Archive for May, 2008
بچّوں نے خدا کو گھسیٹتے ہوئے کلاس روم سے باہر نکال دیا، پرنسپل نے ماجرا پوچھا تو بچوں نے بتایا: خدا کو خدا ہی رہنے دو اِن کو ہمارا اُستاد نہ بناؤ ـ کلاس میں عجیب و غریب سوال کرتے ہیں، کبھی اُسامہ کی شکل میں ڈراتے ہیں کبھی خوفناک گھورتے ہیں جیسے صدّام حسین نے پھانسی پر لٹکتے ہوئے دنیا والوں کو آخری بار گھورا تھا ـ اور تو اور اسکول ختم ہوتے ہی اپنی چمتکاری سے بارش شروع کر دیتے ہیں تاکہ ہم بچے اور زیادہ دیر تک کلاس روم میں بیٹھے خدا کی بکواس سماعت کرتے رہیں ـ ـ ـ آج کلاس میں آتے ہی عجیب سوال پوچھنے لگے “حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کرو گے؟” بھلا ہم بچوں کو کیا پتہ کہ ایسی حالت میں کیا کرنا ہے!! پچھلی کلاس میں پوچھ رہے تھے “ستاروں کی صحیح گنتی بیان کرو؟” جبکہ بُڈھوں کو بھی ستاروں کی گنتی نہیں معلوم ہم بچوں کو کیا پتہ!! خدا سے کہو کہ وہی پڑھائے جو ہماری سمجھ میں آئے ـ
اسکول میدان میں درخت کے سائے میں بیٹھ کر خدا نے مُسکرانا شروع کردیا، واچ مین نے تعجب سے ماجرا پوچھا تو خدا نے بتایا: پاکستانیوں کی سوچ پر سوچ کر ہم مُسکرا رہے ہیں، آج کا دن پاکستانیوں کیلئے قومی دن ہے، اُن کو اپنا آئیڈیل وزیراعظم مل گیا جس کا ہمیشہ سے انتظار تھا ـ وہ جیل میں بیٹھ کر اپنی قوم اور ملک کے بارے میں فکر کرنے کی بجائے اپنے لیپ ٹاپ پر بالی ووڈ کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا تھا ـ بھارتی فلموں کی نقلی سی ڈیز نے پورے پاکستان میں دھوم مچا رکھی تھی مگر اب نئے وزیراعظم کی آمد پر پاکستانیوں کو راحتی نصیب ہوئی کہ یہ اپنے ملک میں پوری آزادی کے ساتھ بڑے پردے پر بھارتی کلچر سے لُطف اُٹھائیں گے جس کا اِنہیں بے صبری کے ساتھ برسوں سے انتظار تھا ـ ـ ـ واچ مین نے کہا: اوہ، آپ بھی عجیب خدا ہیں، پاکستانیوں کی سوچ پر ہنسی آ رہی ہے مگر وہاں پورے بھارت میں تبّتی باشندے اپنی آزادی کیلئے جلوس اور جلسے شروع کر دیئے ہیں ـ ـ ـ
خدا نے فرمایا: میاں، یہ آزادی کیا سڑکوں پہ ملتی ہے؟ آزادی حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ـ سر کٹانا ہوگا، خون بہانا پڑے گا اور جیل کی کال کوٹھریوں میں سڑنا بھی ہوگا شاید پھر بھی آزادی پانا ممکن نہ ہو ـ ـ ـ جب ہزاروں بوسنیائی دفن ہوگئے، لُٹ گئے برباد ہوگئے پھر آزادی کے نام پہ کچھ تو آزادی نصیب ہوئی اور وہاں فلسطینی ہر دن ہزاروں پتھر اسرائیلیوں پر پھینکنے کے باوجود اِنہیں ابھی تک آزادی نصیب نہ ہوئی اُلٹا یہ خود “پتھر پھینک قوم” کے نام سے مشہور بھی ہوگئے ـ پاکستان کو الگ ریاست بناکر وہاں کے لوگ جمہوریت کیلئے آج بھی ترس رہے ہیں ـ اور یہ تبّتی باشندے جو دنیا بھر سے خیرات پاتے ہیں، اپنے کپڑے پھاڑ اور سر کے بالوں کو کاٹ کر کیا خاک آزادی مانگ رہے ہیں!! یہ فلسطینی، اگر یہ صحیح ہوتے تو خدا کی قسم! دیکھ لو آج بھی اِن میں سکون نہیں حالانکہ دنیا بھر سے خیرات کھاتے ہیں ـ اِن لوگوں کو ڈر ہے کہ اگر فلسطین نہ بھی بنے کوئی بات نہیں مگر خیرات تو ملتی رہے گی نا!!
