Archive for July, 2007

6
Jul

جنت میں باتھ روم نہیں!

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

[ یہ خدا ہے ۔ 57 ]

بیچ بازار میں خدا نے ایک بچے کا کان مروڑ کر پیٹنا شروع کردیا ۔ بچے کا قصور صرف اتنا کہ اس نے خدا کو انکل کہہ دیا ۔ عدالت میں جج نے خدا کو صفائی میں بولنے کو کہا تو خدا نے دانت پیستے ہوئے کہا: بڑے تو بڑے بچے بھی خدا کا مذاق اڑانے لگے، آج انکل کہا اور کل ماموں بول کر چھیڑ سکتا ہے، اسی لئے پیٹا تھا ۔ خدا نے کہا: یہ بچے بھی حد کرتے ہیں، کل ایک اسکولی بچے نے اخبار دکھاکر ہم سے پوچھا کہ عراق میں آج کتنے مرے؟ ایک اخبار میں ٥٧ جبکہ دوسرے میں ساٹھ بتایا ہے ۔ خدا فورا عراق پہنچ گیا شاید کہ بچے کا امتحان ہے ۔ بکھرے پڑے ہاتھ پیروں کی گنتی ہوئی تو ١١٥ تھے جب تن سے جدا سروں کو گنا تو ٤٥ تھے ۔ تنگ آکر خدا نے کہا: بم دھماکوں میں لوگ ایسے چھیتڑے پھاڑے مرتے ہیں کہ انکی صحیح گنتی کرنا بھی مشکل ہے اور یہ بچے بھی عجیب سوالات پوچھتے ہیں جیسا کہ ہم خدا نہیں بلکہ حساب کے ماسٹر ہوں!

لال مسجد اکھاڑے میں خدا برقعہ پہن کر پہنچ گیا جہاں پشتو زبان میں بلند بانگ اذاں پڑھا، پھر بھی طالبان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا البتہ مشرف پوری طرح سجدے میں ڈوب گیا جس کا قبلہ امریکہ کی طرف تھا ۔ اذاں پڑھنے کے بعد خدا نے فرمایا: ہمیشہ عوام کا ہی نقصان ہوتا ہے اور غریب خود اپنا دشمن یہ اپنی موت آپ مارا جاتا ہے ۔ طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے خدا نے فرمایا: تم لوگوں کو شرم نہیں آتی مگر ایکدوسرے کو شرمندہ کرنا خوب جانتے ہو ۔ خدا کے واسطے صرف ایک دن کیلئے اپنے آپ سے شرم کرکے دیکھو تمہارے میں انسانیت جاگ اٹھے گی شاید تم لوگوں کو پھر بھی شرم نہ آئے مگر تمہاری حرکتوں کیوجہ سے الٹا خدا خود شرمندہ ہے ۔

پاکستان میں تازہ واردات پر خدا نے فرمایا: یہ ملک جو اسلام کے نام پہ مانگ کر بنایا تھا مگر آج تک یہاں کسی بھی سرکار نے اپنی عوام کو خوش نہیں رکھا ۔ لوگ روزی روٹی کیلئے بیرون ممالک کا سفر کرتے ہیں پھر واپس اپنے وطن لوٹ آتے ہیں مگر اکثر پاکستانی عوام اپنی سرکاروں سے تنگ پردیسیوں کی زندگی جی رہے ہیں ۔ ابھی بارش کی تباہکاریاں ختم نہ ہوئیں وہ دن دور نہیں جب امریکن لڑاکو طیارے پورے پاکستان پر منڈلاتے نظر آئیں ۔ مشرف کی سپاری لینے سے انکار کرتے ہوئے خدا نے کہا: آفرین ہے پاکستانی عوام جو اپنے صدر کے خلاف کمر کس کر کھڑی ہے، ایک ایسا ملک جس کا صدر اپنی عوام کے خلاف اور عوام اپنے صدر خلاف ۔ عجب اتفاق ہے ۔ خدا نے مسرت کا اظہار کیا: پاکستان جو کل تک جنرلوں زمینداروں اور ملاؤں کا تھا مگر اب یہ پاکستانی عوام کا ہے شاید کہ جمہوریت کی جھلک دیکھ پاتے!

