بس میں ٹرین میں پلین میں یا جہاں کہیں بھی کوئی نیا ملجائے، علیک سلیک کے بعد بات چیت شروع ہوتی ہے پھر نام پوچھتے ہیں تو جواب میں بولتا ہوں کہ میرا نام شعیب ہے تو واپس کہتے ہیں اوہ آپ مسلمان ہو؟
میرے دل میں ایک ہی جواب غصّے میں نکلتا ہے “تیری ماں کی ……… تیری بہن کی ………
میرے پیٹ پر گھونسا مارو، پیٹھ پر لات مارو لیکن اُس سے بھی زیادہ غصّہ مجھے تب آتا ہے جب کوئی مجھ سے میرا مذہب پوچھتا ہے ـ لگتا ہے جیسے میری ماں بہن کو گالی دے رہا ہے ـ میں انسان ہوں اور ہندوستانی بھی ـ
آپ سے گذارش ہے کہ سفر میں یا کہیں بھی اجنبیوں سے اُن کا مذہب نہ پوچھیں اور اپنا مذہب نہ بتائیں ورنہ بات چیت کا خوشگوار موڈ کہاں سے کہیں اور نکل جاتا ہے ـ یہ نیا زمانہ ہے، ہم سبھی کو ساتھ ملکر رہنا ہے ـ
This entry was posted
on Saturday, October 17th, 2009 at 10:08 am and is filed under خیال اپنا, مذہب اور میں.
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
You can leave a response, or trackback from your own site.
6 comments so far
Leave a reply