چار دن غیر حاضری کے بعد کلاس روم میں گھُستے ہی خدا نے ڈنڈا گھُماتے بچوں سے پوچھا: سچّی سچی بولو کہ تم مصیبت میں کس کو پکارتے ہو؟ سبھی بچوں نے کہا: خدا کو ـ خوش ہونے کے بعد خدا نے کہا: شاباش! مگر ایک بچے نے کہا: میں اپنی ماں کو پکارتا ہوں ـ خدا نے اُس بچے کے ہاتھوں پر ڈنڈے سے گرم گرم پکوڑیاں رکھنے کے بعد کہا: بدتمیز! ہم کیا اُکھاڑنے کیلئے ہیں کہ تم اپنی ماں کو پکارتے؟؟؟ بچّے نے کانپتے ہوئے کہا: ایک مرتبہ میں بہت مصیبت میں تھا، خدا کو کئی بار پکارا وہ نہیں آئے مگر اپنی ماں کو صرف ایک بار ہی پکارا کہ وہ دوڑی چلی آئی ـ تب سے آج تک ہر بار میں اپنی ماں کو ہی پکارتا ہو اور وہ ہر بار دوڑی چلی آتی ہے ـ ـ ـ خدا نے شرمندگی چھپاتے کہا: تھوڑا اُونچا پُکار لیتے چونکہ ہم دور رہتے ہیں نا!!!
بلاک بورڈ پر لائن کھینچ کر خدا نے کہا: بچّو! یہ ایک طرح کا میزائل ہے، صرف ایک بٹن دبائیں تو سیدھا ایران پر ـ بچوں نے تالیاں بجاکر کہا: ذرا بٹن دبائیں تو دیکھیں!! خدا نے کہا: نہیں نہیں، ابھی تک امریکہ کی طرف سے ہمیں آرڈر نہیں ملا!! بغیر اجازت ہم اتنا بڑا رِسک نہیں لے سکتے ـ ـ ـ بلاک بورڈ صاف کرکے خدا نے ایک اور چھوٹی لائن کھینچ کر کہا: بچّو! یہ ہے ایرانی میزائل، صرف ایک بٹن دبائیں تو سیدھا اسرائیل پر ـ بچوں نے تالی بجاکر کہا: ذرا بٹن دبائیں تو دیکھیں!! خدا نے کہا: جب امریکہ حکم دے تبھی ـ ـ ـ پھر بلاک بورڈ پر ایک انڈا بناکر خدا نے کہا: بچّو! یہ ہے سب سے بڑا آٹم بم! جسے رشیاء نے ایجاد کیا، صرف ایک بٹن دبائیں تو پوری دنیا پر ـ بچوں نے تالیاں بجاکر کہا: ذرا بٹن دبائیں تو دیکھیں!! خدا نے ڈانٹتے ہوئے کہا: اماں یار، تم بچوں کو جیسے مذاق لگ گیا ہے، امریکہ سے اجازت ملے تبھی ہم بٹن دبائیں نا ـ
خدا نے بچوں کو پچھلی رات اپنا ڈراؤنا خواب سُنایا: کیا دیکھتے ہیں کہ اُسامہ بن لادن ہماری چھاتی پر بیٹھا ہمارے اُٹھنے کا انتظار کر رہا ہے، ہم بھی اُس کو دھوکے میں بٹھائے سوتے ہی رہے چونکہ کیا معلوم اُٹھتے ہی وہ ہماری خیریت پوچھ لے!! جب برداشت نہ ہوا تھوڑی سی کروٹ بدل لی پھر پتہ چلا کہ لاحول! ہم دل ہی دل میں مُسکرا لئے کہ یہ تو خواب تھا ـ دنیا میں اتنے سارے لوگ ہیں مگر کمبخت اُسامہ کو ہمارے ہی خواب میں آنا تھا؟ اگلی بار وہ ہمارے خواب میں آئے تو خوب پٹائی کرنے کے بعد امریکہ کے حوالے کردیں گے ـ حقیقت میں اُسامہ کو پکڑ نہ سکے لیکن خواب میں سہی!! بچوں نے خدا سے پوچھا: پھر کیا ہوا؟ خدا نے بتایا: میاں، ہونا کیا تھا، اُسامہ کو دھونڈنا ہے جس کیلئے امریکہ سے ہمیں تنخواہ ملتی ہے ـ ـ ـ خدا نے خود اپنے ہی کان میں کہا: “دنیا کو کیا معلوم کہ ہم خود اُسامہ ہیں!!”