بریانی کا نام سنتے ہی خدا نے تھر تھر کانپنا شروع کردیا حالانکہ وہ بریانی کھانے کا بیحد شوقین تھا ۔ خدا کی آرزو تھی کہ جب بھارت آئے تو گجرات کی تھالی اور حیدرآباد کی بریانی ضرور کھائے ۔ مگر آج بریانی کا نام سنتے ہی اپنے دانت باہر نکالکر کانپنے لگا ۔ ذرائع ابلاغ سے بات چیت کے دوران خدا نے کہا: خدا کا شکر ہیکہ اس جمعہ کی نماز حیدرآباد کی مکہ مسجد میں نہیں پڑھی ورنہ دھماکے میں مرنے والوں کی لسٹ میں شاید خدا کا بھی نام ہوتا ۔ مزید فرمایا: عبادتخانوں میں بم دھماکے تم بھارتیوں کیلئے عام بات ہے، آج مسجد میں بم پھٹا تو سب کو امید ہے کہ چند دنوں بعد کسی مندر میں دھماکہ ہوسکتا ہے ۔ اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا مذہبی لوگ خواہمخواہ ہی دہشت گردوں پر الزام لگاتے رہیں گے ۔ حالانکہ یہ مذہبی لوگ خود ہی ایکدوسرے کی عبادتگاہوں پر حملے کرتے ہیں اور قصوروار بیچارے دہشتگردوں کو ٹھہراتے ہیں ۔ دہاڑتے ہوئے خدا نے کہا: دہشتگرد کوئی اور نہیں بلکہ تم مذہبی لوگ خود دہشت گرد ہو ایکدوسرے کے واسطے ۔

خدا نے اپنے سارے ہاتھ جوڑ کر کہا: توڑو یہ مسجد اور مندر اور بناؤ انکی جگہ نائٹ کلب اور ڈسکو ۔ پھر سب ملکر ایکساتھ ہنسی خوشی ناچو گاؤ اگر اسکی وجہ سے تمہارے میں بے حیائی آجائے مگر شاید تمہارے ذہن مذہب کی منحوس جنونیت سے پاک ہوجائیں ۔ اگر تم مذہبی لوگ انسان نہیں بن سکتے ٹھیک مگر بے حیأ سہی، جسے بننے کیلئے تمہیں زیادہ دیر بھی نہیں ۔ تم مذہبی لوگ باتیں بڑی بڑی کرتے ہو، گلی گلی انسانیت کے نعرے بھی لگاتے ہو جیسے خود کا سودا کر رہے ہو، پتہ نہیں کس کو دھوکہ دے رہے ہو؟ اگر تم لوگ انسان نہیں بن سکتے تو کم از کم خاموشی اختیار کرو مگر خدا کے واسطے ایکدوسرے پر انگلی نہ اٹھاؤ ۔ جسطرح تم نے اپنا مذہب بنالیا اسی طرح ہر ایک کو حق ہے کہ وہ بھی اپنا مذہب بنائے ۔ خدا سب دیکھ رہا ہے، تمہارے خیالات اور سوچ کو خدا بہتر جانتا ہے ۔ تمہاری عجب حرکتوں کو دیکھ کبھی ہنسی آتی ہے اور بہت غصہ بھی آتا ہے ۔ واللہ، ہم باقاعدہ سچ مچ خدا ہیں مگر ہمارا کوئی مذہب نہیں ۔

بھارت میں صدارتی امیدواروں کے بارے میں خدا نے فرمایا: اس ملک میں ہر کسی کو صدر بننے کا حق ہے ورنہ آج بھی کئی ممالک میں خاندانی پرمپرا جاری ہے ۔ بھارت کے موجودہ صدر عبدالکلام کو دوبارہ موقعہ ملے تو یہ اچھی بات ہے چونکہ اس اعلی مقام کیلئے اور بھی لوگ لائن میں کھڑے ہیں جن میں کچھ اس معزز مقام پر پہنچ کر نام او پیسہ کمانا چاہتے ہیں اور کچھ لوگ سچ مچ ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ بھارتی عوام کے ہاتھ میں ہےکہ ان میں سے کس کو اپنا صدر بنائے ۔ خدا نے کہا: شکر ہے پہلی بار کسی خاتون کا نام آیا ہے اور خدا کے نزدیک عورت و مرد دونوں کیلئے برابر مقام ہے ۔

