10
Jun

پبلک ٹرانسپورٹ

   Posted by: admin   in یہ خدا ہے!

جونہی بس میں چڑھے ہمیں اُتار دیا، دوسری بس میں چڑھے وہاں سے بھی اُتار دیا ـ یوں چڑھتے اُتارتے جیسے عادت بن گئی ـ بس کے اندر لکھا تھا یہاں عورتیں ٹکاتی ہیں دوسری طرف لکھا ہوا تھا یہاں مرد براجمان ہوتے ہیں اب چونکہ ہم خدا ٹھہرے تو کہاں بیٹھے؟

دنیا میں اتنے سارے خدا ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ میں ہم جیسوں کیلئے بھی نشست مختص ہونا ضروری ہے ـ لکھا ہونا چاہئے کہ یہاں پر خدا تشریف رکھتے ہیں ـ ـ ـ ـ مگر کونسے خدا؟ ہندوؤں یا مسلمانوں کے؟ پبلک ٹرانسپورٹ میں سبھی انسان ساتھ بیٹھتے ہیں، ہندوؤں کے بازو میں مسلمان اور مسلمانوں کے بازو میں کرسچین ـ ـ ـ ـ کیونکہ یہ سرکاری بس ہے نہ کہ مذہبی ـ

جس طرح انسان کی زندگی میں کوئی ایک آدھ انجان خدا کا ہونا ضروری مانا جاتا ہے، کسی نے خدا کا نام گلے میں لٹکا رکھا ہے اور کوئی ہاتھ پر ٹٹو چھاپ رکھا ہے کہیں ٹیکسی میں ڈرائیور کے آگے دو انچ کے خدا لٹکے دکھائی دیتے ہیں جو کہ آدھ ننگے بھی ہیں ـ

اوباما کا بھاشن سننے کو کان کھڑے ہوجاتے ہیں، ہماری لاجواب قسطوں میں کسی کو دلچسپی نہیں ـ حالانکہ ہم کھل کر کلام کرتے ہیں، بھلا اس سے اچھا اور پاک صاف انداز کونسی مقدس کتاب میں ہے؟

ہمارے خدا بننے کا کیا قصور؟ جب اتنے سارے خداؤں نے چانس مار لیا تو ہم کیوں نہیں؟ جب ہم چھوٹے تھے، سوچتے رہے جب سُجھائی نہ دیا تو سمجھ گئے کہ ہم خدا ہیں ـ من ہی من میں مُسکرا لئے کہ چلو خدا تو بن گئے ـ مگر کیا فائدہ، جیسا کہ خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہوچکی کہ اب کسی نئے خدا ہونے کا چانس ہی نہیں! ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

[ یہ خدا ہے ـ 76 ]

This entry was posted on Wednesday, June 10th, 2009 at 2:21 pm and is filed under یہ خدا ہے!. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. You can leave a response, or trackback from your own site.

3 comments so far

 1 

آپ کی تحریر آغاز سے درمیان تک تو اچھی لگ رہی تھی۔۔ آخر میں پہنچتے پہنچتے میری سوچ بدل گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ واقعی ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ :)

حیدرآبادی کے انٹرویو میں آپ کے کمنٹ کو ہر گز حذف نہیں کیا گیا۔ اگر آپ کو معلوم ہو تو اگر کوئی بلاگ پر کمنٹ کرتا ہے تو اس کمنٹ کو پہلے اپروو کرنے کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے۔ میں ابھی ہی آن لائن آئی اور آپ کا کمنٹ اپروو کیا ہے۔ اب آپ اپنا کمنٹ وہاں دیکھ سکتے ہیں۔ :)

June 10th, 2009 at 6:49 pm
 2 

او میرے بھائی جان! میں نے کیا قصور کر ڈالا ہے؟ شرابی میں بگ بی نے کہا تھا کہ شرابی کو شرابی نہیں تو کیا جواری کہو گے؟
خود ہی کو متنازعہ کہہ رہے اور مجھے بھی الزام کہ تنازعہ بنانے میں خاکسار نے بھی ہاتھ بٹایا؟ حضور آپ نے مجھ سے تھوڑا پوچھ کر یہ خدا والا سلسلہ شروع کیا تھا۔

ویسے یہ جملہ ادبی لحاظ سے کافی شاندار ہے کہ :
“خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہوچکی کہ اب کسی نئے خدا ہونے کا چانس ہی نہیں! ـ”

June 11th, 2009 at 4:19 am
Admin
 3 

حیدرآبادی
آپ نے ہمیں بھائی جان لکھا، تعجب لگا؟
خدا کی قسم! ہمارا کسی بھی متنازعہ عقیدے سے واسطہ نہیں ـ
شکریہ کہ آپ نے ہمارے جملے کو ادبی لحاظ سے شاندار سمجھا ـ

ماوراء
بڑے اچھے انداز میں اسمائلی آئیکان سے ہمیں متنازعہ سمجھ لئے، ہم یہی سمجھے کہ ہمارا تنازعہ بنانے میں آپ بھی شامل ہوگئیں ـ
شکر ہے آخر میں پہنچنے سے پہلے آپ کو ہماری تحریر کم سے کم اچھی لگی ـ

June 11th, 2009 at 9:24 am

Leave a reply

Name (*)
Mail (will not be published) (*)
URI
Comment