آج اسکول کے “فائنل ڈے” پر بچوں نے میدان میں مترنم آواز سے نظمیں پڑھنا شروع ہی کیا تھا خدا نے مائک چھین کر بچوں سے کہا: بس بہت ہوگیا اب بیٹھ کر ہمارا فائنل بھاشن سماعت کرو ـ ـ ـ خدا نے اپنے سارے کے سارے ہاتھ پھیلاتے مائک پر کہا: پیارے بچو! کل سے تمہیں دو مہینے چھٹی ہے، تم اِس کلاس سے اُس کلاس چلے جاؤ گے اور اُس کلاس والے اِس کلاس میں آجائیں گے مگر ہر کلاس میں ہم تمہارا پیچھا کریں گے ـ ہم جانتے ہیں کہ تم بچوں کو ہماری اُستاد گیری پسند نہیں، ہماری عجیب و غریب باتیں تمہارے پلے نہیں پڑتیں، پوری کلاس میں تم یہی سوچتے رہتے ہو کہ کب گھنٹی بجے اور خدا سے نجات ملے ـ ـ ـ یقین جانو، ہماری باتیں ایسا نہیں کہ بالکل سمجھ ہی نہ آئے ـ خدا کی قسم! ہماری باتوں پر دماغ کھپانے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ہم کھُل کر کلام کرتے ہیں ـ
ایک بچے نے جماہی کھینچتے پوچھا: خدا کیلئے صرف اتنا بتا دیں اور کتنے ٹائم کا بھاشن ہے؟ خدا نے اُس بچے کو پاس بلایا اور گول گول گھُماکر دور پھینکنے کے بعد فرمایا: واللہ، آج ہم بولیں گے اور اپنے من کی ساری بھڑاس اُتاریں گے! کیونکہ اگلے دو مہینے تک تم بچوں کو گرما کی چھٹی ہے ـ خدا نے اپنے سارے ہاتھ آسمان کی جانب اُٹھاکر فرمایا: یقین کرلو کہ ہم خدا ہیں اور اِس سارے جہاں کے ایک اکیلے اور تنہا مالک ہیں ـ کسی کیلئے بھگوان ہیں، کسی کیلئے عیسی اور موسی، اور کہیں رام کے نام سے پکارے جاتے ہیں تو کہیں رحیم کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ـ مسلمان لوگ ہندوؤں کو تباہ کرنے کیلئے ہم سے دعائیں کرتے ہیں، ہندو لوگ مسلمانوں کو برباد کرنے کیلئے ہماری پوجا پاٹ کرتے ہیں اور وہاں عیسائی لوگ ہندو مسلمان کو لڑوانے کیلئے خدا کو مہرہ بنانے میں مصروف ہیں ـ
خود انسان انسانیت کا دشمن رہا، انسان انسانیت کیلئے شیطان نکلا، انسان انسایت کیلئے مذہب بنا دیا، انسان انسانیت کو فرقوں میں بانٹ دیا، خود انسان انسانوں کیلئے آسمان جاکر کتابیں اُتار لایا ـ ـ ـ خدا نے آئس کریم والے کو پکڑ کر خوب پٹائی کرنے کے بعد کہا: میاں، ہم اتنا زبردست بھاشن پڑھ رہے ہیں اور تم ہو کہ بچوں کے بیچ میں پھیرے لگاکر “آئس کریم آئس”کی صدائیں لگا رہے ہو؟ آئس کریم والے نے کہا: صرف تھوڑی سی بچ گئی ہے آج کا خرچ نکل جائے گا ورنہ کل کی طرح میری فیملی کو پھر سے فاقہ کرنا ہوگا! خدا نے آئس کریم والے کو کان پکڑ میدان سے باہر نکال دیا پھر اپنا بھاشن جاری رکھتے فرمایا: تو ہم فرما رہے تھے، آج کئی صدیوں بعد ہم زمین پر اُترے تو ہیبت میں پڑگئے، یہاں تو انسانوں کا جنگل ہے! ہر شکل ہر کلر میں مختلف زبانوں کے عجیب و غریب عقیدوں کے کروڑوں انسان ایکدوسرے کی خوب مار رہے ہیں اور مارنے سے پہلے خدا کا نام بھی لے رہے ہیں ـ کسی نے خدا کو سولی پر چڑھا رکھا ہے، مندروں میں عجب شکلیں بنا رکھی ہیں، مسجدوں میں خالی خالی سجدے ٹھونک رہے ہیں!!
