اپنے جان پہچان والے یہی رائے دیں گے کہ پہلی فرصت میں شادی کرلو ـ حالات بھی کچھ ایسے ہیں کہ میری حالت کو دیکھ شادی شدہ بزرگان یہی رائے دیں ـ صبح گھر سے آفس کے لئے نکلا تھا جو کہ 25 کلو میٹر کا فاصلہ ہے، آفس کے قریب ہی پہنچا تھا کہ سامنے ایک بلڈزر کھڈا کھودتے جا رہا ہے جس کو روکنے والا کوئی نہیں اور ٹرافک کانسٹبلس گاڑیوں کو اپنے ہاتھ کے اشاروں سے دوسری طرف موڑ رہے تھے ـ جبکہ اب اپنا آفس صرف ایک منٹ دوری پر تھا، سامنے کھدائی کی وجہ سے (ویسے بنگلور شہر کھدائی کیلئے کافی مشہور ہے، پہلے ایئرٹیل، پھر بی ایس این ایل اور اُسکے بعد قطار میں ریلائنس، وُڈا فون، ایئرسل، آئیڈیا اور ٹاٹا وغیرہ) یہ سبھی کمپنیاں یہاں بنگلور شہر میں کھدائی کیلئے کافی مشہور ہیں ـ ایسا ہوا کہ ایک منٹ کا فاصلہ جو تھا، کافی دور تک سگنل سے دائیں پھر دائیں (کہیں سے بھی شاٹ کٹ نہیں) اپنی بائک کو موڑتے ہوئے اپنے ہی خیالوں میں ـ
کیا میری طرح دوسرے بھی خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں؟ سامنے منتری جی کی کاروں کا قافلہ تھا ـ ٹرافک انسپکٹر نے سبھی گاڑیوں کو روک کر منتری جی کے قافلے کو ہری جھنڈی کیا دکھائی کہ میں اپنے خیالوں میں کھو گیا جیسا کہ اکثر کھو جاتا ہوں ـ میں خود منتری، میرے لئے ٹرافک روک دی ہے، سبھی لوگ مجھے حیرت سے دیکھ رہے یا پھر دیکھنے کی تمنّا رکھتے ہیں ـ منتری جی کا قافلہ گذر گیا سگنل بھی کھل گیا، ہوش تب آیا جب پیچھے سے ہارن کی آوازیں آئیں اور ایک نے میرے منہ پر ہی بول دیا “اوئے، اپنی بائک آگے نکال، پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ ہیں کہ سگنل پر سو جاتے ہیں!!”
اپنی بائک تو آگے نکال دی، پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑی سی اور قیمتی کار میں جوان لڑکا اور خوبصورت لڑکی دنیا سے بے نیاز دندناتے ہوئے گذر رہے ہیں ـ پھر کیا تھا کہ پھر وہی اپنے خیالوں میں گُم ہوگیا ـ اُس جوان لڑکے کی جگہ میں آگیا اور یہ قیمتی گاڑی اور خوبصورت لڑکی دونوں میرے اپنے ہوگئے ـ ـ ـ ـ کچھ دیر بعد کچھ کچھ ہوش آنے لگا ـ وہی سڑک، وہی نظارے، وہی سائن بورڈس، وہی دکانیں ـ ـ ـ ـ ـ یہ کیا چکّر ہے؟؟ جب پوری طرح ہوش میں آچکا تو جناب واپس اپنے ہی گھر کی طرف جہاں سے نکلے تھے ـ
خود کو گالیاں دینا اچھی بات نہیں، ویسے اچھی اچھی گالیاں اچھی طرح جانتا ہوں ـ کرتا کیا نہ کرتا، پھر بائک کو گھُمایا، اور پورے 35 منٹوں بعد آفس پہنچا وہیں سے جہاں پر کھُدائی چل رہی تھی ـ دفتر پہنچا تو ایک مسلم خاتون حِنا جو ہمارے ہی دفتر میں کام کرتی ہیں ـ کرسی پر اپنی تشریف رکھا ہی تھا کہ پوچھ بیٹھی، شعیب کیا تم نے آج کا اخبار پڑھا؟ میں نے جواب دیا کہ میں اخبار پڑھتا نہیں صرف دیکھتا ہوں ـ پھر بولی کہ آج کا اخبار ضرور پڑھنا، دیوبند کے مفت خوروں (مفتی صاحبان) نے فتوی جاری کیا ہے کہ مسلم خواتین نوکری نہیں کرسکتیں اور تو اور عورت کی کمائی کو حرام قرار دیا ہے!!! میں نے حِنا سے کہا جب تم نے اخبار میں فتوی پڑھ لیا تو پھر کام پہ کیوں آئی؟ بس اتنی سی بات پہ وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھی جیسا کہ فتوی میں نے جاری کیا ہے ـ اور پھر ہم دونوں اپنے اپنے کام پہ لگ گئے ـ یہ رہی آج کی کہانی ـ
ہوسکتا ہے ٹھاکرے صاحب نے خود انتقال فرمالیا، ورنہ اب تک آمنا، سامنا کے علاوہ دوسرے روز ناموں کا صفحہ اوّل اپنے بیانوں سے کالا کر ڈالتے کہ ثانیہ اور شعیب کی شادی میں باقاعدہ القاعدہ اور طالبان کا ہاتھ ہے ـ اِس ہونے والی شادی کو لیکر میڈیا والوں نے ایسا بھانگڑا ڈالا کہ اب اُباما کا بھی اِس پر تبصرہ کرنا لازم ہوجائے ـ ویسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اِن کی شادی میں بھانگڑا ڈالنے عرضی داخل کرچکی ہے ـ
باتوں باتوں میں رات گہری ہوتی جا رہی ہے اور میں نیٹ گردی کرتے اخبارات چھان رہا ہوں، علاوہ سامنے ٹی وی میں اکثر نیوز چینل پر اینکرز ثانیہ اور شعیب کے قصیدے پڑھ اپنا حلق سُکھا رہے ہیں ـ بولتے ہیں کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو ریجکٹ کردیا تو ثانیہ نے پورے ہندوستانی جوانوں کو ریجکٹ کر دیا ـ یہ ٹی وی اینکرز ہانپتے کاپنتے ثانیہ اور شعیب کے بارے ایسا بولے جا رہے ہیں جیسے عنقریب سونامی اُبلنے والا ہو یا پھر لوک سبھا الیکشن کا ریزلٹ بتا رہے ہوں ـ
ہونے والی بہو کا سواگت بم دھماکوں سے کریں گے؟ کوئی بھی تازہ اخبار یہ خبر نہیں دیتا کہ آج پاکستان میں دھماکوں کی آواز سنائی نہیں دی!! ـ روزانہ لوڈ شیڈنگ بھگتنے کے علاوہ روٹی پکانے آٹے کیلئے لمبی لائن میں کھڑے گی ـ پڑوس کی خواتین کو بالی ووڈ کے قصے کہانیاں سناکر اُن کو خوش رکھے گی ویسے بھی پاکستانیوں کیلئے بالی ووڈ کی خبریں بریک فاسٹ، لنچ اور ڈنر تو درکنار عبادت سے بھی زیادہ افضل ہیں ـ
دیوبند کے علمائے کرام بھی خاموش ورنہ ایسے مواقع پر سب سے پہلے انہی کو کھجلی شروع ہونی تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اُنکی پیٹ مفت کھجا ڈالی ـ سچّی بات یہ کہ اُن دونوں کی شادی میں کسی کو بھی دلچسپی نہیں سوائے میڈیا والوں کے ـ کچھ تو بتانا ہے کچھ تو دکھانا ہے اور ایویں بولنا ہے خوامخواہ چوبیس گھنٹوں کا چینل جو کھول رکھا ہے ـ عوام کو خود کی پڑی ہے، یہ کونسا ثانیہ اور شعیب ملک کی جوڑی پر اپنا سر کھپائیں ـ مہینے گذرے القاعدہ اور طالبان پر کوئی پوسٹ لکھا نہیں ـ ہر کام، بات، خبر، حادثہ وغیرہ میں ان کی ٹانگ کھینچا فیشن ہے تو یہ پوسٹ بھی القاعدہ اور طالبان کے نام ہے ـ
بس میں ٹرین میں پلین میں یا جہاں کہیں بھی کوئی نیا ملجائے، علیک سلیک کے بعد بات چیت شروع ہوتی ہے پھر نام پوچھتے ہیں تو جواب میں بولتا ہوں کہ میرا نام شعیب ہے تو واپس کہتے ہیں اوہ آپ مسلمان ہو؟
میرے دل میں ایک ہی جواب غصّے میں نکلتا ہے “تیری ماں کی ……… تیری بہن کی ………
میرے پیٹ پر گھونسا مارو، پیٹھ پر لات مارو لیکن اُس سے بھی زیادہ غصّہ مجھے تب آتا ہے جب کوئی مجھ سے میرا مذہب پوچھتا ہے ـ لگتا ہے جیسے میری ماں بہن کو گالی دے رہا ہے ـ میں انسان ہوں اور ہندوستانی بھی ـ
آپ سے گذارش ہے کہ سفر میں یا کہیں بھی اجنبیوں سے اُن کا مذہب نہ پوچھیں اور اپنا مذہب نہ بتائیں ورنہ بات چیت کا خوشگوار موڈ کہاں سے کہیں اور نکل جاتا ہے ـ یہ نیا زمانہ ہے، ہم سبھی کو ساتھ ملکر رہنا ہے ـ