ایک شعر عرض ہے:
باتوں باتوں میں تم نے ہماری مارلی
باتوں باتوں میں ہم نے تمہاری مارلی
واہ
بہت گھٹیا شعر ہے بولے تو شعر کہلانے کے لائق بھی نہیں ـ چونکہ ہم خدا ہیں جو بول دیئے بس وہی شعر، چاہیں تو شیر پر شعر ٹھوک دیں ـ
قیامت خیز گرمی سے جان چھوٹتے ہی چائنیز پکانے کو من چاہا ـ سؤر کو ذرا اُبالتے ہی اُس نے ہانڈے سے اپنی گردن باہر نکال دیا جیسے کہہ رہا ہو جہانپناہ اُبل چکا اب باہر نکالو ـ ہم نے شکریہ کہا بڑی جلدی اُبل گئے مگر یونہی کیسے باہر نکالتے، پہلے سؤر کے منہ میں نمک، مرچ اور مسالہ ٹھونسا تو اُس نے ہمارے چہرے پہ چھینک مارا یعنی احساس دلایا کہ نمک کچھ زیادہ ہوگیا ـ معذرت چاہتے ہوئے فریج سے ٹماٹر نکالنے جونہی پلٹے سؤر ہم پہ چڑھ گیا، واللہ، گھنٹہ بھر ہمارے حلق سے چیخیں چھوٹتی رہیں مگر اُس نے ہمیں نہیں چھوڑا ـ یعنی سؤر نے انٹرنیٹ پر وہ سبھی تصاویر اور ویڈیو کلپس دیکھ ڈالے جس میں بھوکے انسان جانوروں پر چڑھ جاتے یا چڑھا لیتے ـ مگر ہمارا کیا گناہ کہ ایک ادنی سؤر نے آج اپنے ہی خدا کی مارلی ـ لعنت ہے تم سؤر کے بچوں پہ اور تم میں ایسی وباء پھوٹے کہ تمہارے ساتھ انسان بھی کھانسے ـ

خوش نصیب سؤر
لوگ فقیروں کے پاس دعاؤں کی درخواست لیجاتے ہیں، دعاء اگر قبول ہونے لگے تو آج فقیر برادری امیر نہ ہوجاتے ـ بھکاریوں کو بھیک کے علاوہ کوئی کام معلوم نہیں، واقعی بھکاریوں کی دعائیں قبول ہونے لگیں تو کون بھیک مانگے ـ مزاروں کا یہی احوال، صندل و عرس میں ہزاروں کا مال چڑھا ڈالتے ساتھ میں کبھی خود چڑھ جاتے ـ مُردے کو اگر قبر سے باہر نکالو تو وہ کونسی کیا مُراد پوری کرے ـ بیچارے کی ہڈیوں کو تبرک سمجھ اُڑا لیجاتے؟ مندر میں ہزاروں کی مورتیوں کے آگے لاکھوں روپئے پوچھنے والے، اُلٹا مندروں کو جیب خرچ دے آتے ہیں ـ دنیا میں ایک سے ایک عجیب نمونہ قسم کے لوگ اُوٹ پٹانگ حرکتوں سے عبادات ادا کرکے جان بوجھ کر خود کو بیوقوف بناتے تھکتے نہیں ـ
ہم بدنصیب خدا کہ آخر میں آئے، پہلے جتنے بھی آئے سب کی مار گئے باخدا مزے کرگئے ـ من گھڑت لوگ اِن کی کتابوں کو مقدس بنا ڈالے آج بھی عجیب حرکتوں سے مختلف اقسام کی عبادات میں شوق رکھتے ہیں ـ ہمیں تشریف لائے 75 ویں قسط ہے باوجود آج بھی اجنبی ٹھہرے ـ ایسے ویسے مختلف خداؤں کی قسمت چمک گئی، لوگ اُنکے نام کا سجدہ ٹھوکتے ہیں، اگربتیاں، موم بتیاں کی ماں بہن کرتے تھکتے نہیں ـ کسی نے چار ہاتھ والے خدا بناکر انکے ہاتھ میں بھالا تھماکر صدا کھڑا کردیا کہیں ہمیشہ کیلئے سولی پر ننگا ٹانگ دیا، کہیں بغیر دیکھے انجان خدا پر اعتماد کا اظہار کردیا اور خوامخواہ کا سجدہ ٹھوکتا رہا ـ ـ یہ بھی کم پڑگئے کہ مزاروں پہ بھی جاکر چڑھ لئے ـ ـ ہم ٹھہرے نہایت شریف خدا، باوجود ایک ادنی سؤر آج ہم پہ چڑھ گیا ـ ـ
