قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان کے چیئرمین اور فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر ارجن سنگھ نے قومی اردو کونسل کی تین اہم مطبوعات ’’اے کورس ان اردو پروننسیئشن‘‘، اردو اچّارن (مرتب: ڈاکٹر روپ کرشن بھٹ، سابق پرنسپل پبلیکیشن آفیسر، قومی اردو کونسل)، ’’کلیات سعادت حسن منٹو‘‘ جلد اول (مرتب: پروفیسر شمس الحق عثمانی اور ’’کلیات سردار علی جعفری، جلد اول و دوم (مرتب: پروفیسر علی احمد فاطمی) کا اجرا کونسل کی 23 ویں ایگزیکیٹو بورڈ کی میٹنگ کے موقع پر شاستری بھون میں کیا ـ ان کتابوں کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے قومی اردو کونسل کے وائس چیرمین شمس الرحمن فاروقی نے کہا کہ اردو پروننسیئشن ورکشاپ موڈ میں کونسل کے ذریعے انگریزی اور ہندی میں مع CD اِن لوگوں کیلئے تیار کرائی گئی ہے جو اردو سے تو واقف ہیں لیکن الفاظ کے تلفظ کی صحیح ادائیگی پر قادر نہیں ـ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو سے شوق رکھنے والے ان کتابوں اور CD’s کے توسط سے اردو الفاظ کی صحیح ادائیگی پر بھی دسترس حاصل کریں گے ـ سعادت حسن منٹو کی پچاسویں برسی پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ان کے تمام تحریروں کو شائع کرنے کا کونسل نے منصوبہ بنایا ہے اور یہ اس کی پہلی کڑی ہے ـ علی سردار جعفری ترقی پسند تحریک کے صف اول کے شاعر ہیں، ان کی تمام نثری اور شعری تحریروں کو جمع کرنے نیز کلیات کی شکل میں شائع کرنے کا منصوبہ بھی کونسل نے بنایا ہے جس کے تحت اب تک دو جلدیں شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں ـ اس کے بعد کونسل کے ایجنڈے پر بھرپور گفتگو ہوئی اور اردو کی ترقی اور بقاء کے لئے قومی اردو کونسل نے جو مختلف تجاویز بورڈ کے سامنے غور و خوض کیلئے رکھی تھیں، ان کو منظور کیا گیا ـ ان میں ملک کے طول و عرض میں اردو مراکز کا قیام، کتابوں کی نمائش و فروغ کیلئے بیرون ملک میں اردو کے ثقافتی مرکزوں میں کونسل کی شمولیت نیز اردو ثقافتی سنٹر قائم کرنے کی تجویزوں پر بھی غور کیا گیا ـ آخر میں فروغِ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر ارجن سنگھ نے اُردو کی ترقی کیلئے ہر ممکن مدد کا تیقن دیا ـ
شکریہ: روز نامہ اعتماد حیدرآباد
(نیوز: یو این آئی)
اُردو شاعری نے اب پولینڈ تک رسائی حاصل کرلی ہے جہاں بیسویں صدی کے شعراء فیض احمد فیض اور جانثار اختر کی غزلیات کا پولِش زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے ـ جانوس کرزوسکی اور سریندر زاہد نے جو ہندوستانی شاعر ہیں، اُردو شعراء کی شخصیات پر کتاب شائع کی ہے جس میں فراق گورکھپوری، قتیل شفائی، ابن انشاء، پروین شاکر، بشیر بدر اور ندا فاضلی کی غزلیات بھی شامل ہیں ـ کرزی زوسکی اور سریندر زاہد نے قبل ازیں میر تقی میر اور مرزا غالب کے کلام کا بھی ترجمہ کیا ہے ـ پولینڈ میں ہندوستانی سفیر انیل ودودا نے اس ہفتہ اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ تقریب میں کتاب کا رسم اجراء انجام دیا ـ اِس تقریب میں 100 سے زائد پولِش شعراء، ادباء، نقاد، صحافی اور دانشوروں کے علاوہ سفارتکار بھی موجود تھے ، مسٹر ودودا نے بتایا کہ دو سال سے کم عرصہ میں ان دو مترجمین نے اُردو شاعری کی 4 کتابیں پیش کی ہیں ـ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اِس شیریں زباں کی نغمہ ریزی کو فروع دیتے ہوئے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے ـ
بشکریہ روز نامہ اعتماد حیدرآباد
ہر کسی کو اپنی زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ہوتی ہے ـ ہمارے راشٹرپتی عالیجناب عبدالکلام صاحب، جنہیں بچپن سے اپنے وطن کی خدمت کرنے کی خواہش تھی اور وہ اپنے نیک مقصد میں کامیاب رہے ـ اور مجھے بچپن سے گرافک کا شوق تھا، اِس میں ڈپلومہ کے بعد آج صبح و شام صرف گرافک پر کام کرتا ہوں ـ اسکے علاوہ ایک اور خواہش بھی ہے کہ اگر دولت ملے تو مابدولت اپنے ٹیلیویژن چینلس بھی براڈکاسٹ کریں گے اور ایک اُردو ٹی وی چینل بھی ہوگا ـ پتہ نہیں مابدولت کا یہ خواب کب پورا ہوگا ـ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ آج آخرکار بھارت سرکار نے اُردو ٹیلیویژن چینل DD URDU شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ـ جب بنگلور میں نوکری کر رہا تھا، تو ہمارے باس نے بھی اُردو ٹی وی چینل شروع کرنے کی سوچی اور تبھی ہم نے خوشی اور جوش میں آکر ملٹی میڈیا میں ڈپلومہ کیلئے جوائن کرلیا ـ مگر اسپانسرس میں اختلاف ہوگیا کہ اِس ٹی وی چینل کو خالص اسلامی بنائیں گے کیونکہ بھارت میں ایک بھی اسلامی ٹی وی چینل نہیں ہے، اور کچھ دوسرے اسپانسرس بھی اڑ گئے چونکہ اُردو چینل کا بیڑا اُٹھایا ہے تو یہ خالص اُردو انٹرٹینمنٹ چینل ہی بنے گا کیونکہ اسلامی چینل میں کوئی اشتہار نہیں دیتا اور یہ چینل اشتہار کے بغیر نہیں چلتا ـ اور پھر وہ ٹیلیویژن چینل شروع تو نہیں ہوا مگر ہمارا ملٹی میڈیا ڈپلومہ کمپلیٹ ہوگیا اور دل میں ٹھان لی کہ مابدولت کے پاس کچھ دولت آجائے تو پھر اُردو تو کیا، بھارت کے سبھی زبانوں میں اپنا ٹیلیویژن چینل ہوگا ـ اِس سے پہلے کہ ہم اپنا اُردو ٹی وی چینل شروع کرتے بھارت سرکار ہم سے آگے نکل گئی اور 15 اگست 2006 سے ’’دُوردرشن اُردو‘‘ براڈکاسٹ ہونے کی خوشخبری سنائی ـ اب تو ہم اِس سرکاری چینل کو اپنا ہی سجھیں گے ـ