Archive for the ‘خیالی خیالی’ Category

6
Jun

برکت والے ـ لنک

   Posted by: admin

آنے والے خدا ـ لنک

ابھرتے خدا ـ لنک

نئی نسل کے خدا ـ لنک

چاپلوس خدا ـ لنک

الگ الگ خدا ـ لنک

ایشوریہ کا خدا ـ لنک

اپنا ذاتی خدا ـ لنک

چار ہاتھ والے خدا ـ لنک

جذباتی خدا ـ لنک

یہودی خدا ـ لنک

ضرورت سے زیادہ خدا ـ لنک

عالمی خدا ـ لنک

ہمالیہ کے خدا ـ لنک

حیدرآباد کے خدا ـ لنک

انگریز خدا ـ لنک

ظالم خدا ـ لنک

بیکار خدا ـ لنک

سیکسی خدا ـ لنک

انٹرنیشنل خدا ـ لنک

چور خدا ـ لنک

یاھو خدا ـ لنک

جلد باز خدا

تیس ہزار خدا ـ لنک

نیک خدا ـ لنک

اکیلا خدا ـ لنک

عینک والے خدا ـ لنک

حیثیت والے خدا ـ لنک

کمپیوٹر میں خدا ـ لنک

زندگی سے مایوس خدا ـ لنک

لڑکپن والے خدا ـ لنک

آئس بیچنے والے خدا ـ لنک

ڈنمارک میں خدا ـ لنک

اسامہ بن لادن کے خدا ـ لنک

جمہوریت کے خدا ـ لنک

جاوا خدا ـ لنک

لڑکیوں کے خدا ـ لنک

ضروری خدا ـ لنک

بڑے خدا ـ لنک

کرکٹ کھیلنے والے خدا ـ لنک

معصوم خدا ـ لنک

جنگ باز خدا ـ لنک

اخبار میں خدا ـ لنک

اردو بولنے والے خدا ـ لنک

لنگڑے خدا ـ لنک

اسلامی خدا ـ لنک

مائیکروسافٹ کے خدا ـ لنک

انجیل میں خدا ـ لنک

یونیکوڈ میں خدا ـ لنک

اہل وطن خدا ـ لنک

ایک خدا ـ لنک

ننگا خدا ـ لنک

نیا خدا ـ لنک

ہندی والا خدا ـ لنک

لطیف خدا ـ لنک

پروگرام میں خدا ـ لنک

مایوس خدا ـ لنک

سست رفتار خدا ـ لنک

کیلنڈر میں خدا ـ لنک

یہی خدا ـ لنک

امت کا خدا ـ لنک

لاہور کا خدا ـ لنک

سیکس کرنے والا خدا ـ لنک

کمپیوٹر کا خدا ـ لنک

گیم کھیلنے والا خدا ـ لنک

بہت زیادہ خدا ـ لنک

سب سے چھوٹا خدا ـ لنک

کورل ڈرا کو ناپنے والا خدا ـ لنک

منسٹر خدا ـ لنک

اردو خبر میں خدا ـ لنک

کلنٹن خدا ـ لنک

جاپان میں خدا ـ لنک

ہندی اور اردو میں خدا ـ لنک

رنگ برنگا خدا ـ لنک

انگریزی فلم میں خدا ـ لنک

اردو نیوز میں خدا ـ لنک

خدا حافظ ـ لنک

خدا کی مسجد ـ لنک

خدا کے لئے ـ لنک

خدا کا نام ـ لنک

خدا سے ملو ـ لنک

خدا کا شہر ـ لنک

خدا کی ننگی تصویر ـ لنک

خدا نے کہا ـ لنک

خدا کون ہے؟ ـ لنک

خدا کی عینک ـ لنک

خدا کے واسطے ـ لنک

خدا کے خدا ـ لنک

خدا خدا کرکے ـ لنک

خدا نے کہا ـ لنک

خدا کی بیماری ـ لنک

خدا کا واسطہ ـ لنک

خدا کی بہن ـ لنک

خدا ہی خدا ـ لنک

خدا مل گیا ـ لنک

خدا نے فرمایا ـ لنک

خدا کی حیثیت ـ لنک

خدا کی نیت ـ لنک

خدا حیران ـ لنک

خدا کی فلمیں ـ لنک

خدا کا گریبان ـ لنک

خدا کی وحدانیت ـ لنک

خدا کی پتلون ـ لنک

خدا کا جگر ـ لنک

خدا کا کلام ـ لنک

خدا کی قسم ـ لنک

خدا سے دور ـ لنک

26
Jan

خدا کی آخری قسط

   Posted by: admin

اب تک اِس سیریز کی 49 قسطیں پوسٹ ہوچکی ہیں اور پچاسویں قسط تیار ہو رہی ہے شاید یہ آخری قسط ثابت ہو مگر میں نہیں چاہتا کہ اِن قسطوں کا اختتام ہوجائے ـ پچھلے چند مہینوں سے ملک در ملک ٹراولنگ، وقت، کاہلیت اور تھکاوٹ یہ سب اِن قسطوں کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں ـ دفتری کام اِتنا بڑھ گیا کہ چاہے ترکی میں رہوں یا فرانس میں مگر لگتا یہی ہیکہ اپنے دفتر میں ہوں گھومنے پھرنے کیلئے بھی وقت نہیں ـ فی الحال اپنے باس کے ساتھ ملک در ملک سفر میں ہوں مگر سیر سپاٹے کیلئے نہیں کمپنی کے کام سے ـ اب پچاسویں قسط لکھتے اتنی لمبی ہوگئی کہ سمجھ میں نہیں آ رہا کس بات پر اختتام کروں ـ

