں وقت نہیں کہ کس راہ پر جا رہے ہو، وہی پرانی اُمید رکھے ہو کہ صحیح جا رہے ہو ـ اور چلتے رہو مرتے رہو، خوب تباہیاں مچاؤ خود اپنی بربادی کا نظارہ دیکھو پھر آخر میں گِڑگڑا کر پُکارو: یا خدا مدد کر ـ ـ ـ اور خدا مُسکراکر کہے گا: چل حرامی! ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

 مزید روابط

یہ کیسا جہاد ہے \ ڈنڈے مار کر بیان \ خودکش حملوں کی دھمکی \ روشن خیالی کا مکروہ چہرہ \ طالبان کے نقش قدم پر \ جامعہ حفصہ کی تصاویر