Archive for June, 2009
خدا پھسل گئے
نہانے کے بعد صاف ستھرے کپڑے پہن جونہی اپنی جنّت سے باہر نکلے ـ ـ ـ فرشتے بھی عجیب ہیں، اب انکی جگہ انسانوں کو متعین کرنا پڑے گا ـ رات بھر بارش، گھٹنوں تک پانی ـ صبح اُٹھے تو پھر بھی بوندا باندی! تیار ہوکر باہر نکلے ہی تھے اپنی ہی جنّت پر پھسل پڑے ـ شکر ہے کسی نے دیکھا نہیں ورنہ یہی وقت ہے گیٹ کے سامنے اسکولی بچّوں کا کاروان گذرتا ہے ـ کپڑے کیچڑ میں لت پت ـ بچّوں کا کیا، انکو ایسا ہی منظر پسند ہے کہ تالیاں بجاکر ہنستے ـ
نہا کر صاف ستھرے کپڑے پہننے کا یہ صلہ ملنا تھا ـ دوبارہ نہانے کے بعد دوبارہ تیار ہونا پڑا ـ لگاتار موبائل بج رہا ہے، ہر کوئی ہمیں اپنی خدائی یاد دلا رہا ہے کہ صبح کے دس بج رہے ہیں ـ حالانکہ ہمیشہ صبح نو بجتے ہی ہم خدا بن کر تیار ہوجاتے ـ آج ذرا لیٹ ہوگئے تو کیا ہم خدا نہ رہے؟ سڑک کی دونوں جانب بارش کا ٹھہرا ہوا پانی، ہر جگہ ٹرافک جام ـ ابھی یاد آیا کہ ہم خدا ہیں چاہے تو دھواں بن کر غائب بھی ہوسکتے ہیں یعنی دفتر سے چھُٹی مار سکتے ہیں ـ
صبح جو پھسلے تھے شام کو احساس ہوا کمر اور گاف میں کھٹّا میٹھا درد ہو رہا ہے ـ چار بجنے سے پہلے ہی اپنی خدائی کو خیرباد کہا ـ ہماری اُڑن طشتری کے شیشے میں دیکھا وہ بھی پکار رہا ہے کہ آج آپ کی خدائی کو کیا ہوگیا؟ بس میاں، گاف پھٹی ہے عرصہ ہوا پھسلے ہوئے ـ کسی کو بتا بھی نہیں سکتے ورنہ لوگوں کی ہنسی چھوٹ جاتی کہ آجکل خدا بھی پھسلنے لگے ـ برسات کا موسم ہے صرف دو دن پہلے اپنی اُڑن طشتری دھلوائی تھی مگر آج پھر منہ چِڑا رہی ہے ـ جاری
باقی پھر کبھی
[ یہ خدا ہے ـ 77 ]
پبلک ٹرانسپورٹ
جونہی بس میں چڑھے ہمیں اُتار دیا، دوسری بس میں چڑھے وہاں سے بھی اُتار دیا ـ یوں چڑھتے اُتارتے جیسے عادت بن گئی ـ بس کے اندر لکھا تھا یہاں عورتیں ٹکاتی ہیں دوسری طرف لکھا ہوا تھا یہاں مرد براجمان ہوتے ہیں اب چونکہ ہم خدا ٹھہرے تو کہاں بیٹھے؟
دنیا میں اتنے سارے خدا ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ میں ہم جیسوں کیلئے بھی نشست مختص ہونا ضروری ہے ـ لکھا ہونا چاہئے کہ یہاں پر خدا تشریف رکھتے ہیں ـ ـ ـ ـ مگر کونسے خدا؟ ہندوؤں یا مسلمانوں کے؟ پبلک ٹرانسپورٹ میں سبھی انسان ساتھ بیٹھتے ہیں، ہندوؤں کے بازو میں مسلمان اور مسلمانوں کے بازو میں کرسچین ـ ـ ـ ـ کیونکہ یہ سرکاری بس ہے نہ کہ مذہبی ـ
جس طرح انسان کی زندگی میں کوئی ایک آدھ انجان خدا کا ہونا ضروری مانا جاتا ہے، کسی نے خدا کا نام گلے میں لٹکا رکھا ہے اور کوئی ہاتھ پر ٹٹو چھاپ رکھا ہے کہیں ٹیکسی میں ڈرائیور کے آگے دو انچ کے خدا لٹکے دکھائی دیتے ہیں جو کہ آدھ ننگے بھی ہیں ـ
اوباما کا بھاشن سننے کو کان کھڑے ہوجاتے ہیں، ہماری لاجواب قسطوں میں کسی کو دلچسپی نہیں ـ حالانکہ ہم کھل کر کلام کرتے ہیں، بھلا اس سے اچھا اور پاک صاف انداز کونسی مقدس کتاب میں ہے؟
ہمارے خدا بننے کا کیا قصور؟ جب اتنے سارے خداؤں نے چانس مار لیا تو ہم کیوں نہیں؟ جب ہم چھوٹے تھے، سوچتے رہے جب سُجھائی نہ دیا تو سمجھ گئے کہ ہم خدا ہیں ـ من ہی من میں مُسکرا لئے کہ چلو خدا تو بن گئے ـ مگر کیا فائدہ، جیسا کہ خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہوچکی کہ اب کسی نئے خدا ہونے کا چانس ہی نہیں! ـ ـ جاری
باقی پھر کبھی
[ یہ خدا ہے ـ 76 ]
