ہند و پاک کے اُردو اخبارات بڑے کمال کے ہیں کبھی مرنے نہیں دیا فلسطینیوں کو سوائے شہید ہونے کے ـ بیچارے فلسطینیوں کو گھر بٹھائے ہی شہید کروا دیتے ہیں چاہے وہ تاش کھیل رہے ہوں، نہا رہے ہوں، حقّہ اور گہوہ پی رہے ہوں کہ اچانک موت آگئی اور اُردو اخباروں میں شہید ہوگئے ـ
دُکھ کی بات ہے، مرنے والے فلسطینیوں میں چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں گلی محلّے میں کھیل رہے ہوتے ہیں اور اِنکی کسی سے دشمنی بھی نہیں کہ یوں ہنستے کھیلتے جسم کے چھیتڑے اُڑ جاتے ہیں ـ ماؤں کا بِلبلانا، ہر طرف چیخ و پکار اور انتقام کے جذبات ـ ـ ـ ہاتھوں میں قرآن لئے جلوس و جلسے ـ شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جس دن فلسطینیوں نے جلوس نہ نکالا ـ
جذبات میں شرشار فلسطینی اپنی جیب میں بم رکھے اسرائیلیوں پر کود پڑتے ہیں جسے وہ انتقام یا پھر جہاد کا نام دیتے ہیں ـ اور اسرائیل اپنی جوابی کارروائی کرے تو مرنے والے فلسطینیوں کو اُردو اخبار شہید کا نام دیتے ہیں ـ ـ ـ سچ ہے، اپنے ملک کیلئے لڑنے مرنے والے شہید ہی کہلاتے ہیں ـ ـ ـ ویسے بھی اسرائیل عرب ممالک کی آنکھوں میں کانٹا ہے ـ
میرے خیال میں فلسطین اور اسرائیل میں کوئی جنگ جیسی بات نہیں سوائے چھیڑ چھاڑ کے ـ کیونکہ اگر اسرائیل چاہے تو صرف ایک منٹ میں فلسطین کی پوری ریاست کو تہس نہس کر دے مگر بعد میں دنیا کو جواب دینے کیلئے اِس کے پاس کوئی جواب نہیں سوائے شرمندہ ہونے کے ـ سالوں کی اِس آپسی چھیڑ چھاڑ میں کئی فلسطینی اور اسرائیلی مرچکے یا پھر شہید ہوگئے ـ
اگر فلسطینی صحیح ہوتے تو آج اسرائیلیوں کی ٹانگیں توڑ خود اُنہیں کے ہاتھوں میں تھما دیتے ـ ـ ـ لیکن یہ اتنے کمزور اور لاچار ہیں کہ بیچاروں کو آج تک محنت مزدوری کرنا نہیں معلوم ـ دنیا بھر سے عطیہ جات اور خیرات پر پلنے والے فلسطینی یہاں تک کہ اِنکی سرکار اور پولیس کو بھی خیرات سے ملنے والی رقم تنخواہ میں دیجاتی ہے ـ خود بھارت سرکار نے کئی بار اناج کے ساتھ لاکھوں روپئے خیرات میں دیئے ہیں ـ
فلسطینیوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں کہ طاقتور ملک اسرائیل سے اعلانِ جہاد کا نعرہ لگاکر دنیا بھر کے مسلم ملکوں سے ہمددی حاصل کرنا چاہتے ہیں ـ ـ ـ سچ بات یہ ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دنیا کی سبھی قومیں فلسطینیوں سے ہمدردی کرتی ہیں کیونکہ یہ ایک لاچار قوم ہے، تبھی تو غیر مسلم ممالک بھی فلسطین کو خیرات بھیجتے ہیں ـ
