Archive for January, 2008

[ یہ خدا ہے ـ 63 ]

آدھی رات کو خدا نے لوگوں کو جگاکر جمع کرلیا، پوچھنے پر بتایا: میاں، ہمیں نیند نہیں آ رہی تو سوچا کیوں نا ایک آدھ بھاشن ہوجائے! لوگ اُونگھتے ہوئے زبردستی خدا کا بھاشن سماعت کر رہے ـ خدا نے مائک پر دہاڑتے ہوئے فرمایا: آج حالات بہت خراب ہوچکے، بھائی بھائی کی مار رہا ہے، ماں اور بیٹی ساس بہو کی طرح جھگڑ رہے، گلی محلّے میں بچوں کے ہنگامے پر ایکدوسرے کے ماں باپ پہلوانوں کی طرح کشتی کر رہے، پہلے لوگ ٹائم بناتے تھے مگر اب ایکدوسرے کی مارنے کیلئے ٹائم ہی ٹائم ہے، کسی سے بھی بات کرلو جھوٹ سننے کو ملتا ہے اور جھوٹ بولنا جیسے عادت سی ہوگئی ہے، دن بھر دو لوگوں سے دھوکہ کھالیا تو بدلے میں پانچ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، صرف ایک سگریٹ کی خاطر کسی کا بھی قتل کرنے کو تیار رہتے ہیں یہاں تک کہ کھانے پینے میں ملاوٹ کو بھی فیشن بنالیا ہے، لوگ اتنے گھٹیا ہوچکے کہ پاخانہ پیشاب کی بھی تمیز نہیں حالانکہ ایکدوسرے کے سامنے چھی چھی کرتے ہیں ـ

اچانک خدا پر جوتے چپل کی بارش ہوگئی، لوگوں نے خدا سے کہا: صبح کے چھ بج چکے اب تو اپنا بھاشن بند کرو اور ہمیں سونے دو! خدا نے کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا بھاشن جاری رکھا: اِن جوتے چپلوں کا شکریہ! تو ہم کہہ رہے تھے لوگ اتنے گھٹیا ہوگئے کہ بھائی بہن میں فرق نہیں رہا، ماں بیٹے میں شرم نہ رہی، باپ بیٹی میں عزّت باقی نہ رہی، شادی بیاہ کو لوگوں نے ٹائم پاس بنالیا ہے آج شادی کی مٹھائیاں تو اگلے ہی مہینے طلاق پر خوشیاں ـ پہلے اولاد کیلئے ترستے تھے اور آج اولاد پیدا نہ کرنے دوائیاں کھاتے ہیں ـ لوگ کنفیوژ ہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں! حالانکہ خود اپنے آس پاس کے ماحول کو ساتھ لئے چلتے جا رہے ہیں ـ کسی کو اپنے مذہب پر یقین نہیں پھر بھی اپنے خاندانی روایت نبھاتے جا رہے ہیں! کسی کو خدا کا خوف نہیں مگر ایکدوسرے کو خدا کے عذاب سے ڈراتے رہتے ہیں ـ اور تم لوگوں میں اتنا کمینہ پن آگیا کہ موقع ملے تو خدا کی بھی مار لیتے ہیں ـ

