اخبار کا نام: روز نامہ انقلاب
مقام: ممبئی
زبان: اُردو
کل کے اخبار میں شہہ سُرخی: ’’حزب اللہ کا اسرائیل پر کامیاب ترین حملہ‘‘
(چونکہ یہ اخبار گِف فارمیٹ میں خبریں شائع کرتا ہے، سُرخی کا لِنک نہیں ملا)
تبصرہ:
بہت پہلے اسی اخبار میں ایک سرخی پڑھی ’’اسرائیل کے حملے میں پانچ معصوم فلسطینی شہید‘‘ ـ یہاں رہتے ہوئے عرصہ ہوگیا ابھی تک کسی بھی فلسطینی کو معصوم نہیں پایا، اگر فلسطینیوں کو معصوم لکھا جائے تو ضروری ہے کہ سبھی انسانوں کو معصوم لکھا جائے ـ یہی فلسطینی اگر اسرائیلیوں کو مارے تو وہ مرے اور اسرائیلی انہیں ماریں تو یہ شہید کہلائے کیونکہ فلسطینی چند لوگوں کی نظر میں آج بھی معصوم ہیں ـ ویسے ہی حزب اللہ نام کا گروہ ساری دنیا کیلئے دہشت گرد گروپ ہے اور چند لوگ تو انہیں مجاہدین تصور کرتے ہیں بھلے اُنکا مقصد کچھ بھی ہو، یہ اپنے فائدے کیلئے لڑیں اور دوسروں کو ماریں دنیا بھر میں بدامنی پھیلائیں پھر بھی ایک خاص طبقے کیلئے مجاہد ہی کہلائیں گے حالانکہ اِن سے رتّی بھر فائدے کی امید نہیں ـ اِنکے گروہ کا نام حزب ’’اللہ‘‘ معنی کچھ بھی ہوں مگر مقصد کچھ اور، تبھی تو عرب ممالک کا بھی اِس گروہ سے اختلاف ہے ـ القاعدہ والوں نے جو وعدے اور دعوؤں کے ساتھ بلند بانگ نعرے لگائے تھے، دنیا دیکھ چکی ہے کہ اُنہیں کس طرح منہ کی کھانی پڑی ـ اگر القاعدہ گروہ حق پر ہوتا تو آج امریکہ القاعدہ والوں کے تلوے چاٹتے نظر آتا ـ
پوری عرب دنیا خاموش ہے، اور اِس اخبار کی سُرخی شاید ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کیلئے چھاپی تھی ـ آج تک ’’حزب اللہ‘‘ کا تعارف نہ تو کہیں پڑھنے کو ملا اور نہ سُنا، اِس گروہ کی تعریف میں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ اسرائیل کا کٹّر دشمن ہے، اسرائیل کے آرام میں خلل ڈالتا ہے ـ انکے گروہ کا عربی نام اتنا پیارا کہ اسرائیل کے ساتھ اٹکھیلیاں کھیلنے والے کو بھی مجاہد کے القاب سے نواز دیا ـ لبنان کے تازہ بُرے حالات کا ذمہ دار اسرائیل سے زیادہ حزب اللہ گروہ صاف دکھائی دیتا ہے ـ اگر حزب اللہ گروپ حق پر ہوتا تو آج صرف عرب ممالک ہی نہیں بلکہ ساری دنیا حزب اللہ کی حامی ہوتی ـ اپنے مفاد کیلئے عوام کا لہو بہانے والے مجاہد نہیں کہلاتے ـ اخبار کی سُرخی’’حزب اللہ کا اسرائیل پر کامیاب ترین حملہ‘‘ یہ کوئی خوش آئند بات نہیں، کیونکہ دوسرے ہی دن اِس اخبار کی سُرخی کچھ یوں بھی ہوسکتی ہے: ’’حزب اللہ کے جواب میں اسرائیل کا لبنان پر سب سے بدترین حملہ‘‘ وغیرہ ـ اخبار کا کام ہے بغیر کسی طرفداری کے خبریں چھاپے، اخبار کسی ایک خاص طبقے کو خوش نہیں کرسکتا، اگر اخبار کی خبریں بھی جانبدار رہیں تو وہ اخبار ہر کسی کیلئے خاص نہیں ـ
بلاگنگ کا شوق ایسا کہ فضول کاموں سے فرصت ملجاتی ہے، کوئی بلاگر دن میں چار پوسٹ لکھ دے اور کوئی ہفتے میں ایک بار ـ کئی بلاگرز ایسے بھی ہیں جو روزانہ لکھنے کے باوجود کسی وجہ سے بلاگنگ کو ہی خیرباد کہہ کر ہمیشہ کیلئے لکھنا چھوڑ دیا ـ آج انٹرنیٹ پر دیکھا جائے تو ہندی بلاگز کی تعداد 600 سے تجاوز ہے مگر افسوس کہ روزانہ لکھنے والوں کی تعداد 200 بھی نہیں ـ ہندی بلاگ کمیونٹی کیلئے یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ پچھلے دنوں مائکروسافٹ انڈیا نے دو بلاگرز کو بہترین ہندی بلاگرز کا پُرسکار دیا اور اسی کے ساتھ بھارتی اخباروں نے ہندی بلاگ کمیونٹی پر مختلف مضامین لکھے اور کمیونٹی کے کارناموں کو خوب سراہا ـ دوسری طرف CNBC انڈیا ٹیلیویژن نے اپنے لائیو نشریات میں ہندی بلاگنگ پر پروگرام بھی نشر کئے جس میں بہت سارے ہندی بلاگرز بھی مدعو تھے ـ
ہندی بلاگرز میٹ
ہندی بلاگ کمیونٹی کے روشن ستارے جناب جتیندر چودھری (کمیوٹر پروگرامر، کویت) کی کاوشوں سے گذشتہ ہفتہ پہلی بار ’’ہندی بلاگر میٹ‘‘ کا اہتمام جئے پور میں کیا، جس میں بھارت کے علاوہ مختلف ممالک سے ہندی بلاگرز نے شرکت کی اور خوب سیر سپاٹہ بھی کیا یعنی اس جوڑ کو ’’ہندی بلاگرز موج مستی میٹ‘‘ کا نام دیا ہے ـ جناب امیت گُپتا (ہندی کمپیوٹنگ ماسٹر) نے اِس میٹ کی صدارت کی ـ سبھی بلاگرز نے پہلی بار ایکدوسرے ساتھی بلاگرز کو دیکھ کر بیحد خوشی کا اظہار کیا اور دہلی سے موج مستی کرتے ہوئے تاریخی شہر جئے پور پہنچے جہاں ہندی بلاگنگ، ہندی کمپیوٹنگ، ہندی کے نئے یونیکوڈ فونٹس، ہندی ادب و شاعری اور ہر سال ہندی بلاگرز کا باقاعدہ جوڑ وغیرہ پر بحث چلی ساتھ ہی عملی کام کیلئے ایک باقاعدہ ٹیم کو بھی تشکیل دیا جسکی تفصیل جتیندر چودھری صاحب کے بلاگ پر خود اپنے مزاحیہ انداز میں لکھا ہے اور بھی تفصیل یہاں اور یہاں تصویروں اور ویڈیو کے ساتھ موجود ہے ـ
ہندی کمیونٹی
ہندی پلانٹ
ہندی فورم
ہندی بلاگرز
چند ہندی چِٹّھے (بلاگز)
Mera Panna , Edher Udher ki , Duniya meri Nazar se
HindiBlog , Hindini , Jugadi Links , Phursatia , Mirchi Saith
Mumbai Blog , Udan Teshtri , Shuaib-hindi
Kalpana , Aina , Shunya , Kahi Unkahi
پچھلے تین سالوں سے ہماری رہائش گاہ شارجہ کے اُس علاقے میں ہے جو پورے امارات کا سب سے خوبصورت اور شفاف مانا جاتا ہے ـ مگر اب بلدیہ شارجہ بھی حکومت دبئی کی طرح ہم بیچلرس کو یہ جگہ چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے، اب یہاں صرف فیملیز والے ہی رہیں گے ـ درمیان میں کورنیش، اطراف قطاروں میں بلند و بالا عمارتیں جیسے جنگل میں گھنے درخت، چوڑی سڑکیں، دنیا بھر کی عالیشان ریسٹورنٹس ـ ہماری قیامگاہ جو اٹھارہ منزلے والی بلڈنگ میں آٹھویں فلور پر ہے، میرے بیڈ روم کی کھڑکی سے ایسا خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے شاید ہی میں نے کبھی دیکھا ہو ـ سامنے کورنیش اُسکے اطراف خوبصورت پارک جس پر کھجور کے درخت پھر سڑک کے کنارے بلڈنگ میں ہماری رہائشگاہ ـ اور دوسرے کمرے کی کھڑکی سے کھلا سمندر صاف دکھائی دیتا ہے اور اُسکے کنارے دبئی جانے والی شاہراہ پر قطاروں میں رینگتی ہوئی گاڑیاں، روڈ کے داہنے جانب چھوٹا ریگستان آگے فلائی اوور پھر یہاں سے دبئی کی شروعات ـ شارجہ اور دبئی کے انسڈسٹریل ایئریا میں کنسٹریکشن کا کام زوروں پر، پتہ چلا یہی ہم بیچلرس کی رہائشگاہ ہوگی جہاں دور دور تک صرف اور صرف انڈسٹریاں ہی انڈسٹریاں ہیں اور باقی کچھ نہیں ـ ہماری کمپنی نے اپنا ہیڈکوارٹر جو اب تک شارجہ میں ہے، دبئی کے فری زون میں شفٹ کرنے کا پلان بنالیا ہے یعنی کہ وہاں بھی سوکھا، دور دور تک دنیا بھر کی کمپنیاں، کارخانے اور چاروں طرف مٹی کا ریگستان جیسے جنگل میں منگل ـ کل ہی اخباروں میں خبر دی ہے کہ دنیا بھر کے پچیس فیصد کرین صرف دبئی میں ہیں یعنی کہ ہانگ کانگ، بنکاک، سنگا پور کے بعد اب سب سے زیادہ کنسٹریکشن کا کام دبئی اور شارجہ میں ہو رہا ہے ـ دھیرے دھیرے یہاں کے ریگستان بھی چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں یہاں تک کہ سمندر پر بھی مصنوعی جزیرے بچھا کر عالیشان عمارتیں، پتہ نہیں اِس چھوٹے سے ملک کو کیا بنانے جا رہے ہیں؟؟