خدا کی اِن سیریز کو پڑھنے والوں میں اکثریت نے اسے صرف بکواس قرار دیدیا اسکے باوجود پھر بھی بلاگ کے اسٹیٹس کا کہنا ہے کہ اِن قسطوں کو آج بھی پابندی سے پڑھنے لوگ آ رہے ہیں اُن میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اِن قسطوں کی شدید مخالفت کی تھی ـ اسکے علاوہ کئی احباب نے اِن قسطوں کو سراہا بھی اور باقاعدہ ای میل سے گذارش بھی ہوتی ہے کہ اِس بار کیا لکھا جائے ـ قسط نمبر 22 سے 49 تک یہ قسطیں ہندی میں بھی ایکساتھ پوسٹ ہوتی رہیں جہاں سبھی ہندی بلاگران نے اسے سب سے زیادہ سراہا ـ یہ کوشش بھی جاری تھی کہ اِن قسطوں کا انگریزی ترجمہ بھی ہو مگر وہ کام بھی اب ٹھپ ہوتا نظر آ رہا ہے ـ کوشش رہے گی کہ اِن قسطوں کو جاری رکھا جائے شاید کہ درمیان میں لمبا وقفہ ہو ـ پچاسویں قسط ضرورت سے زیادہ لمبی ہوچکی اب اِس کو دوبارہ پڑھ کر پوسٹ کرنے کے قابل بنانا ہے اگر وقت ملے تو ـ
خدا کی پچاسویں قسط کا انتظار ہے!

2
Nov

بنگلور ـ اب ـ بنگلورو

   Posted by: admin

BANGALORE - NOW - BANGALOORU

بھارت میں بمبئی، کلکتہ، مدراس جیسے بڑے شہروں کے نام بدلکر ممبئی، کولکتہ، چنئی بنانے کے بعد اب یکم نومبر 2006 سے ہمارا شہر بنگلور کی بجائے بنگلورو کہلانے لگا ـ

چونکہ “ممبئی، کولکتہ، چنئی اور بنگلورو” یہ سارے شہر انگریزوں کی آمد سے قبل اِنہی ناموں سے جانے جاتے تھے، اور پھر انگریز آئے تو اپنی موٹی زبان سے ممبئی کو بمبئی، کولکتہ کو کلکتہ، چنئی کو مدراس اور بنگلورو کو بنگلور مشہور کر چلے گئے ـ پچاس سالوں بعد بھارت میں جو بھی سرکار بنی، اگر کسی دن کرنے کو کچھ کام نہ رہا تو شہروں کو اُنکے پرانے نام دلواکر ایک کارنامہ سمجھ رہے ہیں ـ

ویسے تو انگریزوں کے دیئے گئے ناموں کو فیشن سمجھا جاتا ہے، سرکار کا کہنا ہے جب بھارت سے انگریزوں کا دور چلا گیا تو اب اُنکے دیئے ہوئے ناموں کو بھی مٹانا ضروری ہے اور وہ بھی پچاس سالوں بعد؟

بنگلور شہر کا نام بدلنے سے صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی مختلف انڈسٹریوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے ـ آج بنگلورو ایک بہت بڑی کمپیوٹر انڈسٹری ہے، دنیا بھر کی مشہور کمپنیاں اِس شہر کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا گڑھ سمجھتی ہیں ـ فیشن ٹیکنالوجی سے لیکر کمپیوٹرس اور سافٹویئرس کی ہزاروں کمپنیاں اِس نقصان میں شامل ہیں ـ سبھی کمپنیوں کو اپنا برانڈ امیج بدلنا ہے، وزیٹنگ کارڈس اور سائن بورڈس وغیرہ سے بنگلور ہٹاکر بنگلورو لکھنا ہے ـ کسی بھی عالمی شہرت یافتہ شہر کا نام بدلنا آسان کام نہیں جس پر خود سرکار کو بھی کروڑوں کا نقصان ہے جو کہ عوام کا پیسہ ہے! کریں تو کیا کریں اِس نام بدلنے پر احتجاج بھی نہیں کرسکتے کیونکہ سرکار نے تو انگریزوں کے دیئے گئے نام بدلیں ہیں ـ اِس خواہمخواہ کی نام بدلی پر جو نقصان ہوتا ہے، اُس پر کیوں نہیں سوچتے؟ اب صرف یہی ماننا پڑے گا کہ جب ہماری سرکار کولکتہ، چنئی اور ممبئی کا نقصان برداشت کرسکتی ہے تو اب بنگلورو بھی، آخر عوام کا پیسہ ہے!!