Archive for January, 2009

28
Jan

اسکول ڈے (تیسرا پارٹ)

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

کلاس روم کی زینت بڑھانے کیلئے خدا نے ہیڈمِس زینت کو بلایا اور شکایت کردی:
بڑے عجیب قسم کے بچے ہیں، ہم پڑھا رہے ہیں اور یہاں دیکھئے سب منہ کھولے سو رہے ہیں ـ
ہیڈمِس زینت نے خدا سے کہا: آپ بچوں کو کچھ ایسا پڑھائیں کہ وہ جاگ جائیں مگر ویسا نہ پڑھائیں کہ بچے سو جائیں ـ
خدا نے کہا: تب تو ٹھیک ہے، ہم بچوں کو کالا جادو بتائیں گے کہ وہ جاگ اُٹھیں ـ
خوفناک کھنکارتے ہوئے خدا نے بچوں کو جگایا پھر اپنی جیب سے جادوئی ڈنڈا نکالا ـ
تو بچو! یہ ہے جادو کا ڈنڈا، اس کو ذرا گھمایا، دیکھو ہم اوباما بن گئے پھر یہ دیکھو اُسامہ بھی بن گئے ـ اب ہم ڈائناسور کی شکل میں آئیں گے ـ ـ ـ
سب بچوں نے ایک چیخ ہوکر کہا: بس رُک جائیے ـ اگر ہوسکے تو اپنے جادوئی ڈنڈے سے ہماری حساب کی ٹیچر کو غائب کردیں وہ بہت دماغ کھپاتی ہیں ـ

موڈ بنانے کیلئے خدا نے بچوں سے پوچھا: جب تم بڑے ہونگے تو کیا بنو گے؟
سب بچوں نے ایک آواز کہا: امیر ہونگے ـ پھر کار خریدیں گے اُسکے بعد ڈسکو جائیں گے ـ
خدا نے بچوں سے کہا: پھر شری رام سینا کے ڈنڈے بھی کھائیں گے! ہے نا ـ
ایک بچّی نے خدا سے پوچھا: جب آپ بچّے تھے تب بڑے ہوکر کیا ہونے کی سوچتے تھے؟
خدا نے بتایا: ہم ـ ـ ـ سوچتے سوچتے پاگل ہوگئے تھے پھر اچانک خیال آیا تو جھٹ سے خدا بن گئے ـ
خدا نے کہا: آؤ بچو! ہم سب ملکر دعاء کرتے ہیں کہ وزیراعظم منموہن سنگھ جلد صحتیاب ہوں ـ
ایک بچّے نے فورا کہا: آپ رِیتک انکل کیلئے بھی دعاء کریں، فلم کی شوٹنگ کے دوران بیچارے زخمی ہوگئے ـ

فلسطین میں شہید بچوں کی تصویر دکھاکر روتے ہوئے خدا نے کہا: اسرائیل نے ایک اچھا کام کر دیا، اِن بچوں کو بچپن میں ہی مار ڈالا ـ ـ ہائے افسوس اگر وہ بڑے ہوجاتے تو مجاہد ہوتے ـ جہاد کے نعرے لگاکر دنیا کی دوسری قوموں سے نفرت کرتے، خیرات کے پیسوں سے ہتھیار خریدکر تباہیاں مچاتے ـ ـ ـ اچھا ہے وہ فلسطینی بچے بچپن میں ہی مرگئے یعنی اپنی معصومیت کو برقرار رکھتے ہوئے شہید ہوگئے ـ کاش! طالبان، القاعدہ اور دیگر جہادی گروہ کے لوگ بھی بچپن ہی میں مرجاتے ـ

ایک بچّی نے خدا سے پوچھا: کیا میں بڑی ہوکر ڈسکو جاسکتی ہوں؟
خدا نے جواب دیا: ہاں ضرور جاسکتی ہو ـ کیونکہ اِس دنیا میں ڈسکو سے بڑھ کر اور کوئی مقدس جگہ نہیں ـ جہاں خوشیاں ہوں اور موج مستی بھی ہو، بھلا اِس سے بڑی اور کونسی عبادت ہوسکتی ہے!
ڈسکو میں سبھی لوگ آتے ہیں جس طرح سرکاری ٹرانسپورٹ میں سب ایک ساتھ بیٹھتے ہیں ـ سنیما ہال میں بھی ایسا ہی ہے ـ ہوٹل ریسٹورنٹ میں سبھی قسم لوگ آتے ہیں کوئی ٹوپی پہنے کوئی پگڑی، کوئی برقعہ اوڑھے تو کوئی دوپٹہ اور ساڑی ـ ـ ـ یہ عام بات ہے اور عام زندگی بھی جس میں بہت لطف ہے مگر کچھ کٹّر مسلمانوں اور شری رام سینا کے کچھ لوگوں کو یہ عام باتیں اور عام زندگی سمجھ نہیں آتی ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

[ یہ خدا ہے ـ 72 ]

اسکول ڈے پہلا پارٹ
اسکول ڈے دوسرا پارٹ

7
Jan

بھوک کی آواز

   Posted by: admin    in یہ خدا ہے!