کمزوروں کو اور زیادہ کمزور کرنے کیلئے دنیا بھر سے خیرات بھیجی جا رہی ہے مگر کسی میں اسرائیل کو روکنے کی ہمّت نہیں ـ ساری دنیا جانتی ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین کیا ہے ـ ـ ـ میری نظر میں سچ یہ ہے کہ فلسطینی اپنے ہی گھروں سے بے گھر ہوگئے، عیش و عشرت کیلئے دبئی میں اپنی بیوی بیٹیوں کو بیچ کھا گئے اور آخر میں خود بھی بِک گئے ـ اب اِن کے پاس کچھ نہیں سوائے جہاد کے نعرے لگانے کے ـ
شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کو صرف جوتے پڑے تھے ـ میاں، ہمیں دیکھو بغیر انڈے اور سڑے ٹماٹر کے ہمارا کوئی بھی جلسہ اختتام کو پہنچتا ہی نہیں ـ اور ویسے بھی آپ خوش قسمت ٹھہرے جو پڑھے لکھے صحافی کے ایکساتھ دونوں پاؤں کے جوتے مل گئے ـ ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ لوگ ہمیں جوتے چپّل مارے تاکہ ایک اچھی سی شوروم کھول لیں ـ مگر اپنی بدقسمتی دیکھو ہمارے جلسوں میں اکثر غریب لوگ آتے ہیں، سوائے انڈے اور سڑے ہوئے ٹماٹروں کے اور کچھ نہیں دیتے ـ
خدا نے بُش سے کہا: شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں، جاتے جاتے تحفے میں جوتے بھی مل گئے یہ الگ بات ہے کہ سائز میں تھوڑے بڑے تھے ـ ایک زمانہ تھا جب ہمیں بھی کئی جوتے اور چپّل پڑے مگر سبھی کے سبھی ہمارے سائز کے نہ تھے ـ پھر ہمیں آئیڈیا آیا، فُٹ ویئر کی دکان کھول لی ماشاء اللہ خوب چل نکلی ـ اگر آپ کو بھی عراق میں زیادہ سے زیادہ جوتے چپّل پڑتے تو ریٹائرمنٹ کے بعد آپ بھی فُٹ ویئر کی دکان کھول لیتے مگر افسوس ایسا ہوا نہیں ـ
گھبرانے کی بات نہیں، ہم سب ملکر سارا غصّہ پاکستان پر اُتاریں گے ـ غصّہ نکالنے کیلئے کچھ تو بہانہ چاہئے اب پاکستان ہی صحیح ـ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ جنگ کھیلیں گے، دھوکے سے ہزاروں عوام کو ہلاک کریں گے پھر زخمی لوگوں کو دوائی کھلانے کے بعد اُن دونوں ممالک کی آپس میں صلح بھی کروائیں گے ـ ہے نا مزے کی بات، ہمارا غصّہ نکلے گا پھر وہ بھی خوش ہم بھی خوش ـ ہمارے پاس بہت سے آئیڈیاز ہیں، آخر ہم خدا ہیں ـ
خدا نے بتایا: ہیمنت کرکرے کو شہید ہونا ہی تھا ورنہ سارا کا سارا بھانڈا پھوٹ جاتا ـ اُسکی شہادت پر ہمیں بھی افسوس ہے مگر اچھا ہے بھانڈا نہیں پھوٹا ـ سیدھی سادھی عوام ہے جیسا میڈیا بولے اُسی کو سچ مانتی ہے آخر میڈیا بھی تو ہمارا اپنا ہے ـ ہند اور پاک کی برسوں پُرانی نفرت کو بالآخر جنگ جنگ کھیل کر یہ نفرت ہمیشہ کیلئے ختم کرنے ہم نے باقاعدہ پلان بنایا ہے ـ دونوں ملکوں کی عوام سے عاجزانہ درخواست ہے، اگر موت آئے تو مرجانا مگر خدا کو گالی نہ دینا ـ آخر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ـ