چھاتی پیٹ کر خدا نے کہا: خدا کو اپنے وجود کی قسم! تم انسانوں کی اِن عجب حرکتوں کو دیکھ ہماری تمام آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، دل نے چاہا ایک ہی سکینڈ میں اِس دنیا کو نیست و نابود کردیں ـ ـ ـ یہ تو اچھا ہوا کہ امریکہ نے ہمیں اپنا سرکاری مہمان بنالیا ورنہ ہم تو جاپان میں وکیشن کرنے والے تھے کیونکہ وہاں باتھ روم میں بھی الیکٹرونک ہاتھ ہے ـ ویسے بھی ہم جنّت سے آئے ہیں وہاں سب کچھ آٹومیٹک سسٹم ہے ـ ـ ـ دُکھ بھرے انداز میں خدا نے فرمایا: جب ہم ننھے منّے تھے جنّت کے باغوں میں کھیل رہے تھے، ہمیں نہ باپ نظر آیا نہ ماں ـ ہم خود سے باتیں کرنے لگے نئے خیالات اُبھرنے لگے ـ اپنے پاس کرنے کوکچھ نہ تھا اسلئے سوچتے سوچتے احساس ہوگیا کہ ہم خود “خدا” ہیں ـ پھر یہ جہاں بنایا، کتّے بلّی ڈائناسورس کے علاوہ مختلف جانور بنا ڈالے، عجیب و غریب مخلوق کے علاوہ غلطی سے انسان کو بنا ڈالے ـ ـ ـ
ـ ـ ـ خدا نے کہا: انسان نے ہماری ہی مارنا شروع کردی، کمبخت کو زمین پر پھینکنا پڑا ورنہ کیا معلوم یہ اگلے ہی پل ہمیں ہٹاکر خود “خدا” بن بیٹھے!! یہاں تو مزید حیرانگی ہے، دنیا بھر کے انسان ایکدوسرے پر خدا بننے کیلئے بیتاب ہیں ـ ایکدوسرے کو خدا کے نام پر ڈراتے ہیں مگر خود کے دل میں خدا کا ذرا ڈر و خوف نہیں ـ ایکدوسرے کے مذہب پر کیچڑ اُچھالنے کی فرصت ہے مگر خود کی اوقات جاننے کی ضرورت نہیں سمجھتے ـ ایکدوسرے کے مذہب کو ایسا نفرت کرتے ہیں جیسے پیشاب پاخانہ لگے! کہنے کو سارے کے سارے خود کو انسان کہتے ہیں مگر نفرت بھی انسانوں سے ہی کرتے ہیں! شاپنگ مالس میں مذہب دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عبادت خانوں میں جاکر ایکدوسرے مذہبوں کے خلاف بیانات سنتے ہیں ـ بازار میں ایکدوسرے کے پاس سامان خریدتے ہیں ایکدوسرے کے ریسٹورنٹ میں کھانا بھی کھاتے ہیں، سنیما گھر میں سب ساتھ ملکر بیٹھتے ہیں یہاں نفرت نہیں مگر پھر اپنے عبادتخانے جاکر نفرت کیوں جگالیتے ہیں؟؟؟
ـ ـ ـ مگر تم انسانوں کو خدا کا سلام جو خود اپنی مرضی کا اپنا الگ خدا بنالئے ـ اپنی پوجا پاٹ اور عبادات کیلئے عجب طریقے اختیار کرلئے، اپنے بچوں کو پیدائشی ہندو مسلم کا فرق رٹا دیئے، یہیں سے نفرت کی چنگاری سُلگا دیئے، پڑھائی لکھائی میں بھی نفرت کے اسباق بھر دیئے ـ ـ ـ اپنے تمام ہاتھوں سے چہرہ چھپاکر روتے ہوئے خدا نے کہا: ہمیں پتہ ہے کہ ہماری قسطیں عجیب و غریب اور بکواس بھی ہیں مگر ایسا نہیں کہ سمجھ سے باہر ہیں، اتنا آسان اور اتنا پاک و صاف ہم پہلی بار بول رہے ہیں! تاکہ سمجھ نہ آنے والوں کو بھی سمجھ آ جائے ـ یہ تو سیدھا سادھا کلام ہے ـ ہم کسی کو بھڑکا نہیں رہے، کسی کے مذہب کو جھٹلا نہیں رہے، کسی کی تضحیک اور تعریف نہیں کر رہے مگر ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہندوؤں کو تباہ کرنے کیلئے مسلمان کیوں دعائیں کرتے ہیں اور مسلمانوں کو برباد کرنے کیلئے ہندو لوگ کیوں بیقرار ہیں؟ حالانکہ تم دونوں سب سے پہلے خود کو انسان بھی کہتے ہیں!! تمہارے باپ داداؤں کے زمانے میں کچھ دھام نہیں تھا، یوں بیٹھے بیٹھے تمہیں فرقوں میں بانٹ کر تاحیات تمہارے دلوں میں نفرت قائم کر چلے گئے ـ
