Archive for October, 2008

31
Oct

میرے چاند کے تکڑے

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

[ یہ خدا ہے ـ 68 ]

چاندنی رات میں بچوں کو چندا ماما کے متعلق خدا نے کہا: ہمیں معلوم ہے آج کے بچے بڑے ہوکر انجینئر، ڈاکٹر، ہیڈ ماسٹر بننے کی بجائے چندو، چندا بننے کا خواب سجائے ہوئے ہیں ـ آج ہر کوئی چاند پر اپنی چھت بنانے کی سوچ رہے ہیں ـ حالانکہ کسی کو اپنی زندگی کا نہیں پتا کہ کب خود کی سیٹی بجے گی ـ لوگ کل کیلئے پیسے جمع رکھتے ہیں کہ کہیں بھوکے نہ مریں مگر رات کو ہی ٹپک جاتے ہیں ـ انسانوں نے زمین کو گندہ کر رکھا ہے اب چاند اور مریخ پر بھی خرافات کرنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں ـ

پاکستان نے کہا: اگر ہماری ایسی اوقات ہوتی تو پورے چاند کو گرین کلر میں رنگ آتے ـ
مسلمانوں نے کہا: اب رمضان کے روزے اور عید کیلئے کس کا منہ دیکھیں؟ ـ
عرب ممالک نے کہا: ہماری تاریخ کی ماں بہن ایک ہوجائے گی! ـ
جاپان نے کہا: ہم ایک اور چاند بنانے والے ہیں ـ بٹن دباؤ تو عید کا چاند نظر آجائے ـ
بھارت نے کہا: شکر ہے، ہم نے اپنی چادر سے آگے پیر پھیلا چکے ہیں ـ
ایران نے کہا: اُمید ہے، اِس چاند دوڑ میں امریکہ ہم پر حملہ کرنا بھول جائے ـ
رشیاء نے کہا: وہاں چاند پر پہلے سے تالا پڑا ہے اور کُنجی امریکہ کے پاس ہے ـ
چین نے کہا: مگر ایک نقلی کنجی ہمارے پاس بھی ہے ـ
یوروپ نے کہا: کیوں نہ چاند کو حصوں میں بانٹ لیں، پھر طاقت کے زور پر ایکدوسرے کے حصّے پر جھپٹا مارتے رہیں ـ
بنگلہ دیش نے پوچھا: چاند پر اگر طوفان کےآثار نہیں تو ہم جلسے جلوس کیلئے آتے جاتے رہیں گے ـ
اسرائیل نے بتایا: سبھی ممالک کی خواہشوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہم مریخ کواپنا  آشیانہ بنانے کی سوچ رہے ہیں ـ
لالو پرساد نے اُمید سے کہا: پہلی قسط میں ہم چاند پر جائیں گے اور دوسری ہی قسط میں اپنی بھینسوں کو بھی اُتارلیں گے ـ
بال ٹھاکرے نے کہا: چاہے ہم چاند پر بھی بیٹھ جائیں مگر بنگلہ دیشیوں پر خاص نظر رکھیں گے ـ
افغان پٹھانوں نے کہا: ہم لوگ بہت پہلے ہی چاند پر خواب میں اُتر چکے ہیں ـ
اُوباما نے خیال ظاہر کیا: اپنی جیت کا جشن چاند پر منائیں گے ـ
سعودی ولی عہد نے کہا: پیٹرول، ڈیزل کیلئے بشرط یہ کہ چاند پر بھی ہماری بیویوں کا انتظام ہونا چاہیئے ـ
مولوی حضرات نے خوشی کا اظہار کیا: اب آئندہ عید کے چاند کیلئے ہمارا آپسی جھگڑا ختم ہوجائے گا ـ
سونیا گاندھی نے اعلان کیا: کانگریس کے سبھی لیڈران کو سالانہ چاند پر چھٹیاں منانے کا انتظام کیا جائے گا ـ