خدا نے لمبا منہ پھاڑ کر جماہی چھوڑتے ہوئے کہا: صبح کے آٹھ بج گئے، تم لوگوں کی نیّت یہیں سے خراب ہوجاتی ہے، تم لوگ اِس نیّت کے ساتھ صبح اُٹھتے ہو کہ کوئی تمہاری مارلے اِس سے پہلے تم اُسکی مارلو ـ دودھ والے کی، اخبار والے کی، کنڈیکٹر کی اور آٹو رکشا والے کی مارنے کے بعد دفتر پہنچ کر خود اپنی مرواتے ہو ـ ایکدوسرے کو سلام نمستے کہتے ہو پھر پیٹھ پیچھے برائی بھی کرتے ہو، کسی کو کسی سے پیار نہیں سوائے اپنی ذات کے پھر بھی ایکدوسرے کو دیکھ زہریلی مسکان مسکراتے ہو ـ اسکول، کالج، دفتر، اسپتال، کورٹ کچہری اور بازاروں میں ہر جگہ جھوٹ فریب دغا بازی لوٹ مار ـ ـ ـ صبح سے شام تک تم لوگ ایکدوسرے کی مارنے کے بعد تھکے ہارے اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہو اس سے پہلے کہ نیند آجائے گھر میں بھی سب آپس میں ایکدوسرے کی مار لیتے ہو صبح اپنے پڑوسیوں کے آگے پھر شان سے نکلتے ہو حالانکہ یہ بھی اپنوں سے مروا کر بالکونی میں آ کھڑے ہوتے ہیں!!

خدا نے لوگوں سے کہا: آپ کو ہم اور زیادہ بور نہیں کریں گے کیونکہ ہمیں خود نیند بلا رہی ہے! خدا نے افسوس میں کہا: ہمارے خدا ہونے کا کوئی فائدہ نہیں! تم لوگ خدا کو حاضر ناظر جان کر بھی بدکاریاں کرتے ہو پھر دوسروں کے آگے اچھائیاں دکھاتے ہو پتہ نہیں کس کو دھوکہ دے رہے ہو؟ تم سبھی اندر سے گھٹیا ہو پھر بھی دوسروں کے سامنے شان سے نکلتے ہو ـ ـ ـ ہم خدا ہیں سب جانتے ہیں، کوئی ہماری نظر سے بچ نہیں سکتا یہ جانتے ہوئے بھی تم لوگ اپنی مرضی سے چلتے ہو اور دوسروں کو خدا کی مرضی پر چلنے کی تاکید کرتے ہو؟ یہ قرآن، گیتا اور بائبل انسانوں کی عقل سے بڑے نہیں اسی لئے اِن مقدس کتابوں پر ہاتھ رکھ کر تم لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے ہو؟ نہ نماز آتی ہے تم کو نہ پوجنا آتا ہے صرف خدا سے پیسے مانگنا آتا ہے ـ سب کو پتہ ہے کہ خدا آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ کیلئے زندہ ہے مگر خدا بھی نہیں جانتا کہ وہ کب تم لوگوں کی مارلے اور تم دھونڈتے ہی رہو گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے!!

خدا نے کہا: بس ہم یوں ہی ذرا دنیا گھومنے دھرتی پہ آ ٹپکے، تم انسانوں کے ساتھ گھل مل گئے تاکہ ہم میں بھی کچھ انسانیت آجائے ـ ـ ـ صرف چند دنوں کیلئے آئے تھے کہ باتوں باتوں میں ہماری 63 قسطیں ہوگئیں ـ ـ ـ مگر اب نہ یہ قسطیں ہونگی نہ ہم ہونگے ـ ـ ـ ہم جا رہے ہیں، ہم سچ مچ جا رہے ہیں ـ یہ دنیا تم انسانوں کو ہی مبارک، اس دھرتی کے تم خود خدا ہو، تمہیں بارش بھی برسانا آتا ہے، ہوا بھی چلانا آتا ہے، بلاک ہول میں جھانکنا معلوم ہے، مریخ پر اٹھکھیلیاں بھی کھیلنا آتا ہے، جان دینا آتا ہے اور جان لینا بھی آتا ہے، جنگیں لڑنا اور دنیا کو تباہ کرنا بھی معلوم ہے ـ خود مذہب بنالیتے ہو، خود کتابیں گڑھ لیتے ہو ـ ـ ـ تم لوگوں نے خدا کو اُلّو سمجھ رکھا ہے انسانیت کو مذہبوں میں بانٹ رکھا ہے، تمہیں خدا کا خوف نہیں مگر تکلیف میں خدا کو یاد کرنا آتا ہے ـ ـ ـ اب ہم چلتے ہیں جئے رام جی کی خدا حافظ گُڈبائی ـ ـ ـ صبح کے دس بج گئے، انشاء اللہ شام ہونے سے پہلے ہم اپنی جنّت میں ہونگے ـ