خدا نے بچوں سے کہا: آج اس اسکول کے میدان میں سبھی مذاہب کے بچے ایک ساتھ بیٹھے ہیں، تم معصوم بچوں کو اپنے مذہب کا ذرا بھی نہیں پتہ، تم اپنے معصوم دماغوں میں یہی سوچ رہے ہو کہ کب خدا کا بھاشن ختم ہو اور اپنے گھروں کو بھاگیں کھانا کھاکر کھیلیں کودیں موج کریں ـ پھر بڑے ہوجاؤ گے، تمہاری معصومیت ختم ہوجائے گی، اپنے بچپن کی یاری بھول کر ایکدوسرے کی مارو گے، اپنے مذہب کا غصّہ ایکدوسرے کی دکانوں کو جلاؤ گے، گھرو میں گھس کر عورتوں سے ہاتھا پائی کرو گے ـ ـ ـ قانون کو مجبورا کرفیو لگانا پڑے گا، بچوں کیلئے دودھ ملنا مشکل ہوجائے گا، سبزی ترکاریوں کے دام بڑھیں گے، ہندو کو اپنے پڑوسی مسلمان سے خوف ہونے لگے گا اور مسلمان کو ہندوؤں کے محلّے سے گذرنا عذاب بن جائے گا ـ
کسی نے خدا کو بتایا: جلدی چلو، جئے پور دھماکوں میں کئی لوگ ٹپک گئے ـ کسی اور نے بتایا: چین میں بے چینی پھیل گئی ہے، زلزلے نے کئی چینیوں کو بے چین کر رکھا ہے ـ خدا نے آرام سے فرمایا: میاں، ہمارے پاس ٹائم نہیں کسی اور خدا کو لے چلو، مندر میں گھنٹا بجاؤ، مسجد میں سجدہ ٹھونکو، گرجا گھر میں گھُٹنے ٹکاؤ یا پھر ایک اور نئے خدا کو بناکر مدد مانگ لو ـ ـ ـ خدا کو یاد دلایا: آپ تو حقیقی خدا ہیں ہر مصیبت میں آپ ہی کام آتے ہیں ـ خدا نے چِڑ کر کہا: میاں، ہم کوئی ٹیکسی ڈرائیور نہیں کہ جہاں بلاؤ چل دیئیں، ویسے آجکل کے ٹیکسی ڈرائیورس بھی بڑے کھڑوس ہیں وہیں چلتے ہیں جہاں اِنہیں جانا ہو ـ اور ہم تو خدا ہیں ہماری بھی کچھ ریسپکٹس ہوتی ہے ـ خدا نے فرمایا: یہ خوش آئند بات ہے کہ بھارت نے اپنے پڑوسی ملک چین کیلئے پچاس لاکھ ڈالر کی امداد بھیج دی ہے ـ سچ یہی ہے کہ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے اور انسان ہی انسان کیلئے شیطان ہے ـ
خدا نے غصّے میں بڑ بڑاتے کہا: ٹرین اور پلین میں بیٹھنے کیلئے کوئی مذہب نہیں، ایکدوسرے کے ریسٹورنٹ میں کھانے کیلئے کوئی مذہب نہیں، بس اور سنیما گھر میں سبھی ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں، ڈسکو میں سب ایک ساتھ ہنسی خوشی ڈانس کرتے ہیں یہاں تک کہ خلا میں سیٹیلائٹ داغنے کیلئے سبھی مذاہب کے لوگ چلے آتے ہیں ـ سبھی کیلئے رات اور دن مقرر ہیں، سبھی کو بھوک لگتی ہے، سبھی کو بیوی بچے ہوتے ہیں، سبھی کے ہاتھ پاؤں اور سامان ہوتا ہے ـ سبھی سوچتے ہیں سبھی سمجھتے ہیں سبھی کو معلوم ہے کہ وہ انسان ہیں مگر یہ سوچنے کی ہمّت ہی نہیں کہ آخر کیوں ہم لوگ مذہبوں میں بٹے ہوئے ہیں! خدا نے پوچھا: کس شیطان نے تمہیں مذہبوں بانٹ رکھا ہے، کس کمبخت نے تمہیں جنّت میں حوروں کا خواب دکھایا ہے؟ واللہ، اُسکا نام بتاؤ ہم اُس کو ابھی قبر سے نکال کر خبر لیں گے!!
