Archive for October, 2009

بس میں ٹرین میں پلین میں یا جہاں کہیں بھی کوئی نیا ملجائے، علیک سلیک کے بعد بات چیت شروع ہوتی ہے پھر نام پوچھتے ہیں تو جواب میں بولتا ہوں کہ میرا نام شعیب ہے تو واپس کہتے ہیں اوہ آپ مسلمان ہو؟

میرے دل میں ایک ہی جواب غصّے میں نکلتا ہے “تیری ماں کی ……… تیری بہن کی ………

میرے پیٹ پر گھونسا مارو، پیٹھ پر لات مارو لیکن اُس سے بھی زیادہ غصّہ مجھے تب آتا ہے جب کوئی مجھ سے میرا مذہب پوچھتا ہے ـ لگتا ہے جیسے میری ماں بہن کو گالی دے رہا ہے ـ میں انسان ہوں اور ہندوستانی بھی ـ

آپ سے گذارش ہے کہ سفر میں یا کہیں بھی اجنبیوں سے اُن کا مذہب نہ پوچھیں اور اپنا مذہب نہ بتائیں ورنہ بات چیت کا خوشگوار موڈ کہاں سے کہیں اور نکل جاتا ہے ـ یہ نیا زمانہ ہے، ہم سبھی کو ساتھ ملکر رہنا ہے ـ

پرانے زمانے کے خداؤں کی موجاں تھیں کہ انپڑھ لوگوں میں آئے اور چھا گئے ـ اور پچھلے زمانے کے لوگوں میں کام دھام کچھ تھا نہیں بس یوں ہی خالی بیٹھے رہتے تھے کہ اُن خداؤں پر اندھوں کی طرح ایمان لے آئے ـ اور ہماری قسمت دیکھو کہ نئے زمانے کے خدا ہیں، 80 ویں قسط ہے مگر ابھی تک کسی نے ہم پہ ایمان لائے نہیں اور ہم ہیں کہ قسطوں پہ قسط چھاپ رہے ہیں ـ اُمید ہے مرنے کے بعد ہماری مزار پہ چادریں چڑھانے والوں کی تعداد زیادہ ہوگی مگر کیا فائدہ! ہمارے زندہ رہنے تک کسی نے عقیدت سے نہیں دیکھا ـ

دسہرہ کے جلوس میں لوگوں کو ناچتے ہوئے دیکھ ہمارا بھی دل مچل اُٹھا، بھیڑ میں ڈانس کرنے کود پڑے، واللہ زبردست ٹھمکے بھی لگائے ـ کہ اچانک ایک بزرگ نے آکر ہم سے ہمارا تعارف پوچھا تو ہم نے بھی اپنا کالر چڑھاکر کہا ہم سچّی مچّی کے خدا ہیں یعنی باقاعدہ اور خود ساختہ بھی ہیں ـ بس میاں، اتنی سی بات ہمارا کھڑا ہوا کالر پکڑ کھینچتے ہوئے ہمیں باہر کا راستہ دکھلایا ـ خدا ہونے کا یہ صلہ کہ عوام کے ساتھ ذرا ٹھُمکہ بھی مار نہیں سکتے! عیدگاہ کے باہر انتظار میں کھڑے تھے ہر کوئی ہم پر شک کی نگاہ ڈال رہے تھے! حالانکہ صاف سھترے کپڑوں میں ملبوس تھے صرف عید کی نماز نہ پڑھی تو شک کرنے والوں کا شک اور بڑھ گیا ـ ہم نہ تو دہشت گرد ہیں نہ بھکاری! بتانے ہی والے تھے کہ ہم باقاعدہ خدا ہیں مگر کوئی پوچھے تو بتاتے ـ

ہماری بدقسمتی موجودہ دور کے خدا بن گئے، اگر پچھلے زمانوں میں آتے چونکہ اُس زمانے میں لوگ انپڑھ تھے، آج ہماری بھی پوجا اور عبادات ہوتی ـ لوگ ہمارا آئڈل بناکر جلوس نکالتے یا پھر ہماری قبر پہ چادر چڑھاکر پنکھا مارتے ـ اب لوگ ہیں کہ اپنے مذہب سے اُکتا چکے، کیسا سجدہ کیسی پوجا ـ خود محنت کرو، پیسہ کماؤ اُلٹا اپنے خداؤں پر تیوہاروں میں پیسہ لُٹاؤ!!!! لوگوں کی آنکھیں آج کھل رہی ہیں کہ غیب سے کوئی پیسہ آنے کو نہیں مگر پھر بھی اندھوں کی طرح پوجا پاٹ اور عبادات میں مشغول ہیں کہ خزانہ مل جائے ـ

بیت اللہ محسود کی میّت کیلئے خوشی و غم کے موقع پر ایک شعر یاد آتا ہے مگر یہ شعر ماں بہن کی گالیوں پر طرح ہے ـ خیر، یہ گالیاں تو دل کی دُہائیاں رہیں بالکل جیسے سلمان خان نے شاہ رُخ خان کی نیویارک میں پاجامہ تلاشی پر دل ہی دل میں کہہ ڈالیں ـ مگر جسونت سنگھ کے مرچ مسالہ کتاب جہاں بھارت میں نمک کچھ زیادہ ہوگیا تو پاکستان کیلئے سستا آٹا بن گیا ـ میاں، فلائٹ کے ٹائم کا اناؤنس ہوگیا ـ یہ تو ائرپورٹ پر ٹائپنگ کی ہے، سوچا تھا اس قسط میں بڑا لمبا بھاشن اُتاریں گے کیونکہ اناؤنس ہوا تھا کہ فلائٹ دیڑھ گھنٹے پیچھے ہے مگر اچانک پھر اناؤنس ہوا کہ آدھے گھنٹے میں طیارہ کھڑا ہے ـ دل کی بھڑاس، بھڑاس ہی رہ گئی پھر ملتے ہیں انشاء اللہ ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

[ یہ خدا ہے ـ 80 ]

1
Oct

ویران بالکونی

   Posted by: admin    in خیال اپنا

روز کی طرح آج بھی صبح بالکونی پر کھڑے انگڑائی لینے ہی والے تھے کہ یاد آیا سامنے خوبصورت پڑوسن کل ہی کسی اور جگہ نیا فلیٹ خرید کر منتقل ہوچکے ـ ویسے پچھلے دیڑھ سال سے باقاعدہ صبح  وقتِ مقرر انگڑائی لینے ہم اپنی بالکونی پر تیار رہتے کہ آج سے اپنے بستر پر ہی انگڑائی کھینچنی پڑے گی ـ جب اُنہوں نے پہلی بار اپنی مقابل بالکونی پہ آکر صبح انگڑائی کھینچنے کیلئے ہاتھ اُوپر اُٹھائے ہی تھے کہ ہم دونوں کی نظریں مل گئیں تو وہ شرماکے ہاتھ نیچے چھوڑ لئے ـ اُس کے بعد سے روزانہ صبح ہم خوامخواہ انگڑائیاں چھوڑنے ٹھیک وقت پر بالکونی چلے آتے تو وہ ہم کو چھُپ کے دیکھتے تھے ـ اب دوبارہ ہم اپنی بالکونی پر تبھی انگڑائی کھینچیں گے جب کوئی اور نیا خوبصورت پڑوس ہمارے سامنے والے فلیٹ میں شفٹ ہوں ـ