خدا نے اُڑن طشتری کے پہیوں میں ہوا بھرلی، فرسٹ گیئر میں لیا ابھی اڑان بھرا ہی تھا کہ دھرتی سے سبھی لوگوں نے ایکساتھ آواز دیا: جاؤ خدا جاؤ، اپنا خیال رکھنا اور فرشتوں کو سلام بولنا ـ یہاں تازہ گرما گرم گاجر کا حلوہ ہے، واہ کیا مزیدار گلاب جامن ہیں، بادام اور دودھ سے بنی قلفی ہے، رس رسیلی جلیبی اور چاکلیٹ کیک بھی ہے، اسٹرابری ملک شیک کا تھنڈا تھنڈا جوس، صبح سویرے دودھ کیساتھ ہورلکس اور بورمیٹا پھر مسالہ ڈوسہ اور اڈلی وڈا، دوپہر میں مچھلی فرائی دال کڑھی کیساتھ باسمتی چاول اور اصلی گھی والے لڈو، شام کو پیاز کی پکوڑیاں اور چائے بعد میں بھیل پوری اور چٹ پٹے کباب کھانے کے بعد رس ملائی اور ونیلا آئس کریم پھر رات کو گرما گرم پراٹھوں کیساتھ چکن منچوری اور لسّی پھر سکینڈ شو ریمبو چار ـ ـ ـ خدا نے کہا: ارے کمبختو! بس کرو ـ دنیا کی یہی چیزیں ہمیں جنّت واپس جانے سے روکتی ہیں ـ خدا نے اڑن طشتری کو ریورس گیئر میں لیا اور واپس دھرتی پہ اُتر آتے ہی کہا: ہم بھی کتنے بیوقوف ہیں کہ بغیر ناشتے کے نکل لئے مگر اگلی بار ہمارا دماغ سٹک گیا تو بغیر بتائے ہی ہم غائب ہوجائیں گے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

[ یہ خدا ہے ـ 62 ]

خدا نے ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کردیا، پوچھنے پر بتایا: تارے زمین پر اُتر آئے ـ اِن تاروں کو ہم صرف پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہیں مگر یہ جاننا ضروری نہیں سمجھتے کہ یہ کیسے جگمگاتے ہیں ـ خدا نے کہا: سبھی لوگ بچوں سے پیار کرتے ہیں مگر اِن کی معصوم ذہنیت کو سمجھ نہیں پاتے ـ ماں باپ اپنے بچوں کو لاڈ کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں! کوئی بچہ اوٹ پٹانگ حرکت کرے تو رشتہ داروں کے مشورے پر اُسے بورڈنگ اسکول میں پھینک دیتے ہیں، ایک معصوم جان کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہے؟ خدا سے پوچھا: مگر یہ فلم دیکھ کر آپ کیوں اتنا رو رہے ہیں؟ خدا نے فرمایا: میاں، ہمیں اپنے بچپن کی معصوم حرکتیں یاد آگئیں، واللہ کتنے بھولے بھالے تھے ہم! ہمارے پاس ایسا کوئی جادو نہیں کہ واپس بچپن میں چلے جاتے! کاش یہ ممکن ہوتا!! خدا کو بتایا: ہاں یہ ممکن ہے، چڈی پہن کر کچھ دیر کیلئے خود کو بچہ سمجھ لیں ـ