زہر بھرے بم، زمین سے زمین اور سمندر سے سمندر پھینکے جانے والے میزائل ـ ـ منٹوں میں ہزاروں لوگوں کے پرخچے، چیخ و پکار ـ ـ یہ سب آپ نے کتابوں میں پڑھا ہوگا اور فلموں میں بھی دیکھا ہوگا ـ اب حقیقت میں بھی دیکھلیں ـ اگر ہماری باتیں سمجھ نہ آئے تو عراق و افغانوں سے پوچھلیں حال ہی اِنہیں کافی تجربہ ملا ہے ابھی بھی ہر دن تجربوں سے گذر رہے ہیں ـ بچوں کیلئے نہ دودھ، نہ سبزی ترکاری، ہر طرف آہ و بکار ـ ـ مگر فکر نہ کریں آخر میں مدد کیلئے ہم خود آئیں گے، تم بچے کُچے لوگوں کو دانہ پانی دیکر داد بھی پائیں گے ـ
خدا نے فرمایا: جب تم انسان آپس میں ایکدوسرے کی مارنے کیلئے نہیں شرماتے تو ہم تمہاری مارنے کیلئے کیوں شرمائے؟ اگر تمہیں مزہ آتا ہے تو ہمیں تم سے بھی زیادہ مزہ آتا ہے ـ یہ بم یہ میزائل سب تمہیں انسانوں کے بنائے ہیں اب خود تم پر ہی استعمال ہونگے جسطرح مذاہب بناکر تم خود مذہبی ہوگئے ـ ـ سمجھ نہیں آ رہا کہ اِس قسط میں اور کیا کیا لکھیں، جب اِس کے پڑھنے والوں کی سمجھ میں ہی کچھ نہیں آئے تو کیوں خوامخواہ اپنے پیراگراف بڑھاتے چلیں ـ ـ بھارت اور پاکستان کو جنگ مبارک ـ اگر جنگ نہ ہو، یا پھر ہم زندہ بچ گئے تو اگلی قسط میں حاضر ہونگے ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
[ یہ خدا ہے ـ 70 ]
کڑاکے کی سردی میں لحاف میں لپٹے خدا کو جگانا کوئی آسان کام نہیں ـ صبح کا اخبار بھی ٹھیک نہیں تھا، ممبئی کی سرخیوں کے سوا کوئی اور خبر نہیں تھی ـ ٹی وی چینلز میں اینکرز ایسے بوکھلائے جا رہے تھے جیسے خود بم پر بیٹھ کر خبریں بول رہے ہوں ـ صرف دو دنوں میں اتنا ٹی وی دیکھ لیا جتنا دو سال کا کوٹہ مکمل ہوگیا ـ فون پر پولیس والوں سے کہا بھی کہ پلیز، ذرا اِن میڈیا والوں کو دور ہٹاؤ کیونکہ اسکرین پر کچھ بھی دکھائی نہیں پڑ رہا ـ آرمی اور پولیس والوں سے زیادہ میڈیا والے ایک پر ایک چڑھے ہوئے ـ اُس دن ساری دنیا نے میڈیا والوں کا تماشہ دیکھ لیا جو اب تک دوسروں کا تماشہ دکھاتے آرہے تھے کہ خود تماشہ بن گئے ـ
آج بہت بُرا دن تھا، بابری مسجد کی سولہویں برسی کا کیک بھی نہیں کاٹا گیا ـ اور کاٹتے بھی کیسے؟ یہ جو ممبئی میں نیا حادثہ پیش آگیا جبکہ ہر سال پابندی کے ساتھ خدا نے بابری مسجد کی شہادت کا کیک کاٹنا نہیں بھولا ـ ـ خدا نے بتایا: ہم نے ایک سے ایک ڈرامے دیکھ ڈالے مگر حالیہ ممبئی میں 26/11 کا ڈرامہ کافی دلچسپ رہا ـ لیکن عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ڈرامہ خود میڈیا والوں ہی نے رچایا تھا ـ خدا نے سمجھایا بھی کہ میڈیا والے خود وہاں ایک پر ایک چڑھے ہوئے تھے جیسے جنگ کے میدان میں ایکدوسرے کی خوب مار رہے تھے ـ سرکار اور میڈیا والے سمجھتے ہیں کہ عام لوگوں کو کچھ بھی پتہ نہیں ـ آج عام لوگ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میڈیا اور سرکار دونوں کی سُن رہے ہیں جیسے بیوقوف نہ ہوتے ہوئے بھی بیوقوف ہونے کا ناٹک کر رہے ہیں ـ