کہنے کو اب خداؤں کا زمانہ رہا نہیں، ہر جگہ انسانوں پر انسانوں کی حکومت ہے لیکن خوش نصیب ہیں سؤر کہ سبھی انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر آج انہی کا راج ہے، لگیج سے زیادہ سؤر وباء کی جانچ ہوتی ہے ـ مگر بدنصیب ہیں پاکستانی، خود نہیں جانتے ان پر کس کا راج ہے ـ وہاں طالبان کی قسمت چمک اُٹھی، سوات سے ہجرت کرکے پاکستان میں گھُس آنے لگے، اس سے اچھا اور سستہ موقع پھر کہاں؟ ـ اب جنگ لڑنے کا زمانہ نہیں جنگ کروانے کا زمانہ ہے ـ پاکستان میں ہتھیاروں کے ذخیرے کو انہی پر آزمانا ہے ـ بولے تو اب پاکستان میں طالبانی حکومت ہے ـ ایک ہی جگہ جمع کرکے اجتماعی مارنا ہے ـ ـ خدا کی قسم! یہ خدا کا ارادہ نہیں بلکہ انسانوں کا انسانوں سے رابطہ ہے ـ
ایک طرف پیتزاہٹ ایک طرف میخانہ اب کیا کریں ہوتا نہیں فیصلہ ـ بالآخر ہم خدا ہیں اسلئے جھٹ آسان فیصلہ کرلئے کہ پہلے میخانہ چلے گئے ـ پچاس روپئے کی شراب آج سو روپئے؟ لعنت ہے حرام میں بھی حرام کمائی ـ ہمیں نوٹس دکھایا، الیکشن کا موسم ہے سرکاری فرمان ہے رات دس بجتے ہی میخانوں پر تالا ڈالنا ہے ورنہ قانون توڑنے پر پانچ ہزار روپیہ جرمانہ ہے ـ ہم نے کمبختو کو یاد دلایا کہ اب تو گیارہ بج چکے ـ اُلٹا ہمیں ہی ڈانٹ دیا تبھی تو پچاس روپئے کی شراب سو میں فروخت ہے تاکہ آپ بھی خوش ہم بھی اور وہ بھی جو جُرمانہ وصول کرنے آتے ہیں ـ شراب نہ ہو تو الیکشن کا فائدہ کیا؟، مطلب شراب نہیں تو الیکشن بھی نہیں ـ پھر ہمیں ڈرا ہی دیا کہ اگلے ووٹ ڈالنے کے دو دن تمام میخانے مقفل رہیں گے جلدی سے دو چار بوتلیں پکڑ لو ـ ـ پورے آدھ گھنٹہ ہم ساقی کو ڈسکاؤنٹ کیلئے مناتے رہے کہ میاں، اتنا بھی حرام نہ کماؤ، کم سے کم پانچ سو میں چھ بوتلیں دے ہی دو آخر ہم خدا ہیں تمہارے ـ
آدمی آدمی سے ڈرتا ہے اور ضروری نہیں کہ آدمی آدمی سے ڈرے ـ پربھاکرن ڈراتا تھا اور خود ڈرتا بھی تھا بالکل جیسے صدّام حسین تھا ـ انسانوں کی خود انسانوں پر زمانوں سے حکومت ہے اور آج بھی ـ میاں تم انسان ہو، حاکم بنو یا محکوم ـ زمین پر خدا کا نہیں بلکہ انسانوں کا راج ہے جسے چاہے ہٹلر بنے، ویرپّن، مدر ٹریسا یا بریٹنی اور اگر یہ ممکن نہیں تو خود سے بھکاری بن جائے اور امیر انسانوں سے بھیک مانگے لیکن خدا سے مانگے تو کچھ نہ ملے آزمائش شرط ہے مانگ کر دیکھو ـ تازہ مثال سوات مانگنے سے مل گیا پھر واپس چھِن بھی گیا ـ مجاہدین پوری دنیا سے جہاد کرنا چاہتے ہیں مگر جہاں کہیں بھی جہاد کیا منہ کی کھانی پڑتی ہے ـ اگر کچھ مانگنا ہی ہے تو انسانیت سے انسانوں سے مانگ لیتے تو کیا حرج ہے مگر انسانوں کے خلاف جہاد تعجب اور نہ سمجھنے والی بات ہے ـ