کسی نے پوچھا: بھارت اور پاکستان کی جنگ میں جیت کس کی ہوگی؟ خدا نے جواب دیا: میاں، یہ تو طئے ہے نقصان عام لوگوں کا ہی ہوگا فرق صرف اتنا کہ پاکستان کو جس کام کیلئے تیس منٹ درکار ہوں وہیں بھارت صرف دو منٹوں میں تمام کام کر دے ـ لیکن تعجب کی بات ہے کہ سالوں بعد آج بھی امریکہ طالبان کے آگے جھولا جھول رہا ہے دوسری طرف عراق میں بغیر ٹکٹ کے لوگ ہر دن خون کا میلہ دیکھتے ہیں ـ

ڈاکٹر کے آگے اپنا بڑا سا منہ کھول خدا نے شکایت کردی: نیند میں گھٹیا قسم کے خواب آنے لگے ہیں، فلسطینیوں کی چیخیں سنائی نہیں پڑتی مگر اِنکی حمایت میں دنیا بھر سے اُٹھنے والے احتجاجوں سے ہمارے کان پک گئے ـ ـ ـ برائے مہربانی اچھے خواب کیلئے کوئی اچھی دوائی تجویز کریں ـ چونکہ ہم ذرا کمزور دل ہیں، کسی پر ظلم ہوتے دیکھ نہیں سکتے اور مظلوموں کی درد بھری چیخیں ہمیں برداشت نہیں ـ

ٹی وی اشتہار میں بچّے نووڈلس کھانے کیلئے بھوک کی آوازیں نکالتے ہیں اور ہمیں ہر طرف سے احتجاجیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ـ پتہ نہیں کچھ لوگوں کو کونسی بھوک لگی ہے کہ سڑکوں پہ آکر فلسطینیوں کی حمایت میں نعرہ مارے حالانکہ باقی ترقّی پذیر لوگ چین و سکون سے ہیں ـ اکثر احتجاجیوں میں وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس آمدنی کم اور مزدوری زیادہ کرتے ہیں ـ

امیر اور تعلیم یافتہ لوگ پرُسکون زندگی پسند کرتے ہیں، ٹی وی پر مظلوموں کی درد بھری چیخیں اور پُرتشدد نظارے دیکھتے نہیں بلکہ بزنس نیوز زیادہ پسند کرتے ہیں ـ اور عام غریب بھوکے، بے روزگار لوگ اِن کے کان ترستے ہیں کہ کہیں سے مظلوموں کی چیخیں سنائی دیں اور یہ جھٹ سڑکوں پہ احتجاج کیلئے اُتر آئیں ـ اِن احتجاجیوں میں اکثر غیر تعلیم یافتہ اور بے روزگار ـ کسی بھی قسم کا احتجاج ہو اپنا فائدہ نکالنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ـ

خدا نے کہا: پچھلی قسط میں ہم نے لکھا بھی تھا اگر فلسطینی حق پر ہوتے تو خدا کی پناہ میں ہوتے نہ کہ دنیا بھر کے احتجاجیوں سے ہمدردیاں بٹورتے ـ ہندوؤں کو کافر اور یہودیوں کو شیطان کہنے والوں کا حشر یہی ہوتا ہے ـ کسی کو حق نہیں کہ وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بدّعاء دے ـ یہ فلسطینی ہمیشہ دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ ہندو، یہودی اور عیسائیوں پر تباہی آئے اور دنیا پر یہ راج کریں ـ آج انجام ظاہر ہے ـ

دنیا بھر سے عطیہ جات کھانے والے فلسطینی، صرف خواب ہی دیکھتے رہیں کہ ایک دن یہ دنیا پر راج کریں گے ـ بھارتی عوام کے دیئے ہوئے ٹیکس سے ہر سال بھارت سرکار اُن فلسطینیوں کو کچھ نہ کچھ خوراک، ادویات بھیجتی رہتی ہے ـ یہ فلسطینی ہندوؤں (کافروں) کی بربادی کیلئے خدا سے روز افزوں دعائیں مانگتے ہیں ـ گھجنی کے گنجے عامر کی قسم! جب ارادے ہوں پکّے اور جذبات بھی ہوں سچّے تو کامیابی خود چل کر قدم چومے ـ

کسی کا خدا بھالا تھامے کھڑا ہے، کسی کا سولی پر ٹنگا ہے اور کوئی شروع سے غائب ہے ـ مگر اِن سب خداؤں کے ہم اکیلے خدا ہیں، چاہے ہمیں رام بولو یا رحیم بولو ـ لیکن ہم نے کوئی مذہب نہیں بنایا سوائے انسان کے ـ نہ تمہاری دعائیں قبول نہ پوجا ـ تم سبھی انسان ایکدوسرے کی مدد کے واسطے ہو نہ کہ خدا کی عبادت کیلئے ـ یہ دنیا تمہاری ہے مارو یا مرو یا پھر ہنسی خوشی سب ساتھ ملکر رہو ـ تمہاری مرضی ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

[ یہ خدا ہے ـ 71 ]

ہندی زبان میں   भूख की आवाज़