دھوم مچالے ـ وونس مور کی چیخوں کیساتھ خدا نے دوبارہ زبردست ٹھمکے لگائے ـ اتنا خوفناک ڈانس دکھایا کہ پورا اسٹیج خراب کردیا ـ دوسرے دن اخباروں نے لکھا: خدا کو ناچ گانے میں ذرا بھی تمیز نہیں، خود ناچا اور نوجوانوں کو بھی ایسے نچایا کہ لڑکیوں کا پاجامہ تک پھٹ گیا ـ خدا نے میڈیا کے آگے کہا: وہاں سبھی لوگ ناچنے میں اتنا مصروف ہوگئے کہ کب کس کا پاجامہ پھٹا پتہ ہی نہ چلا، واللہ ہمارا پاجامہ تک غائب تھا (شاید یہ بھی القاعدہ والوں کی شرارت تھی!) خدا نے افسوس کا اظہار فرمایا: لوگ ناچ گانے میں ایسے مصروف ہوجاتے ہیں اپنا پاجامہ پھٹنے کا احساس بھی دیر سے ہوتا ہے ـ خدا نے میڈیا والوں سے کہا: اگلے سال ہم تھوڑا دھیرے دھیرے ناچیں گے تاکہ نظر رکھ سکیں کون کس کا پاجامہ پھاڑ رہا ہے! پھر خدا نے خود کے کان میں کہا: خدا کی قسم! جب تک ڈسکو میں شریف لڑکیاں آتی رہیں گی ہم اُن کا پاجامہ ایسے ہی پھاڑتے رہیں گے!!

بینظیر کی میّت پر خدا نے رونے کی ایکٹنگ کی، پوچھنے پر فرمایا: یہاں سبھی رونے دھونے کی اداکاری میں ایکدوسرے پر بازی مار رہے ہیں تو ہم کیوں پیچھے رہیں؟ خدا نے افسوس کا اظہار فرمایا: اچھا خاصہ پاکستان بغیر جمہوریت جیسے تیسے آگے بڑھ رہا تھا پھر ایک عورت جمہوریت کی جھلک دکھلانے کیا آئی اب تاقیامت یہ ملک خونین فسادات کی نظر ہوگیا ـ ناک پر ہاتھ رکھے خدا نے پوچھا: یہ سب کیسے ہوا؟ خدا کو بتایا: القاعدہ والوں نے اپنا وعدہ نبھایا اور بینظیر کو مار ڈالا ـ القاعدہ والے وعدے کے پکّے ہیں جو کہا وہ کر ڈالا ـ خدا نے فرمایا: بینظیر کی ہلاکت سے پہلے پچھلی قسط میں ہم نے فرمایا تھا: (اقتباس) “خدا سے پوچھا: پاکستان میں جب مارشل لاء نافذ ہے تو الیکشن کروانے کا مطلب کیا ہے؟ خدا نے جواب دیا: سِمپل سی بات ہے، بینظیر اور نواز کو گھیر لاؤ جہاں پیدا ہوئے وہیں دفناؤ” ـ اپنا کالر چڑھاکر خدا نے کہا: میاں ہم خدا ہیں سب جانتے ہیں ـ

میڈیا والوں سے بات کرتے ہوئے خدا نے کہا: بینظیر کی میّت پر ہم رونے کیا گئے، وہاں دوسروں کو روتا دیکھ ہماری ہنسی نکل گئی، اِس سے پہلے کہ پبلک ہمیں مارتی وہاں سے بھاگ نکلے ـ خدا کو بتایا: کسی کی میّت پر اسطرح مذاق نہیں کرتے ـ خدا نے کہا: میاں، ہم مذاق نہیں کر رہے، واقعی وہاں رونے دھونے کا جیسے مقابلہ چل رہا تھا نواز شریف تو اتنا رو رہا تھا کہ بینظیر کے سگے رشتہ دار بھی اُتنا نہیں روئے ـ چار لوگوں کے پیچھے کھڑا نواز شریف جھانک جھانک کر رو رہا تھا جیسے دیکھ رہا ہو بہن جی ٹھیک سے مری کہ نہیں ـ واللہ، اسکی شکل پر لکھا تھا کہ قاتل کون تھا!! خدا نے کہا: خود پاکستانیوں نے بینظیر کو مار ڈالا، آٹھ سال عیش کرنے کے بعد پھر سے پاکستانیوں پر راج کرنے چلی آئی تھی ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی