پرنٹ انڈسٹری میں اکثر ایپل میکنٹوش کا رواج ہے لیکن چھوٹی انڈسٹریاں Mac سسٹم خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتیں مگر کیا بات ہے ہماری ملٹی نیشنل کمپنی جس کے تقریبا ایک سو سے زیادہ شورومس پورے مڈل ایسٹ میں پھیلے ہوئے ہیں اور تقریبا پانچ لاکھ درھم روزانہ آمدنی ہوتی ہے ـ جب اپنے مالک سے ایپل میکنٹوش کی فرمائش کیا تو آئی ٹی منیجر سے کوٹیشن دریافت ہوا اور جب قیمت کا پتہ چلا تو مالک چکرا گیا ـ مجھ سے پوچھا: کیا PC میں جو کام ہوتا ہے وہ کافی نہیں ہے ـ میں نے بہتر سمجھانے کی کوشش کی کہ جسطرح دفتر میں لنگی پہن کر آنا اچھی بات نہیں حالاں کہ لنگی پہن کر کام کیا جاسکتا ہے ـ اسی طرح گرافک کے سارے کام میکنٹوش پر ہی اچھے لگتے ہیں اور یہ سسٹم گرافک کیلئے بطور خاص ہے ـ مالک عربی، سارے ڈیپارٹمنٹس کے چیف عربی یہاں تک کہ آئی ٹی منیجر بھی عربی اور عربیوں کی عقل موٹی ہوتی ہے ـ انڈیا میں گرافک کیلئے زیادہ تر ایپل میکنٹوش کا رواج ہے ـ
اردو زبان سے محبت اور اسکی ترویج کیلئے نبیل بھائی کا توجہ دلانا بہت پسند آیا ـ شروع کے تین پوسٹ انہی کی فرمائش پر ہیں ـ
ــــ اردو الفاظوں کے درمیان انگریزی الفاظ کو پڑھنے کیلئے صفحے کو بائیں سے دائیں کرلینا ٹھیک ہے ــــ
انپیج اردو سافٹویئر کے تمام نسخ بذریعہ کورل ڈرا ورژن ٩، ١٠، ١١، ١٢ کمپیوٹر کے کسی بھی سافٹویئر میں گل کھلا سکتے ہیں ـ اب تک تو شاید ہر کسی کو معلوم ہو، مگر یہ ذاتی تجربہ پانچ سال پرانا ہے ـ
انپیج اردو سافٹویئر کی فائل میں، جیسا کہ لکھنے کیلئے ٹیکسٹ باکس ضروری ہے، کسی بھی اردو نسخ میں اپنا نام لکھنے کے بعد ٹیکسٹ باکس کو کاپی ـ پیسٹ کے ذریعے کورل ڈرا کے کسی بھی نئے ورژن میں لانے کے بعد Arange کی قسم میں جاکر Brake Apart کا حکم دیں تو پیسٹ کیا ہوا اردو نسخ یعنی اپنا نام الفاظ میں تبدیل ہوجائے گا ـ اپنے نام کو کاپی ـ پیسٹ کے ذریعے کمپیوٹر کے کسی بھی سافٹویئر میں چاہے وہ ڈیٹا بیس ہو یا گرافک، لیجایا جاسکتا ہے ـ
سب سے پہلے انپیج اردو کا پروگرام کھلا ہو پھر بعد میں دوسرے پروگرامز کھولیں تو انپیج اردو سافٹویئر کے تمام اردو نسخ فونٹ ہر کسی پروگرام کے فونٹ مینو میں نظر آئیں گے ـ کورل ڈرا سے لائے گئے اردو نام کو مختلف سافٹویئرس میں پیسٹ کرنے کے بعد فونٹ مینو سے نظر آنے والے انپیج اردو کے کسی بھی نسخ فونٹ کو ایپلائی کریں تو تجربہ سامنے نظر آتا ہے ـ
اسی تجربے سے انپیج اردو کے تمام نسخ فونٹس کو ایچ ٹی ایم ایل میں بھی لکھا جاسکتا ہے، مشکل یہ ہے کہ براؤس کرنے والے کے سسٹم میں انپیج اردو کا پروگرام ہو اور جو پہلے سے کھلا رہے ـ یہ تجربہ دفتر میں ہی آزما کر دیکھ لیا، مختلف کمپیوٹروں سے براؤس کرنے کے بعد جس میں انپیج کا پروگرام انسٹال تھا مگر باہر سائبر سنٹرس سے ایسا تجربہ کبھی نہیں کیا ـسائڈ بار میں نیچے چند اردو کے گِف پکچر ہیں جو اسی تجربے سے بنایا ہے جو کہ چار سال پرانے ہیں جس میں تین نئے گِف بھی ہیں
کورل ڈرا کے ورژن ١٢ میں اردو یونیکوڈ کام کر رہا ہے اور ایم ایس آفس کی طرح اس میں بھی اردو کو ٹائپ اور ایڈٹ کرسکتے ہیں مگر دفتری کام کے دوران چند ایپلیکیشن ٹھیک سے کام نہیں کر رہے جسکی وجہ سے دوبارہ ورژن ١٠ استعمال کر رہا ہوں ـ کورل ڈرا کے ورژنوں میں ٥، ٧ ـ اور ١٠ میرے خیال سے بالکل پرفیکٹ ہیں ـ میرا کمپیوٹر ونڈوز پروفیشنل پر چل رہا ہے ـ کئی طریقوں سے چیک کرلیا مگر پتہ نہیں کام کے دوران ورژن ١٢ لنگڑاکر گر جاتا ہے اور کبھی سی ڈی آر فائلیں ناقابل بھی ہوجاتی ہیں جسکی وجہ سے دوبارہ کام کرنا پڑتا ہے ـ فی الحال ورژن ١٠ پر دفتری کام صحیح ہو رہا ہے ـ
اڈوب کا فوٹوشاپ، اپنی مرضی کیمطابق اردو یونیکوڈ دکھاتا ہے اور کبھی منہ تیڑھا کرلیتا ہے ـ ایم ایس ورڈ کی فائل میں ٹائپ کئے ہوئے اردو مواد کو فوٹوشاپ میں پیسٹ کریں تو اردو ٹیکسٹ سوالیہ نشان بن جاتے ہیں زبردستی کرو تو صحیح اردو الفاظ نظر آتے ہیں اور جب پی ایس ڈی بناکر دوبارہ فائل کھولیں تو پھر سے سوالیہ نشانات نظر آتے ہیں ـ یہی حال میکرو میڈیا کا ہے چاہے وہ ڈائرکٹر ہو یا فلاش، اسے بھی اردو یونیکوڈ کو سوالیہ نشانات دکھانا آتا ہے ـ
کورل ڈرا کا ورژن ١٢ جانچنے کیلئے مفت دستیاب ہے ـ ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے رجسٹریشن کے کئی مرحلوں سے گذرنا پڑیگا ـ