بس میں ٹرین میں پلین میں یا جہاں کہیں بھی کوئی نیا ملجائے، علیک سلیک کے بعد بات چیت شروع ہوتی ہے پھر نام پوچھتے ہیں تو جواب میں بولتا ہوں کہ میرا نام شعیب ہے تو واپس کہتے ہیں اوہ آپ مسلمان ہو؟

میرے دل میں ایک ہی جواب غصّے میں نکلتا ہے “تیری ماں کی ……… تیری بہن کی ………

میرے پیٹ پر گھونسا مارو، پیٹھ پر لات مارو لیکن اُس سے بھی زیادہ غصّہ مجھے تب آتا ہے جب کوئی مجھ سے میرا مذہب پوچھتا ہے ـ لگتا ہے جیسے میری ماں بہن کو گالی دے رہا ہے ـ میں انسان ہوں اور ہندوستانی بھی ـ

آپ سے گذارش ہے کہ سفر میں یا کہیں بھی اجنبیوں سے اُن کا مذہب نہ پوچھیں اور اپنا مذہب نہ بتائیں ورنہ بات چیت کا خوشگوار موڈ کہاں سے کہیں اور نکل جاتا ہے ـ یہ نیا زمانہ ہے، ہم سبھی کو ساتھ ملکر رہنا ہے ـ

This entry was posted on Saturday, October 17th, 2009 at 10:08 am and is filed under خیال اپنا, مذہب اور میں. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. You can leave a response, or trackback from your own site.

4 comments so far

 1 

واہ بھائی ائی، اردو اور ہندی دونوں میں ایک ساتھ پوسٹ کرتے ہو آپ! آپکی محنت اور شدّت کو سلام.

October 17th, 2009 at 1:39 pm
 2 

mazhab ka kyun na poochein????

November 2nd, 2009 at 10:55 am
 3 

BILLU بھیا ، شائد پاکستان میں نہ پوچھا جاتا ہو
لیکن آج کل ہندوستان میں کچھ زیادہ ہی پوچھا جانے لگا ہے وجہ چاہے کچھ بھی رہی ہو۔ حالانکہ آج سے بیس پچیس سال پہلے ایسا ماحول نہیں تھا

November 9th, 2009 at 4:57 pm
پردیسی
 4 

شعیب اگر بکری سے یہ توقع رکھو کے وہ میمنانہ بند کر دے گی تو اس کا بکری کا کوئی قصور نہیں ۔ یہ انسان بھی بھی بظاہر انسان ہیں مگر ان میں سے 90 فیصد کا وہ حصہ ذہنی طور پر مفلوج ہے جو انسان اور مذہب کےدرمیانی رشتہ کو اجاگر کرتا ہے ۔ یہ لوگ مذہب کو انسانی تہذیب کی ترقی کا ذریعہ بنانے کی بجائے بخشوانے کا تعویز سمجھتے ہیں ۔ مذہبی تعصب کیا ہے ان کے سمجھ سے باہر ہے۔ آپ اچھا لکھتے ہیں ۔ یوں ہی لکھتے رہیں

March 1st, 2010 at 5:56 pm

Leave a reply

Name (*)
Mail (will not be published) (*)
URI
Comment