ہم باقاعدہ خدا ہیں اسی لئے ہمارے پاس بہت سے چمتکار ہیں اور ہر رنگ میں ڈھل جاتے ہیں بولے تو اُسامہ بھی ہم ہیں ـ پتہ نہیں کیوں لاکھ کوشش کے باوجود پربھاکرن بننے میں ناکام ہیں شاید ہماری چمتکاری کہیں سے پنکچر تو نہیں ہوئی؟ خیر جو بھی ہے ہم چیک کرتے ہیں لیکن بتا دیں کہ پربھاکرن ہلاک نہیں ہوا، وہ لاکھوں تملوں کے دلوں میں زندہ ہے، بھارت کا الیکشن تمام ہوا تو پھر اچانک کیسے ہلاک ہوسکتا ہے ـ مگر دوسری طرف آج بھی پنکچر دلوں میں اُسامہ زندہ ہے ـ معصوم بھولے اور پنکچر لوگوں کو کیا پتہ کہ ہم خود اُسامہ ہیں اور اپنی چمتکاری سے کچھ بھی بن سکتے ہیں ـ ابھی پچھلی بار اسکول میں ڈائناسور کی شکل میں چلے گئے تھے کہ بچّے چیخ اُٹھے ـ ہم جسے چاہے عزّت دیں اور جسے چاہے ذلیل کریں ہماری مرضی کیونکہ ہم خدا ہیں ـ
کمبخت فرشتے، پہلے ہم سے پوچھ تو لیتے ـ سخت گرمی سے نڈھال ابھی شربت کا گلاس ہاتھ میں پکڑے ہی تھے کہ طوفانی ہواؤں کے ساتھ پورے دو گھنٹے زبردست بارش برسا دیئے ـ کب سے بول رہے تھے کہ گرمیوں میں تھوڑی ہوا تو چلاؤ مگر اب شربت کا کیا کریں؟ اِس کا کافی بنا ڈالو ـ ہمارے فرشتے بھی عجیب کہ کبھی کبھار ہمیں ہی ماموں بنا ڈالتے ـ واہے گرمیاں! نیکر بنیان نچوڑ کر اُسی میں نہا لیں ـ ہماری اجازت کے بغیر دو گھنٹے بارش! کیا آسمان کا پورا پانی خالی کروانا ہے؟ حالانکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسوقت خدا آسمانوں میں نہیں بلکہ زمین پر بخیر حیات ہیں ـ ابھی سڑک پار کر ہی رہے تھے کہ تیز رفتار موٹر کار نے ہم پر کیچڑ اچھال دیا اور ہاتھ میں موجود کافی کا گلاس، پتہ نہیں اِس میں کیچڑ گِرا کہ نہیں دونوں کا رنگ بھی ایک جیسا ـ
پرانے لوگوں کو نئی حکومت مبارک ـ میاں، ٹائپ کرتے اُکتا گئے سمجھ نہیں آتا آگے اور کس کی کھینچیں؟ پچھلے پیراگرافس میں کیا کچھ ٹائپ کر دیئے وہ دوبارہ پڑھنے کا موڈ بھی نہیں ـ دل خوش ہے کہ موسم نے کپڑے تبدیل کرلئے تھنڈی ہواؤں کے ساتھ باہر ہلکی بارش ہو رہی ہے اور یہاں اسپیکرس سے دھیمی میوزک ـ ہر جگہ سنّاٹا ہے الیکشن کے بعد جیسے پورا شہر تھک کے سوگیا ہے ـ مگر خدا اکیلے کیوں جاگے؟ ہمیں بھی نیند پکار رہی ہے ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
[ یہ خدا ہے ـ 75 ]
میاں، الیکشن ولیکشن ختم ہوچکے، اب تو ہمیں جیل سے باہر نکاکلو ـ واللہ عرصہ ہوگیا کھلا آسمان جو دیکھے ـ اگر فرشتوں کو پتہ چل گیا کہ خدا جیل میں بیٹھے ہیں پھر ہماری کیا عزّت ہوگی ـ حکومت نے وعدہ کیا تھا الیکشن ہونے تک جیل میں آرام کرلینا تاکہ پُرامن انتخابات ہوں نہ کہ قدرتی چمتکار ـ ٹیلیویژن کیبل ٹھیک نہیں ہاتھ میں پکڑے بیٹھنا سونا پڑتا ہے پھر اُٹھ کر ٹیلیویژن کو تھپتھانا بھی ہوتا ہے ورنہ چینل ہلنا شروع ہوجاتا ہے ـ داروغہ صبح جو اخبار لاتا ہے سبھی صفحوں پر چائے کے دھبّے ہوتے ہیں، پہلے وہ پڑھتا ہے پھر ہمیں تھماتا ہے اور پورے اخبار کی ماں بہن ایک جیسی، سُرخیاں خاص ایسی کہ لنکن فوج نے طالبان کو ملیکا شیراوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ورون گاندھی پر ذمہ داری عائد ہونے سے قبل سونیا گاندھی کا سوئن فُلو اعلان کے بعد سوات معاہدے میں نریندر مودی کے بیان ـ ـ ـ ـ اِسکی ماں کی اُسکی بہن کی، پورا اخبار جیسے چھید ہے ـ
وہاں سؤر کے بچّوں نے وباء پھیلانا شروع کردیا، لوگ خدا کی پناہ مانگ رہے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اُن کی مدد کو جائیں جسطرح پچھلی بار لاکھوں مرغیاں ہلاک کر ڈالے اب سؤروں کے ساتھ پنگا لینا ہے ـ پھر کیا معلوم گائے بھینس اور بھیڑ بکریوں سے بھی وباء پھوٹے ساتھ میں “دودھ کا فُلو”، بالآخر سبھی لذیذ پکوانوں سے ہاتھ دھونا پڑے ـ بھارت کا “جوتا فُلو” مگر پتہ نہیں فیشن ہے کہ وباء ـ عجیب لوگ صرف ایک جوتا پھینکتے ہیں جوڑا پھینکے تو بات بنے ـ اِس وباء یا فیشن کیلئے بابائے جوتا فُلو بش ذمہ دار ہیں، اگر یہ دونوں پاؤں کے جوتے کھالیتے تو اچھی شروعات تھی ـ
ہم اپنے جلسوں میں ہنسی خوشی جوتے چپّل وصول کرلیتے بعد میں جنّت ایکسپورٹ کرتے کیونکہ وہاں آج بھی ہمارے فرشتے ننگے پاؤں گھوم رہے ہیں ـ ویسے اپنے جلسوں میں جوتے چپّلوں کی بارش ہوتی ہی ہے پھر بھی کم پڑتے ہیں کہ 74 ویں قسط لئے دوبارہ ٹپک پڑے ـ بارش سے یاد آیا، ہمارا احوال ایسا کہ اپنے ہی پسینے میں آدھے ڈوبے کھیلتے ـ اب کی گرمیاں ایسی کہ منہ سے بھی پسینہ چھوٹے ـ یہاں جھاڑیاں بھی نہیں کہ تھنڈی ہوائیں چلے، درختوں کی کٹائی اتنی تیز ہوگئی جتنی کہ عمارتیں بھی نہیں بنتیں ـ سوکھی گرم سڑکیں، پسینے میں بھیگے چہرے ـ شکر ہے دہلی، بنگلور وغیرہ میں بوندا باندی شروع ہوچکی ـ ـ تم فرشتو بارش برساؤ کہ پسینے میں بھیگ لیئے اب کیچڑ سے نہانا ہے ـ
گرما کی چھٹیاں ختم، اب دوبارہ اسکول شروع ہونے لگے دوسری طرف سوات سے ہزاروں لوگ بے گھر آر پار ہونے لگے جیسے سؤر کی وباء سے مشرق و مغرب دہل گئے وہاں لنکن فوج اور ٹمل باغیوں نےآپس میں ملکر ہزاروں عوام کو مار ڈالے ـ ماشاء اللہ ایک سانس میں ہم بہت بول دیئے ـ آجکل بھڑاس ہم سے اُتاری نہیں جاتی ہم خود بھڑاسی ہوگئے پتہ نہیں کیوں ایسے ہوگئے ـ نہ تو سیاست سے لگاؤ ہے نہ کوئی فلمی شوق ـ کسی سے واسطہ نہیں کلام سلام بھی نہیں جیسے سبھی سے الگ تھلگ ہولئے ـ کوئی غم نہیں خوشی بھی نہیں کوئی شکایت نہیں کوئی آس نہیں کوئی پیاس نہیں اور کوئی پلان بھی نہیں باوجود پھر بھی 74 ویں قسط لئے حاضر ہوئے ـ
نہ جانے کیوں ہم خدا بن گئے ـ یہاں اتنے سارے خداؤں کے باوجود خوامخواہ ہم بھی بیچ میں ٹپک پڑے ـ اپنی دمادم جنّت چھوڑ دھرتی پہ آدھمکے ـ اگر ہم خالص ہندوؤں کے خدا ہوتے تو عجب رنگوں میں رنگ ہاتھ میں بھالا تھامے کھڑے رہتے، اگر عیسائیوں کے خدا ہوتے تو پوری عمر سولی پر ٹنگے رہتے مگر مسلمانوں کا خدا ہی حافظ ـ ہم خود خدا ہوکر بھی طالبان نام سے رونگٹھے کھڑے کرلیتے سوات اور پاکستان دو الگ مذہبوں کے بیچ لٹکا دیئے جاتے ـ ـ کیا عجب خدا ہیں ہم! خود تماشہ بن گئے دنیا کے رنگوں میں رنگ گئے کیا معلوم ہم بھی انسان بن گئے؟ مذہبوں کی دراڑ میں پِس گئے ـ ـ لا پتہ خداؤں کا جلوس نکالتے ہو، ماتم کرتے ہو قصیدے پڑھتے ہو، انجان خدا کی بارگاہ میں سجدے ٹھونکتے ہو، بے جان مورتیوں کے سامنے ڈھونگ کرتے ہو ـ ـ پھر بھی اپنے خداؤں سے انجان رہتے ہو، مرنے کے بعد جنّت کی تمنّا میں رہتے ہو یا پھر دوبارہ پیدا ہونے کی سوچتے ہو ـ ـ
اپنی سبھی قسطوں میں عجب باتیں ہیں سمجھنے کی نہ سمجھانے کی ـ سبھی ماؤں کی قسم! جن کے پیٹ سے انسان پیدا ہوتے ہیں، جنّت کسی کے باپ دادا کی جاگیر نہیں ـ تم انسانوں کی جنّت یہ زمین ہے، پیدا ہونا، اناج سبزی کھانا، ہگنا موتنا، قبریں کھودنا مُردوں کو جلانا ـ ـ یعنی تمہاری پیدائش اور مرنا دونوں یہیں ـ اگر تمہیں واقعی جنّت دیکھنی ہے ڈسکو جاؤ، میخانے جاؤ، عیش و آرام کرو اور خوش رہو لیکن منہ لٹکائے بیٹھے نہ رہو مگر پلیز اپنی عبادات سے جنّت کا خواب نہ دیکھو کیونکہ جنّت صرف خدا نے اپنے لئے خاص بنائی ہے نہ کہ کسی مرے ہوئے انسان کو یہاں گاڑنے واسطے ـ ـ پھر ہم پٹری سے اُتر آئے، یہ قسط لکھنے کا قطعی مُوڈ نہیں ـ اناپ شناپ تو ہمیشہ سے ہی چھاپتے ہیں ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
[ یہ خدا ہے ـ 74 ]