9/11 کا بہانہ بناکر افغانستان کی خوب ٹھوک دی تھی اب ممبئی کے 26/11 کو لیکر پاکستان پر چڑھائی کا بہانہ بھی مل گیا ـ مگر بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے کیونکہ آخر میں اِس سے بھی حساب لینا ہے ـ ہم جس جس کو اپنی گودی میں بٹھاتے ہیں بعد میں زبردستی انڈا دینے کیلئے اُس کا مرغا بھی بنا ڈالتے ہیں ـ ہمارا سلام ہے اُن جانباز دہشت گردوں پر، جو بڑی چالاکی سے ممبئی آئے، بڑے بہادر تھے کہ مرنے اور مارنے کیلئے آئے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر ہلاک بھی ہوگئے ـ بہت اچھا کیا جو اِنہیں ہلاک کردیا ورنہ ایک ایک کی پول کھُل جاتی ـ ویسے بھی ہم سچّی مچّی کے خدا ہیں، اگر اجازت ہو تو سبھی راز فاش کردیں ـ ہم سب جانتے ہیں آخر ہم خدا ہیں ـ
خدا نے کہا: دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ تم انسانوں کو جگانا چاہتے ہیں کہ سب آپس میں ایک ہوجاؤ ـ دلّی، جئے پور، مالیگاؤں، حیدرآباد اب ممبئی ـ ـ کہاں کہاں نہیں جگایا ـ کچھ دنوں کیلئے لوگ جاگ اُٹھتے ہیں، سبھی اچانک انسان بن کر امن جلوس نکالتے ہیں، ایک سے ایک بھاشن سنتے ہیں اور سب ملکر دہشت گردوں کی لعنت ملامت کرتے ہیں ـ اور کچھ ہی دنوں میں سب بھول بھال کر ایکدوسرے کی مارتے ہیں اور خود اپنی بھی مرواتے ہیں جیسا کہ خود دہشت گرد ہیں ـ بھلے اِن دہشت گردوں کا لِنک کسی سے بھی رہا ہو، مگر یہ جس کام کیلئے بھی آتے ہیں اپنے مقصد میں اکثر کامیاب رہتے ہیں بھلے کیوں نہ اپنی جان گنوانی پڑے ـ
ـ ـ ابھی اپنے منہ سے پانی چھوٹ رہا ہے، پچیس دسمبر کو ڈھیر سارے کیک کھانے کو ملیں گے اور ساتھ میں چاکلیٹس بھی ـ کرسمس کا مطلب کچھ بھی ہو مگر ہمیں تو کیک کھانے سے مطلب ـ ـ خدا نے بتایا: کتنے اچھے دن چل رہے ہیں، ابھی عید قربانی کا گوشت ہضم ہو پایا نہیں کہ بہت جلد کرسمس کی مٹھائیاں کھانے کو ملیں گی اور ساتھ میں چھٹیاں ہی چھٹیاں، موجاں ہی موجاں ـ ابھی سے دل مچل رہا ہے، کہیں دور ٹرین میں جانے کو من کر رہا ہے کیونکہ اس میں باتھ روم بھی اٹاچ ہے ـ مگر جائے تو کہاں جائیں! ڈر لگتا ہے، کوئی بھی شہر دھماکوں سے خالی نہیں، ٹرین اور پلین میں بھی خیریت نہیں ـ اب جنگل میں پہلے جیسا منگل نہیں، عبادت خانوں کی نفرت اب سیاحت گاہوں تک پھیل چکی ہے ـ