جلسہ میں تقریر کے دوران خدا نے غصہ میں فرمایا: ہم بیوقوف ٹھہرے کہ شادی سے پہلے ہی ابھیشیک اور ایشوریہ کو اپنا آشرواد دیدیا اس امید سے کہ دعوت ملے گی اور ساتھ ہی بھارت یاترا بھی ہوجائے گی مگر افسوس ہماری امیدوں پہ پانی پھیر دیا ۔ حالانکہ شادی کارڈ پر سب سے پہلے خدا کا ہی نام لکھا تھا اور پنڈت ہمارے ہی نام کا منتر پڑھ رہا تھا اور تو اور امیتابھ کئی بار کہہ رہے تھے کہ یہ سب بھگوان کی کرپا سے ہے مگر بھگوان کو دعوت پہ نہیں بلایا ۔ یہ بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں خدا کو بھی اپنی جیب میں رکھتے ہیں ۔

تقریر کے دوران اچانک روتے ہوئے خدا نے کہا: تھوڑی دیر کیلئے کوئی رومال دے، آنسو پونچھ کر ابھی واپس کردیں گے ۔ دراصل خدا کو شلپا شیٹی کے ساتھ رچرڈ گیئر کی حرکت پہ رونا آیا، صرف خدا کو ہی نہیں بلکہ کئی بھارتیہ نوجوانوں نے ایکساتھ رویا تھا کہ ایسا موقع ہمیں کیوں نہیں ملا ۔ جسے ہم صرف خوابوں میں چومتے تھے اور کوئی غیر یہاں آکر کھلے عام ہماری شلپا کو چاٹ گیا اور یہ چما چاٹی کا منظر میڈیا والوں نے بار بار دکھایا اور عوام دانت پیس کر رہ گئے ۔ خدا نے لمبی لعنت بھیجتے ہوئے کہا: لعنت ہے رچرڈ گیئر پر جو یہاں آکر بدنام ہوگیا اور جاتے جاتے بھارتی نوجوانوں کا دل جلا گیا ۔

محفل میں کھڑے ہوکر جب خدا نے سلمان رشدی کو سلامی دیا تو مسلمان سڑکوں پہ اتر آئے کہ سلامی واپس لیں ۔ ایک ایسے شخص کو خدا نے سلام کہا جس نے سرعام مسلمانوں کی دلآزاری کیا تھا اور خدا نے اس ناپسندیدہ شخص کو سلام کرکے مسلمانوں کا دل دکھایا ہے ۔ خدا نے جواب میں کہا: میاں، اسامہ بن لادن بھی ہمیں پسند نہیں جسے تم مجاہد کہتے ہو ۔ تمہارا کوئی آدمی دوسروں کو تکلیف دے تو اسے مجاہد (مذہبی ہیرو) کہتے ہو اور کوئی تمہیں تکلیف پہنچائے تو اسے کافر وغیرہ کہتے ہو! ہاں جی ۔ اچھا مذاق کرلیتے ہو ۔ خدا نے کہا: خدا کی شان دیکھو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت بخشے ۔

ایک آم چکھنے کے بعد خدا نے انتہائی شوق میں آموں سے بھرا ٹوکرا چبا ڈالا ۔ اب خدا کو کیا معلوم اسطرح کثرت سے آم کھانے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ بیچارہ پورے تین دنوں تک اپنا پیٹ پکڑے باتھ روم میں پھنسا رہا، چوتھے دن طبیعت کچھ نارمل ہوئی تو پوچھا: اتنا لذیذ پھل ہماری جنت میں کیوں نہیں اگتا؟ خدا نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا: آج سے آموں کو جنت امپورٹ کیا جائے مگر پرابلم یہ کہ وہاں اپنے پاس باتھ روم نہیں ہے ۔ ۔ جاری

باقی پھر کبھی