خدا نے جھلّاکر کہا: ارے بس بھی کرو  کمبختو ـ ـ سب ملکر چاند کی ماں بہن کرنے تُلے ہوئے ہو؟ اگر ایک ایک کرکے سبھی انسان چاند پر چلے گئے تو وہاں بھی سرحدیں بنالو گے پھر اونچ نیچ ذات پات کہیں مندر کہیں مسجد وہاں بھی فساد مچاؤگے ـ

خدا نے کہا: انسانوں کو دنیا میں کیا بسایا، یہاں تو سرحدیں بنالئے، انسان فرقوں میں بٹ کر مذاہب بنالئے، اپنا دین، اپنی مقدس کتابیں اور مقدس عمارتیں ـ آپس میں ایسے بھِڑ گئے کہ انسان انسان کو کاٹتا ہے انسان انسان کو بیچتا ہے اور انسان انسان سے ڈرتا بھی ہے ـ

خدا نے فرمایا: زمین پر اتنا گند پھیلا رکھا ہے کہ کہیں بھی سکون نہیں ـ ٹھہر ٹھہر کر بارش کی طرح بم دھماکے، فساد کرفیو، لوٹ مار ـ اب یہ گندے کام کرنے کیلئے تم انسان چاند پر ڈورے ڈال رہے ہو؟ دنیا کو برباد کر دیا مگر چاند کو تو بخش دو ـ جاری

باقی پھر کبھی

20
Oct

آج کی تازہ خدائی

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

[ یہ خدا ہے ـ 67 ]

لافٹر شو میں پہلی بار چیف گیسٹ خدا نے آتے ہی کھلکھلاکر ہنسنا شروع کردیا، ماتھا پیٹا جبڑے پھاڑ لئے ـ آرگنائزرس نے خدا کو کئی بار روکا ٹوکا مگر وہ ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ کر لوٹ پوٹ ہونے لگے ـ بالاآخر سیکوریٹی کے ذریعے زبردستی خدا کو اسٹوڈیو سے باہر پھینکنا پڑا مگر یہاں بھی چھاتی پیٹ کر ہنسنے لگے ـ گلا سُوکھا خدا نے ہنسنا بند کردیا ـ جب میڈیا والوں نے ماجرا پوچھا تو فرمایا: میاں، آج ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ خوامخواہ ہنسنے میں سدّھو کا ریکارڈ توڑیں گے اور ہم جیت گئے ـ

وہائٹ ہاؤس کے گیٹ پر پہنچ کر خدا نے درباریوں سے کہا: دروازہ کھُلا رکھو کیونکہ اُوباما کبھی بھی وارد ہوسکتے ہیں ـ
سچِن کے نئے ریکارڈ پر شاباشی دیتے خدا نے کہا: بندہ ریکارڈس کا بھی ریکارڈ توڑ دیا، تعجب ہے! ہم بھی ایک بار ریکارڈ توڑنے ہی والے تھے کہ لبنان میں خود اپنی ہی ٹانگ تُڑوا بیٹھے مگر اب ایران میں ایسا نہیں ہوگا ـ
ہمیش ریشمیا کے قرض کا مذاق اُڑاتے خدا نے فرمایا: یہ قرض، ایسا نہ ہو کہ خود کیلئے بہت مہنگا پڑ جائے ـ
جب امیتابھ کو اسپتال سے چھُٹی ملی تو خدا نے حیرت سے پوچھا: یہ کتنے دنوں کی چھٹی ہے؟؟

بھارت کی آبادی پر خدا نے تعجب سے فرمایا: بچے دو ہی اچھے کا نعرہ لگانے والا ملک آج غیر ملکیوں کی بھرمار سے چُپ خاموش کیوں ہے؟ خود بھارتیوں کو نہیں پتہ کہ یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بیچ گھوم رہے ہیں! مزے کی بات یہ کہ اِن غیر ملکیوں کو بھول کر سبھی بھارتی آپس میں ایکدوسرے پر شک کی نظر رکھنے لگے ہیں ـ اور ملک کی سرکار کے بارے کیا کہنا، دہشت گردوں کے نام پر خود اپنوں کو لیکر جیل بھر رہی ہے ـ یوں ترقی کرنے والے بھارتی، ترقی کے نام پر خود اپنوں سے لُٹ رہے ہیں اور لوٹ رہے ہیں اور غیر ملکی یہاں عیش کر رہے ہیں ـ

اڑیسہ میں عیسائیوں کی موت اور آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو جلانے پر خدا نے اپنا شک ظاہر کرتے فرمایا: ضرور یہ بھیڑیوں کی چال ہے جو انسانوں کے بھیس میں انسانوں کے بیچ ہی رہتے ہیں ـ اور اِن بھیڑیوں کو پہچاننا نہایت آسان ہے کیونکہ یہ کٹّر مذہب پرست ہوتے ہیں خود بھائی چارے کا نعرہ مارتے ہیں اور انسانوں کو خود چراتے ہیں ـ اور آخر میں ہندو، مسلم اور عیسائیوں کے بیچ نفرت پیدا کر دور بیٹھ تماشہ دیکھتے ہیں اور مزے کی بات ہے بعد میں خود مدد کیلئے بھی پہنچ جاتے ہیں ـ انڈین مجاہدین، بجرنگ دل، شیوسینا، بی جے پی اور کانگریس وغیرہ سبھی میں یہ بھیڑیئے پائے جاتے ہیں ـ

کشمیر میں پہلی ٹرین سروس کے بارے خدا نے دہشت گردوں سے کہا: مبارک ہو، اب بم رکھنے کیلئے نئی جگہ بھی مل گئی ـ
بھارت میں بڑھتے انکاؤنٹر پر خدا نے فرمایا: پولیس والوں کو اپنی تنخواہ کا احساس ہونے لگا ہے، یوں بیکار بیٹھنے سے عوام کی اُٹھتی اُنگلیوں نے پولیس والوں کو انکاؤنٹر اسپیشلسٹ بنا دیا ہے ـ
پرائیویٹ ٹیلیویژن چینلس میں بڑھتے ریئلٹی شوز پر خدا نے کہا: اب ریئلٹی شو میں بچوں کو بلاکر نچانا پھر انہیں رُلانا بھی پیسہ کمانے کا پیشہ بن گیا ـ
ٹاٹا نینو پر ترس کھاتے خدا نے فرمایا: غریبوں کو اتنا نہ ترساؤ کہ یہ سستی کار پر بھی ترس نہیں کھاتے ـ غریبوں کو سستی کار دی جا رہی ہے یا ترسایا جا رہا ہے؟
ایئر انڈیا سے بھی ہزاروں کرمچاریوں کو نکال باہر کرنے کی خبر پر تبصرہ کرتے خدا نے صرف اتنا کہا: اُمید ہے اب بھارتیوں تازہ ایئر ہوسٹرس دیکھنے کو ملیں گی ـ
مایاوتی اور سونیا گاندھی کے آپسی سوال جواب پر خدا نے کہا: بھاڑ میں جائے یہ دونوں، دونوں ہی بھارت کی ترقی میں کانٹا ہیں ـ
بھارت کی پانچ ریاستوں میں آنے والے چناؤ پر خدا نے بتایا: مبارک ہو، زبردست نوٹوں کی بارش ہونے کو ہے ـ

    ایک صحافی نے خدا سے کہا: آپ تو بھارت کے بارے میں ایسا بولے جا رہے ہو جیسے ایک مداری بولتا ہے ـ خدا نے صحافی سے کہا: میاں، سچ کیا ہے تم بھی جانتے ہو مگر اپنے اخبار میں لکھتے کچھ اور ہو ـ یقین جانو، سب جان بوجھ کر چپ سادھ بیٹھے ہیں جب خود کے اوپر اُنگلی اُٹھے تو بغلیں جھانکتے ہیں ـ جاری

    باقی پھر کبھی