پہلے مسجد، مندر میں بم دھماکے اب ترقی کے ساتھ فائیو اسٹار ہوٹلز بھی نشانے پر جیسا کہ عیّاشی کرنے والوں کی بھی خیر نہیں ـ تعجب ہے، صرف غریبوں کو بے موت مرتے دیکھا اب امیروں کی بھی شامت آئی ہے ـ ـ ہم صرف خدا ہیں، تم انسانوں کا جینا مرنا خود تمہارے ہی ہاتھوں میں ہے ـ گذرے زمانوں سے ایکدوسرے کی مارتے آرہے ہو اور اپنی بھی مروا رہے ہو ـ خود ایکدوسرے کے دشمن اور بیچارے شیطان کو بدنام کرتے ہو ـ ذرا اپنے اندر جھانک کر دیکھو تو ڈر جاؤگے کیونکہ خود کے اندر ایک شیطان پاؤگے ـ تم انسان اچھے بُرے سبھی کام کرتے ہو اور شیطانی بھی خود کرتے ہو ـ خود ظالم خود مظلوم، خود امیر خود غریب ـ تمہیں شرم تو آتی ہے اور دوسروں کو بھی شرمندہ کرنا جانتے ہو ـ بالآخر عبادت کرکے اپنے خداؤں کو بھی دھوکہ دیتے ہو ـ
ڈکار لینے کے بعد خدا نے کہا: قربانی کے کباب تو اچھے ہیں مگر کیا یہ بکرے کے ہیں؟ خیر جو بھی ہیں بڑے لذیذ ہیں ـ ـ تو ہم فرما رہے تھے: تم انسانوں کی زندگی خود تمہارے ہی ہاتھوں میں ہے بھلے ایک دن موت مقرر ہے ـ چاند پر چڑھ گئے، خلاء میں جھول بھی لئے، کمپیوٹر، موبائل کے ساتھ زہریلے ہتھیار بھی بنالئے ـ ـ اب ہم کسی پر عذاب نہیں اُتارنے والے، تم انسان خود ایکدوسرے پر عذاب ہو ـ خود ہنساتے ہو خود رُلاتے ہو ـ ـ دوسروں کی پھاڑتے ہو اپنی پھٹے تو چیخیں مارتے ہو ـ ـ پولیس والے بھی تم خود، ملٹری، سرکار، کنڈیکٹر، ڈرائیور، چور، ڈاکو، سائنسدان، ڈاکٹر، لوٹیرے اور دہشتگرد سب کے سب تم ہی ہو ـ یہاں تک کہ اپنے مذاہب بنانے والے، اپنی مقدس کتابیں لکھنے اور لوگوں کو ذاتوں میں بانٹنے والے خود تم انسان ہو ـ ہم تو بس خدا ہیں ـ
بس بھئی، بہت ہوگیا ـ آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے ـ ویسے بھی خدا کی بکواس کون پڑھے ـ وہ حالات کے تحت ہم ذرا جذباتی ہوگئے اور بڑے دنوں بعد 69 ویں قسط پوسٹ کردی ـ چاہتے تو اور بھی بہت بھڑاس اُگلنا چاہتے ہی ہیں مگر ہم پہلے سے اپنی اِن قسطوں کیلئے بدنام ٹھہرے ہیں ـ کچھ لوگوں کو ہماری قسطوں میں نفرت کی بدبو آتی ہے، بھلا ہم کِس سے نفرت کریں! ہمارا تو کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں ـ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ ہم قادیان ہیں، شیعہ یا سنّی ہیں یا پھر ہندو عقیدے کے مسلمان ـ ـ ہم تو سیدھے شریف اور اصلی خدا ہیں نہ کہ تم انسانوں کے بناوٹی خدا ـ ـ چاہے رام بولو، رحیم بولو، عیسی یا موسی بھی پُکارلو، ہم اِس سارے جہاں کے ایک اکیلے مالک ہیں ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
[ یہ خدا ہے ـ 69 ]
بکرا عید لایا
http://www.shuaib.in/blog/2007/12/24/381/
چودھویں برسی ( 6 دسمبر 2006 )
http://www.shuaib.in/blog/2006/12/09/357/