روتے ہوئے خدا نے کہا: ہمیں معلوم ہے کہ ایسے عجیب بھاشن پر تمہاری کھوپڑیاں سٹک بھی سکتی ہیں، ہمارے خلاف جلوس و جلسے شروع ہوسکتے ہیں اور ہمارے نام کا فتوی بھی جاری ہوسکتا ہے یا پھر خدا کو تسلیمہ اور سلمان رشدی کا طرفدار بھی قرار دیا جاسکتا ہے ـ مگر یاد رکھو! ہماری باتیں تمہیں سچ بھی لگے مگر اِس سچ کو ہضم نہیں کر پاؤ گے کیونکہ تمہیں اپنی سوسائٹی میں ناک اونچی رکھنی ہے، یا پھر ہماری طرح باتیں کرو تو لوگ تمہیں پاگل، کافر اور دہشت گرد وغیرہ نام رکھ دیں گے ـ ـ ـ خدا کی قسم! کوئی خدا کی طرح بولے وہ بالکل سچّی باتیں ہیں، ہماری اوٹ پٹانگ باتوں پر سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں ہاں البتّہ فورا بڑھک اُٹھوگے کیونکہ ایسا کلام تم نے پہلے کبھی نہیں پڑھا ـ
خدا نے اپنے سارے ہاتھ پھیلاتے فرمایا: پیارے بچو! جیسا کہ جئے پور میں ایک مندر کے پاس بم پھٹے تھے، اب دیکھنا کچھ ہی دنوں بعد کسی مسجد کے پاس ایسے دھماکے ہوں گے پھر اُسکے بعد کسی اور مندر کے پاس پھر بم پھٹیں گے اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا ـ آج تم بچے جب بڑے ہوجاؤ تم بھی اِن دھماکوں میں شامل ہوجاؤ گے ـ ایک ساتھ کھیلنے کودنے والے بڑے ہوکر ایکدوسرے سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرو گے ـ کہنے کو ہندو مسلم بھائی بھائی پکارو گے، کہیں دور بم پھٹ رہے ہونگے ہندو ملسم ایکدوسرے کی خوب مار رہے ہونگے ـ تم کسی کا گھر جلا رہے ہو اور تمہارا گھر کوئی اور جلا رہا ہے ـ یہ صرف اور صرف نفرت کا کھیل ہے جو تم نے اپنے مذہب سے سیکھا ہے ـ سچ تو یہ ہے کہ مذہب نفرت نہیں سکھاتا مگر مذہبی ہونے پر خود نفرت پیدا ہوجاتی ہے ـ ـ ـ پیارے بچو! تم نئی پیڑھی ہو، اپنے باپ داداؤں کی طرح آپس میں مذہبی بن کر نہ لڑو بلکہ انسان بن کر انسانیت کے دوست بنو ـ تم بھی خوش دوسرے بھی خوش اور ہر جگہ امن ہی امن ـ تم انسانوں کی عقل سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں اپنی عقل سے کام لو مذہبی سوچ سے نہیں ـ ـ ـ گھنٹی بجتے ہی سب بچے کھڑے بھاگنا شروع کر دیا، جاتے جاتے ایک شریر بچے نے خدا کو چھیڑا: اگلی قسط میں اور کونسی بکواس چھاپو گے؟ خدا نے غصّے میں کہا: گھوڑا چھاپ دیں گے یا پھر تمہارے باپ کو ہی چھاپ دیں گے، خدا کی مرضی کچھ بھی چھاپ دیں گے ـ بدمعاش بچے! تم واپس اسکول آؤ ہم تمہیں کلاس روم میں دیکھ لیں گے ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی